مفاہمت یا مخاصمت؟

14 مارچ 2011
2006ءمیں پےپلز پارٹی کی رہنما بے نظےر بھٹو اور مسلم لےگ(ن) کے قائد نواز شرےف نے لندن مےں مےثاق جمہورےت (Charter of Democracy) پر دستخط کئے تھے۔ مےثاق کے تحت دونوں جماعتوں نے عہد کےا تھا کہ وہ مفاہمتی پالےسی پر گامزن رہےں گے۔ 2008ءکے الےکشن کے بعد پےپلز پارٹی نے مخلوط حکومت اسی جذبہ کے تحت بنائی جس کی بنےاد مےثاق جمہورےت مےں فراہم کر دی گئی تھی۔ ےوسف رضا گےلانی کو اتفاق رائے سے ملک کا وزےراعظم منتخب کےا گےا۔ مسلم لیگ(ن)نے شروع مےں وفاق کی کولےشن گورنمنٹ مےں حصہ لےا۔ پنجاب مےں پےپلز پارٹی کو پنجاب کی حکومت مےں شامل کےا۔ دراصل شروع شروع مےں ملک کی ان دو بڑی جماعتوں نے جب باہمی مفاہمت کا عہد و پےمان کےا اور مخلوط حکومتےں بنائےں تو عوام نے خوشی اور مسرت کا اظہار کےا۔ ہر کوئی چاہتا تھا کہ ےہ مفاہمت اور ہم آہنگی برقرار رہے لےکن ہر کوئی سمجھتا تھا کہ اےسا ہونا دےر تک ممکن نہےں۔ دراصل ماضی مےں ان جماعتوں کے درمےان اختلافات کی خلےج اتنی وسےع ہو گئی تھی کہ اسے آسانی سے پاٹنا ممکن نہ تھا۔ ےہ دونوں جماعتےں فطری طور پر اےک دوسرے کی حرےف تھےں۔ پےپلز پارٹی اےک سےکولر جماعت تصور کی جاتی تھی۔ مسلم لیگ (ن)اپنی تارےخ اور سوچ کے اعتبار سے مرکز کے دائےں والی جماعت۔ دراصل مسلم لیگ (ن) آئی جے آئی کی وارث سےاسی جماعت بنی۔ آئی جے آئی کو آئی اےس آئی نے بناےا تھا۔ خود نواز شرےف بھی اےک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا فطری طور پر ان کا رجحان مرکز سے دائےں طرف تھا اور ہے۔ آئی جے آئی کی تشکےل پےپلز پارٹی کا راستہ روکنے کےلئے کی گئی تھی۔ جنرل ضےاالحق ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد پےپلز پارٹی سے بجا طور پر کسی خےر کی توقع نہ رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ کوئی سےاسی تنظےم ملک مےں اےسی قائم کی جائے جو پےپلز پارٹی کی مخالفت شد و مد سے کرے ۔ چنانچہ آئی جے آئی کے بعد ن لےگ مےں پےپلز پارٹی مخالفت کا جذبہ رکھ دےا گےا تھا جو آج تک برقرار ہے۔ انتخابات مےں ملک کی ےہ دو بڑی جماعتےں اےک دوسرے کی خلاف الےکشن لڑتی رہی ہےں اور اندازہ ہے کہ آئندہ بھی اےسا ہی ہوگا۔
شہباز شرےف کی تجوےز کہ ملک کو درپےش مسائل کا حل تلاش کرنے کےلئے تمام stake holders بشمول فوج اور عدلےہ کو اکٹھا کےا جائے اور ان کی آراءپر مبنی پالےسےاں بنائی جائےں، اےک اےسی تجوےز تھی جسے قبول عام حاصل نہ ہو سکا۔ کچھ حلقوں نے اس پر اعتراض کےا کہ پےپلز پارٹی اور ن لےگ اداروں کے استحکام پر زور دےتے رہے ہےں پارلےمان کی بالادستی پر دونوں کا اتفاق ہے۔ فوج اور عدلےہ سے سفارشات طلب کی جا سکتی ہےں لےکن ان سفارشات کو پالےسی کی شکل دےنا صرف پارلےمان کا استحقاق ہے ےہےں پالےسےوںکی منظوری دی جانی چاہئے۔ اےن اےف سی اےوارڈ، اٹھاروےں اور انےسوےں ترامےم اس بات کا بےن ثبوت ہےں کہ اگر نےت صاف ہو تو سےاست دان پےچےدہ مسائل حل کرنے کی صلاحےت رکھتے ہےں۔ پارلےمان اور اس کی کمےٹےاں آئی اےس آئی اور فوج سے اس کا عندےہ لےکر فےصلے کرنے اور پالےسی وضع کرنے مےں ان سے استفادہ کر سکتی ہےں۔ کابےنہ کی ڈےفنس کمےٹی کے سامنے بھی فوج اپنا مافی الضمےر پےش کر سکتی ہے۔ عدلےہ سے مشاورت کا بھی اےسا کوئی طرےقہ اختےار کےا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں نے ےہ بھی کہا کہ فوج اس وقت ملکی سلامتی اور سےکورٹی کے گھمبےر مسائل سے دوچار ہے ، ان اہم مسائل سے فوج کی توجہ ہٹانا درست نہ ہو گا۔ اسی طرح عدلےہ کے متعلق کہا گےا کہ عدلےہ رےاست کا اےک اہم ادارہ ہے۔ عدلےہ کےلئے ےہ مناسب نہ ہو گا کہ اسے سےاسی ، معاشی اور سےکورٹی مسائل مےں ملوث کےا جائے۔ ہو سکتا ہے کچھ اےسے فےصلے ہو جائےں جنہےں بعد مےں عدلےہ کے سامنے چےلنج کےا جائے۔ اس صورت مےں عدلےہ کےلئے بھی مشکل ہو گا کہ کسی اےسے ایشو پر فےصلہ دے جس کے حصول مےں عدلےہ خود شامل رہی ہے۔ عجےب بات ہے کہ جب فوج کی حکومت ہوتی ہے تو اس سے نجات کی باتےں ہوتی ہےں اور جب ملک مےں جمہوری حکومت قائم ہے توفوج سے مشاورت اور ہداےات لےنے کی بات کی جا رہی ہے۔ بدقسمتی ےہ ہے کہ گذشتہ تےن سال مےں وفاقی حکومت دستور مےں متعےن اپنے حقوق اور فرائض مےں رےاست کے دوسرے اداروں کو راہ دےتی رہی ہے۔ اگر حکومت نے پالےسی سازی اور فےصلے کرنے مےں پارلےمنٹ پر انحصار کےا ہوتا تو وہ غلط فےصلے کر کے انہےں واپس لےنے کی ہزےمت سے محفوظ رہتی۔
شہباز شرےف سے پہلے صدر آصف زرداری نے ملکی مسائل حل کرنے کےلئے اےک گول مےز کانفرنس کے انعقاد کی تجوےز دی تھی۔ خےال تھا کہ تمام سےاسی جماعتےں اکٹھی ہو کرملک کو لاحق مسائل کا حل اےک قومی اےجنڈے کی روشنی مےں تلاش کرےں گی۔ اس وقت مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شرےف نے بڑی نخوت سے صدر زرداری کی تجوےز کو مسترد کر دےا تھا۔ زےادہ دےر نہ گزری تھی کہ پنجاب کے وزےر اعلیٰ نے پارٹی قائد نواز شرےف کی ہداےت پر وزےراعظم گےلانی سے رابطہ کر کے ملکی مسائل کے حل کےلئے اےک اےسی ہی کانفرنس منعقد کرنے کی تجوےز دی جس مےں فوج اور عدلےہ سمےت تمام سٹےک ہولڈرز موجود ہوں۔ صدر زرداری کی تجوےز کو رد کرنے اور وزےر اعلیٰ پنجاب کی نئی تجوےز کے درمےان کوئی زےادہ عرصہ حائل نہ تھا اور کوئی خاص اہم واقعہ بھی رونما نہ ہوا تھا جو مسلم لیگ (ن)کو اپنی رائے تبدےل کرنے پر آمادہ ےا مجبور کر سکتا۔ پےپلز پارٹی کے وزراءکو پنجاب کابےنہ سے نکالے جانے کے وقت مسلم لیگ (ن)کی قےادت نے بےان کےا تھا کہ وہ وفاق مےں حقےقی اپوزےشن کا کردار ادا کرے گی اور ےہ کہ اسکی اور پےپلز پارٹی کی راہےں جدا جدا ہےں ےہ دونوں اےک ساتھ نہےں چل سکتے۔ پھر خدا جانے کےا ہُوا کہ مسلم لیگ (ن)کو اےک مرتبہ پھر قومی مفاہمت اور ملکی مسائل کے حل کےلئے اےک اےسی کاوش کی ضرورت محسوس ہوئی جس مےں فوج اور عدلےہ سمےت تمام سٹےک ہولڈرز موجود ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کو احساس ہو ا ہو کہ پےپلز پارٹی سے مخاصمت مےثاق جمہورےت کی سپرٹ کے خلاف اقدام تھا جسے لوگوں نے پسند نہےں کےا۔ پنجاب حکومت سے نکالے جانے کے بعد پےپلز پارٹی نے اسمبلی مےں مضبوط اپوزےشن کا رول سنبھال لےا ہے اور حکومت کو پہلی بار اسمبلی مےں کسی اپوزےشن کا احساس ہوا ہے۔ پےپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن)پر تنقےد کا شدےد سلسلہ شروع کر دےا ہے کہ وہ اےک بار پھر 90 کے عشرے کی سےاست اور چھانگا مانگا حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اگر پےپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر باہمی اتحاد برقرار رکھتےں تو حکومت مضبوط نظر آتی۔ فی الوقت باہمی مفاہمت اور اداروں کا استحکام وقت کی اہم ضرورت ہےں۔