ایرا کی بجھتی شمع کی آخری لو

14 مارچ 2011
رشید ملک
ایرا کے زیر اہتمام سعودی کویت فنڈ کے تعمیراتی شعبہ کے چیف انجینئر خواجہ اعجاز نے ایک انٹرویو میں کنگ عبداللہ یونیورسٹی پر گراﺅنڈ ورک شروع کئے جانے سعودی حکومت کی طرف سے ڈیڑھ ارب روپے کی رقم یونیورسٹی کو فراہم کئے جانے اور کچھ کالجز کی تعمیر مظفر آباد، باغ اور راولاکوٹ میں اس سال دسمبر کے آخر میں مکمل کئے جانے کی نوید سنائی ہے ہم اسے ”ایرا“ کی بجھتی ہوئی شمع کی آخری لو سے اس لئے تعبیرکرتے ہیں کہ ”ایرا“ نے آزاد کشمیر کے اضلاع مظفر آباد، باغ اور راولا کوٹ میں اکتوبر2005ءکے قیامت خیز زلزلہ کے بعد تعمیر نو کا جو کام شروع کیا تھا اس میں منصوبہ بندی، روایتی طریقہ تعمیر اور دیانت داری و محنت کے عوامل ضرور تھے لیکن جیسا کہ ہم نے ہمیشہ ان کالموں میں اظہار رائے کیا ہے کہ اگر ”ایرا“ کی جانب سے اس تعمیر نو کے عمل کو اسی شدت اور تیزی کی نسبت سے شروع کیا جاتا جو زلزلہ کی تباہ کاری نے دکھائی تھی اورمتاثرہ علاقہ کے عوام کو ایک بھرپور مہم کے طور پر اس میں شریک کیا جاتا تو تعمیر نو کا عمل زیادہ اچھے نتائج دے سکتا تھا اور فنڈز بھی وقت پر استعمال ہو جاتے ”ایرا“ کے ارباب اختیار نے روایتی طریقہ اپنایا اور پھر اعلی ترین سطح پر مفاد پرستی کا عنصر بھی داخل ہو گیا اور اس لئے ”ایرا“ کے ڈائریکٹر جنرل کی محنت منصوبہ بندی اور دیانتداری ان کی اپنی خواہش کے مطابق نتائج نہیں دکھا سکی ”ایرا“ کے نئے چیئرمین حامد ہراج نے جب سے یہ منصب سنبھالا ہے وہ غالباً خاموشی اور یکسوئی سے ”ایرا“ کے لئے فنڈز کے حصول اور اس کی صفوں میں زندگی دوڑانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ایک اطلاع کے مطابق سعودی حکومت سے رابطہ کا احیاءکیا گیا ہے اور کنگ عبداللہ یونیوسٹی کےلئے ڈیڑھ ارب روپے کے اضافی فنڈ حاصل کر لئے گئے ہیں چیف انجینئر خواجہ اعجاز نے بتایا ہے کہ سعودی کویت فنڈز سے کنگ عبداللہ یونیورسٹی کے تعمیر ہونے والے چھتر کلاس میں بڑے کیمپس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ راولا کوٹ میں بھی ایک ڈسٹرک کیمپس تعمیر ہو گا۔ ان دونوں منصوبوں پر 5 ارب 28 کروڑ سے زائد کی رقم صرف ہو گی۔اس منصوبہ کی دوبارہ ٹینڈرنگ کے بعد کوریا کی کمپنی سمباکو الاٹ کر دیا گیا ہے اسے منظوری کا خط جاری کر دیا گیا ہے سعودی کویت فنڈ کے نمائندہ اور ”ایرا“ کے ڈائریکٹر منصور ڈار کے مابین معاہدہ پر دستخط ہو گئے ہیں کنگ عبداللہ کے دو بڑے کیمپس کے چیف انجینئر خواجہ اعجاز نے بتایا ہے کہ مظفر آباد میں تین بڑے کالجز جن میں پوسٹ گریجویٹ کالج طلبہ خواتین پوسٹ گریجویٹ کالج بھی شامل ہیں۔ رواں سال دسمبر کے آخر میں مکمل ہو جائیں گے انہوں نے بتایا کہ مظفر آباد میں 12 نیلم میں 2 باغ میں 6 اور راولا کوٹ میں 11 کالجز تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ جو ”ایرا“ نے زلزلہ کی تباہ کاری کے بعد تعمیر نو کے پروگرام میں شروع کئے گئے تھے ان میں کچھ تو ایرا کے دور عمل میں مکمل کئے گئے تھے تعلیمی اداروں کے علاوہ طبی سہولتوں کے ادارے بھی تکمیل کئے گئے تھے جن کی تفصیل ایرا کے ڈائریکٹر جنرل یا سابق چیئرمین وقتاً فوقتاً بتاتے رہے ہیں ان کی بتائی ہوئی تفصیل کے مطابق یہ کام زیادہ سے زیادہ ایک چوتھائی تھا اس میں سست روی کی وجہ ہم بیان کر چکے ہیں سیلاب کی تباہ کاری پر ”ایرا“ کے فنڈز سیلاب فنڈز میں یا پھر ایک اطلاع کے مطابق بے نظیر سپورٹ پروگرام میں منتقل کر دیئے گئے تھے گویا زلزلہ کی تباہ کاری اور تعمیر نوکو پس منظر میں دھکیل دیا گیا اور ”ایرا“ کی بساط ہی یہاں سے لپیٹ دی گئی ہے نئے چیئرمین حامد رضا نے بھی ابھی تک زلزلہ زدہ علاقوں کو نہیں دیکھا وہ اگر ”ایرا“ کی مردہ رگوں میں زندگی دوڑانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کسی طرح فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو سب سے پہلے دارالحکومت مظفر آباد کی ویرانی اور داغ داغ چہرے کو سنوارنے پر توجہ دیں مظفر آباد اردگرد کے لوگوں کے ہجوم سے بھرا پڑا ہے لوگ کاروبار بحال کرنے پر لگے ہیں لیکن اس کی گلیاں، سڑکیں، سیوریج سسٹم، بازار اجڑے اجڑے اور اکھڑے اکھڑے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ چھ سال ہو گئے ہیں دارالحکومت میں ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم تعمیر نہیں کئے جا سکے صدر صاحب اور وزیراعظم نے اسلام آباد کشمیر ہاﺅس میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ایک دن کے ہوائی سفر یا زمینی سفر پر آتے ہیں اور پھر واپس اسلام آباد کے پرفضا کشمیر ہاﺅس میں چلے جاتے ہیں کابینہ کے وزراءبھی دارالحکومت میں قیام کرنا دو بھر محسوس کرتے ہیں خواجہ اعجاز چیف انجینئر نے چند تعلیمی اداروں کی تعمیر نو کی خوشخبری دی ہے وہ اپنی تعمیراتی صلاحیتوں اور وسائل کو وسعت دیں مظفر آباد کو اپنا حسن و سہانا روپ واپس دلانے کی کوشش کریں اصل درخواست ”ایرا“ کے چیئرمین حامد ہراج سے ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لار کر آزاد کشمیر کے دارالحکومت کے اجڑے اور اکھڑے چہرے کو سنوار دیں۔