A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

دہشت گردی کیخلاف جنگ افغانستان سے پاکستان لے جانے کی کرزئی کی درفنطنی....اسلامک ڈیمو کریٹک بلاک کی تشکیل ہی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے

14 مارچ 2011
افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی اور نیٹو فورسز پر جذباتی انداز میں زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر اپنے آپریشنز بند کردیں۔ انہوں نے افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں اتحادی افواج کے حملے میں 96 افراد بشمول 9 بچوں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد کنڑ کے دورے کے دوران متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقار اور عجز کے ساتھ امریکہ اور نیٹو سے اپیل کرتے ہیں کہ افغانستان میں فوجی آپریشن بند کرکے دہشت گردوں کیخلاف پاکستان میں کارروائی کریں۔ انکے بقول افغان بہت صابر و شاکر ہیں مگر اب انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اس لئے اب نیٹو فورسز کو دہشت گردوں کیخلاف کارروائی سرحد پار جاکر کرنی چاہئے کیونکہ افغان سرزمین پر کارروائی کرتے 9 برس بیت گئے ہیں جبکہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ دہشت گردی کہاں سے ہوتی ہے۔ یہ جنگ اب ہماری سرزمین پر نہ لڑی جائے۔ انہوں نے افغانستان میں سویلینز کی ہلاکتیں روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔
امریکی نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکی نیٹو افواج نے جس وحشیانہ طریقے سے افغانستان کی شہری آبادیوں پر کارپٹ بمباری کی اور پوری افغان سرزمین کو ادھیڑ کر رکھ دیا اور پھر افغانستان کی طالبان حکومت کاتختہ الٹ کر وہاں کرزئی کی سربراہی میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی، یہ بذاتِ خود انسانیت سے عاری گھناﺅنا واقعہ ہے جبکہ طالبان کی مخبری کے عوض امریکی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں آکر حامد کرزئی نے ہی افغان سرزمین پر امریکی نیٹو افواج کے قدم جمانے اور مستقل ٹھکانے قائم کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ اس وقت تو کرزئی نے اپنے اقتدار کی خاطر افغان باشندوں پر امریکی نیٹو افواج کے ہر قسم کے مظالم برضا و رغبت قبول کئے رکھے اور ساتھ ہی ساتھ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کو بھی اپنی سرزمین پر پاکستان کی سالمیت کیخلاف سازشیں پروان چڑھانے کا کھلا موقع فراہم کیا۔ اگر کرزئی غیور افغان قوم کے ساتھ غداری کرکے امریکی اتحادی افواج کو افغان دھرتی پر کھل کھیلنے کا موقع فراہم نہ کرتے تو یہ خطہ امریکی بھارتی سازشوں سے محفوظ ہو کر آج بھی امن و امان کا گہوارہ ہوتا مگر افغان باشندوں کے علاوہ پاکستان اور اہل پاکستان کیلئے بھی بادسموم کے جو تھپیڑے افغانستان کی جانب سے آئے ،وہ تو سارا کرزئی کا ہی کیا دھرا تھا۔ امریکی شہریت رکھنے والے اس نام نہاد افغانی نے جو بوسٹن میں معمولی سا ریستوران چلاتا تھاامریکی تابعداری میں اپنے اقتدار کی ایک ٹرم گزاری اور دوسری ٹرم کیلئے اپنی خودساختہ خودداری کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو بلیک میل کیا اور خود کو امریکہ کیلئے مجبوری اور ضرورت بنا کر امریکی بیساکھیوں کے سہارے دوسری ٹرم کا اقتدار بھی حاصل کرلیا۔ اس وقت بھی کرزئی نیٹو افواج کے آپریشن اور بمباری سے افغان باشندوں کی گرتی ہوئی نعشوں پر ٹسوے بہاتے سیاست کررہے تھے اور آج بھی انہیں امریکی نیٹو افواج کے ہاتھوں افغان دھرتی اور افغان باشندوں کو لگنے والے زخم یاد آرہے ہیں۔ چنانچہ وہ امریکی نیٹو افواج کے ہاتھوں لگنے والے ان زخموں پر افغان باشندوں کے صبر کا تذکرہ کرکے اپنی کسی نئی سیاسی چال کا اشارہ دے رہے ہیں اور نیٹو افواج کو مبینہ دہشت گردی کیخلاف پاکستان میں کارروائی کیلئے انگیخت کررہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے کمانڈر نے بھی ڈھکے چھپے لہجے میں دہشت گردوں کیخلاف پاکستان کے اندر کارروائی کا عندیہ دیا تھا جن کے بقول انہوں نے پاکستان سے افغانستان آنےوالے القاعدہ اور طالبان کے مسلح کارکنوں کو روکنے کی حکمت عملی طے کرلی ہے۔ اب اگر کٹھ پتلی افغان صدر امریکی نیٹو افواج کو افغانستان سے نکل کر پاکستان کے اندر دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی دعوت دے رہے ہیں تو اسکا مقصد پاکستان کے اندر کارروائی کیلئے امریکی نیٹو فورسز کی طے شدہ منصوبہ بندی پر عملدرآمد کرانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔
کرزئی کو یقینااس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر امریکہ کی جانب سے اس خطہ میں شروع کی گئی اپنے مفادات کی جنگ کا پاکستان کو افغانستان سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ پاکستان کے شہری بشمول سکیورٹی فورسز کے ارکان اور سیاسی شخصیات پاکستان کے اندر جاری فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں ہونیوالے خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کی ہی بھینٹ چڑھی ہیں اسی طرح فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں میں بھی پاکستان کے بے گناہ شہریوں بشمول بچوں اور خواتین کا خونِ ناحق بہایا جا رہا ہے جبکہ امریکی مفادات کی اس جنگ میں کرزئی کی معاونت سے زیادہ شدت پیدا ہوئی اور پاکستان کی تجارت و معیشت برباد ہو کر رہ گئی ہے۔ خود مغربی میڈیا اور امریکی حکام اس حقیقت کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ڈرون حملوں میں اصل ہدف 10 فیصد بھی پورا نہیں ہوا اور زیادہ تر عام شہری ہی ان حملوں کی بھینٹ چڑھے ہیں جبکہ اس حقیقت کا بھی امریکی حکام اعتراف کرچکے ہیں کہ مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں پاکستان کی تجارت اور معیشت کو 40 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ اسی طرح سوات، دیر، چترال،مالاکنڈ اور پھر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران لاکھوں پاکستانی شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن کے گھر اور کھیت کھلیان تک دہشت گردی کی اس جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ پاکستان میں یہ ساری کمبختی امریکہ اور بھارت کو حاصل ہونیوالی کرزئی کی معاونت کی وجہ سے ہی ٹوٹی ہے....
”اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردہ¿ تُست“
اب کنڑ کے علاقے میں اتحادی افواج کی گولہ باری سے کرزئی کی اپنی ایک عزیز خاتون کی بھی ہلاکت ہوئی ہے تو وہ مگرمچھ کے آنسو بہاتے امریکہ کی افغان جنگ پر تاسف کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور اپنی جان چھڑا کر پاکستان کو اس میں پھنسانا چاہتے ہیں جس کی سرزمین پہلے ہی ڈرون حملوں اور انکے ردعمل میں ہونیوالے خودکش حملوں کے ذریعے ادھیڑی جاچکی ہے۔ کرزئی کو یقینا اس حقیقت کا بھی ادراک ہوگا کہ اس خطہ میں شروع کی گئی امریکی مفادات کی جنگ درحقیقت مسلم امہ کیخلاف اسکی کروسیڈ ہے جس کا اعتراف سابق صدر بش اپنی ایک نشری تقریر میں بھی کرچکے ہیں اس لئے کیا ضروری نہیں کہ اس خطہ کے تمام مسلم ممالک بشمول افغانستان آپس میں متحد اور یکسو ہو کر مسلم امہ کیخلاف جاری امریکی کروسیڈ کا مقابلہ کریں اور دشمن کو اس دھرتی سے پسپا کرنے کیلئے کوئی متفقہ، ٹھوس اور جامع حکمت عملی طے کریں۔
اس تناظر میں ہم پہلے بھی انہی سطور میں پاکستان، افغانستان، ایران اور ترکی پر مشتمل اسلامک ڈیمو کریٹک بلاک کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں جبکہ کرزئی کے حالیہ بیان کے بعد تو اس اسلامک ڈیمو کریٹک بلاک کی تشکیل کی اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ امریکی نیٹو افواج کی توجہ اب یقیناپاکستان پر مرکوز ہوچکی ہے جس کے بعد ایران کی باری ہے اس لئے امریکی نیٹو افواج سے کیوں الگ الگ مار کھاتے رہیں اور کیوں نہ اسلامک بلاک کی شکل میں باہم متحد ہو کر مسلم امہ کیخلاف امریکہ، بھارت ، اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحادی ثلاثہ کی گھناﺅنی سازشوں کو ناکام بنائیں اور اپنے اتحاد و تعاون سے سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی تجارت و معیشت کو بھی ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کریں۔ جتنے قدرتی وسائل اور ذخائر مسلم ممالک بالخصوص افغانستان، پاکستان اور ایران میں موجود ہیں۔ انہیں باہمی تعاون سے بروئے کار لاکر ہم کڑی شرائط پر مبنی عالمی قرضوں سے ہی نجات حاصل نہیں کرسکتے، ملکی اور قومی خودانحصاری کی منزل بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ کرزئی کو یقینا اس حقیقت کا بھی ادراک ہوگا کہ پاکستان سے سمگل ہو کر افغانستان آنیوالی گندم اور دیگر اجناس سے ہی افغان باشندوں کی پیٹ پوجا ہورہی ہے۔ وہ نیٹو فورسز کو پاکستان کے اندر کارروائی کی دعوت دیکر کیا افغان باشندوں کی روزی روٹی کا یہ راستہ بھی بند کرانا چاہتے ہیں اور صرف بھارت کے کرایہ کے خود کش حملہ آوروں کی آمدن سے اپنا پیٹ بھرناچاہتے ہیں؟۔ انہیں تو مسلمان پڑوسی کی حیثیت سے پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کی تمنا کرنی چاہئے نہ کہ وہ اسکے عدم استحکام کی عالمی سازشوں میں حصہ دار بنیں۔
اندریں حالات یہی مناسب اور یہی وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان باہم ملکر اس خطہ کو امریکی نیٹو افواج کے منحوس قدموں سے نجات دلائیں اور باہمی علاقائی تعاون کی حکمت عملی طے کرکے مسلم امہ کیخلاف ہنود و یہود و نصاریٰ کی سازشیں ناکام بنانے کیلئے اپنا اجتماعی کردار ادا کریں۔ اس خطہ کے سارے مسلم ممالک متحد و یکسو ہوجائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں اسلام دشمن طاغوتی قوتوں کے شکنجے سے نجات نہ مل سکے۔
حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے آئین سے انحراف کسی صورت برداشت نہیں کیاجائیگا مہم جو کا ساتھ دینے والے جج عدالتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونگے جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ریاستی ادارے ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں، عدلیہ اور انتظامیہ میں تصادم کا کوئی خطرہ نہیں۔ ملک میں امن اور استحکام تب پیدا ہوتا ہے جب آئین و قانون کی حکمرانی قائم ہو ،قیام پاکستان سے لیکر آج تک بد قسمتی سے مفاد پرست سیاستدانوں اور طالع آزما ڈکٹیٹروں نے نہ صرف آئین وقانون پر عمل کیا بلکہ حتی الا مکان اسے پامال کرنیکی کوشش کی جس کے نتیجے میں افراتفری، لوٹ مار اور قتل و غارت نے جنم لیا، سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے9مارچ 2007 کو من پسند فیصلے نہ ملنے کے باعث چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کیا جس پر میڈیا، وکلائ، عدلیہ اور سول سوسائٹی نے سخت مزاحمت کی۔ اس جدوجہد میں کئی جانیں قربان ہوئیں ڈکٹیٹر منطقی انجام کو پہنچا اور آئین و قانون کی حکمرانی قائم ہوئی ،آج حکمران طبقہ پھر عدلیہ سے من پسند فیصلے نہ ملنے کیوجہ سے جلاﺅ گھیراﺅ کی سیاست کر رہا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں آج اگر ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہوتے تو عدلیہ کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کیا جاتا۔ سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد پاس نہ ہوتی، صوبائی وزرا ءاور ایم پی اے چیئر مین نیب کی برطرفی پر سیخ پا نہ ہوتے، اس وقت انتظامیہ عدلیہ کے ساتھ تصادم کے راستے پہ کھڑی ہے، عدالتی فیصلوں کو تسلیم نہیں کیاجارہا، ڈی جی ایف آئی اے کے متعلق سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اسکے ہوتے ہوئے حج کرپشن سکینڈل کی تفتیش صحیح نہیں ہورہی لیکن حکومت اسے رکھنے پر بضد ہے آئین کا نفاذ، قانون کی حکمرانی عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، حکمران اسے اپنی ذمہ داری نبھانے دیں عدالت کے راستے میں روڑے مت اٹکائیں، سپریم کورٹ کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کیاجائے اسی میں ملک و قوم اور حکمرانوں کی بہتری ہے۔
پاک تاجک تعلقات کو
مضبوط تر بنایاجائے
پاکستان اور تاجکستان نے تجارت، معیشت، دفاع ، زراعت ،سرمایہ کاری، گوادر پورٹ کی بہتری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی جنگ میں جکڑا ہوا ہے جس کے باعث ہماری معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ بجلی نہ ہونے کے باعث فیکٹریاں اور صنعتیں بند پڑھی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ دار اپنا کاروبار سمیٹ کر جا رہے ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے زراعت کے شعبے کو جدید بنانے کیلئے تعلقات کو بڑھانا چاہئے۔ توانائی کے شعبے میں بھی تاجکستان سے معاہدے سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی مہنگی ملے گی جوکہ صنعتوں کے بند پہیوں کو چلانے میں معاون ثابت ہو گی۔اسی طرح گوادر پورٹ کو جدید بنانے میں بھی ہمیں تاجکستان کو ساتھ ملانا چاہئے۔ گوادر پورٹ پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا کی حیثیت رکھتی ہے لیکن حکمران اسکی افادیت سے مستفید ہونے سے محروم ہیں۔ اگر تاجکستان ہمارے ساتھ مل کر گوادر پورٹ کو جدید بناتا ہے۔ تو ہمارے لئے بہتر ہے اس سے بھارت سمیت دیگر دشمن قوتوں کا راستہ بند ہو جائے گا اور ہمیں اپنے خطے میں ہی ایک اچھا دوست اور مل جائے گا۔ چہ جائیکہ ہم سات سمندر پار دوستیوں کی پینگیں بڑھائیں‘ اچھے ہمسائیوں کو دوست بنانا چاہئے۔ جو مشکل وقت میں ہمارے کام بھی آئیں۔ ہمیں تمام منصوبوں اور معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے فی الفور اقدامات کرنے چاہیں کیونکہ ملکی حالات کے پیش نظر ان میں تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
برطانوی خیراتی ادارے آکسفیم کے مطابق پاکستان رواں برس مون سون کی بارشوں کےلئے تیار نہیں، اُسے اپنی تیاری شروع کر دینی چاہئے۔ آکسفیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ برس کے سیلاب سے بہت کم سبق سیکھا ہے۔ سیلاب متاثرین کے گھر وہیں بنائے گئے ہیں جہاں پچھلے سال سیلاب آیا تھا، پاکستان کو سال گذشتہ 87 ارب سے 108 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچا تھا۔ لیکن اسکے باوجود پاکستان نے مون سون کی بارشوں سے نمٹنے کےلئے کوئی تیاری نہیں کی۔ آکسفیم واقعتاًپاکستان کا ہمدرد ہے کہ اُس نے پیشگی سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کی وارننگ دیدی ہے اور پاکستان کو نہایت ناصحانہ انداز میں مون سون کی بارشوں کی تباہ کاریوں سے بچاﺅ کی تدابیر اختیار کرنے کےلئے کلیدی تجاویز بھی دی ہیں، مگر ہم آکسفیم سے یہ بھی گزارش کرینگے کہ پاکستان میں سیلاب تو آیا ہی کرتا ہے، مگر پچھلے برس یہ دوچند اس لئے ہو گیا تھا کہ بھارت نے پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیا تھا، اور اپنے ڈیموں کے دروازے کھول دئیے تھے، یہی وجہ ہے کہ بھارت میں سیلاب نہ آیا اور اُس کے حصے کا سیلاب بھی پاکستان کے سیلاب میں شامل ہو گیا۔ آکسفیم کو چاہئے کہ وہ بھارت کا دورہ کرے اُن کے ڈیم دیکھے، اور اُن کو بھی نصیحت فرمائے کہ جب پاکستان سیلاب کی زد میں تھا تو بھارت نے پاکستان کے دریاﺅں میں بے تحاشا پانی کیوں چھوڑا تھا۔