بندہ مزدور کے اوقات

14 مارچ 2011
مکرمی! جب صبح میں اپنے گھر سے فضائیہ کالج تک راستہ طے کرتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پل صراط پر گزر رہی ہوں کیونکہ مجھے ان گنت چہرے نظرآتے ہیں جو گرمی سردی کی تلخیوں سے بے نیاز سٹاپ پر کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی اوزار تھامے کوئی پینٹ کا ڈبے پکڑے کوئی پھولوں کے ہار اٹھائے‘ بوڑھے اور کانپتے ہاتھ‘ جھریوں زدہ چہرے آس و نراس لئے کسی آقا کے منتظر جب ان مزدوروں کے پاس کوئی گاڑی رکتی ہے تو ان کے چہرے جگنو کی طرح چمکنے لگتے ہیں۔ آس کے دیے جلنے لگتے ہیں کہ اب ہمارے گھر کا چولہا بھی جلے گا۔ اب ہمارے بچے بھوکے نہیں سوئیںگے اور جب وہ گاڑی ان سے گزرجاتی ہے تو آس یاس میں بدل جاتی ہے۔ کیا یہ اسلامی معاشرہ ہے؟
(طاہرہ جبیں تارا ۔ لاہور)