ارکان نے وزرا کی عدم موجودگی میں بجٹ پر بحث بے مقصد قرار دیدی

 چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی وزراء کی عدم حاضری پر ارکان پارلیمنٹ نے بجٹ پر بحث کو بے مقصد قرار دے دیا۔ قائد حزب اختلاف شبلی فراز بولے کہ بجٹ میں غریب اور تنخواہ دار آدمی کو نشانہ بنایا گیا، اس سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کب تک قرضہ لیتے رہیں گے، خود انحصاری کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔ قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہاکہ موجود حکومت غیر قانونی ہے اور ان کی کوئی حیثیت نہیں، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی اشرافیہ کی نمائندہ جماعت ہے۔  سینیٹر سیف اللہ ابڑو بولے الیکشن کا آڈٹ خیبرپختونخوا سے شروع کریں اور پورے ملک تک کروائیں ہم تیار ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر کا کہنا تھا کہ بجٹ کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، ہم سے بجٹ پر مشاورت نہیں کی گئی، نجکاری کی مخالفت کریں گے۔ وقفہ کے بعد ڈپٹی چیئرمین سیدال خان نے اجلاس کی صدارت کی اور بعدازاں اجلاس آج دن ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

ای پیپر دی نیشن