قربانی 

قربانی کا لفظ اپنے معانی و مفاہیم کے اعتبار سے ایک کائنات سمیٹے ہوئے ہے۔ بڑے انسان اس دنیا میں اس عظیم جذبے سے مالامال ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ہم عام انسانوں سے بڑھ کر اپنے رب کے ساتھ وابستگی کی نعمت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ قربانی کا جذبہ زندگی کے ہر موڑ پہ ضروری اور اہم ہے۔ 
اس روئے زمیں پہ جو سب سے پاکیزہ اور مقدس ہستیاں ہیں وہ انبیاءکرام کی ہیں۔ یہ ہستیاں اللہ کی سب سے محبوب اور پیاری رہی ہیں۔ اللہ انہیں جہاں آزمائشوں میں ڈالتا ہے وہاں ان پہ اپنی عنایات کی بارش بھی عام انسانوں سے بڑھ کے برساتا ہے۔ انبیاءعلیہم السلام کی زندگیاں ہمارے لیے اس حیات فانی میں رہنمائی و اعانت کا سر چشمہ ہیں۔ ہم ان سے سیکھتے ہیں ان کے صبر، شکر اور ان کی فکر سے زندگی کے اندھیروں میں روشنی تلاش کرتے ہیں اور کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔ 
ذوالحجہ کا مہینہ ایک عظیم انسان کی عظیم قربانی کی یاد میں اہم اور مقدس ہے۔ حج جیسی بڑی سعادت اس مہینے میں خوش نصیبوں کو حاصل ہوتی یے اور یہ مہینہ حضرت ابرہیم علیہ السلام اور حضرتِ اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے۔اللہ کی ذات نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود سے بچایا۔ ان کے لیے دہکتی آگ گل و گلزار بن گئی۔ 
وہاں بھی اللہ کی ذات سے ان کی محبت، یقین اور وابستگی کی آزمائش تھی وہ آزمائش ان کے جذبہ ایمان کے آگے گل و گلزار بن گئی۔
بےخطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق 
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی مشکلوں آزمائشوں سے سرخرو ہوتی ہوئی ان کی اس بڑی آزمائش تک آن پہنچی جہاں تمام تر ہمتیں اور صبر دم توڑ جاتا ہے۔
وہ اسماعیل علیہ السلام جن کی ایڑیاں رگڑنے سے چٹئیل میدان میں ربِ مہربان نے پانی کا چشمہ بہا دیا تھا اسی اسماعیل علیہ السلام کے لیے ایک بڑی آزمائش کا وقت تھا۔
حضرتِ ابرہیم علیہ السلام کو خواب آتا کہ سب سے پیاری چیز میری راہ میں قربان کرو۔
ابراہیم علیہ السلام صبح اٹھتے سو اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کر دیتے۔ پھر اگلی صبح یہی خواب آتا پھر سو اونٹ قربان کر دیتے۔ حتیٰ کہ بات چلتی چلتی بیٹے کی قربانی تک آن پہنچتی یے۔اللہ اکبر۔ 
ابراہیم علیہ السلام کی رب سے محبت کے آگے بیٹے کی قربانی بھی کوئی معانی نہیں رکھتی تھی۔ کسی عام انسان کے بس اور سوچ سے آگے کے یہ معاملے صرف رب اور اسکے محبوب بندے ہی جان سکتے تھے۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے اس عظیم قربانی کا ذکر کرتے ہیں۔
سعادت مند بیٹے نے کہا بابا میں حاضر ہوں۔ 
بس اتنا کیجئے کہ میری گردن پہ چھری چلاتے وقت اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لیجئے گا۔
کہیں جذبہ پدری کے زیر اثر آپ کے دل میں ہمدردی پیدا نہ ہو جائے۔ 
اور آپ اپنے رب کے حضور سرخروئی حاصل کرنے میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
حضرت ابرہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھی بیٹے کو لٹایا چھری حلق پہ پھیرنے لگے۔ 
اس وقت الفاظ کا سا تھ جذبے کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ کتنا بڑادل کیا ہو گا۔ کتنے صبر سے بیٹے کے حلق پہ چھری چلائی ہو گی۔ وہ تو کر چکے اپنی آزمائش اور رضائے الہٰی کے آگے سرخرو ہو چکے تھے۔ 
میرا رب جتنا مہربان ہے اس کا اندازہ تو ہم انسانوں کو ہو ہی نہیں سکتا۔ رب نے مہربانی کی،بیٹے کی جگہ ایک مینڈھے کے حلق پہ چھری چلتی گئی۔
جب ابراہیم علیہ السلام نے آنکھوں سے پٹی کھولی تو بیٹے کی جگہ ایک مینڈھا ذبح کیا ہوا پایا۔
یہ کائنات کے سب سے عظیم انسانوں کی عظیم زندگیوں کی باتیں ہیں۔ ہم عام انسان ان کے جذبہ ایمان کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی یاد میں دس ذوالحجہ کو عید الضحیٰ مناتے ہیں اپنی استطاعت کے مطابق جانور کی قربانی کرتے ہیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ قربانی کا لفظ ہم عام لوگوں کے لیے عید کے موقع پہ کسی جانور کی قربانی دے دینے تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ لفظ اپنے معانی و مفاہیم میں ایک کائنات کی طرح ہے۔ پوری زندگی میں اس لفظ قربانی کے اثرات نمایاں ہیں۔ 
ناگوار روّیوں کے آگے اپنی عزت نفس اور انا کو قربان کرنا اور چپ رہنا قربانی یے۔
اپنی پسندیدہ اور محبوب شے کے چھیننے پہ آہ و بکا نہ کرنا، اپنی ذات کی نفی کرنا قربانی ہے۔
دوسروں کی خوشی کی خاطر مشکلات برداشت کرنا اور اپنی ذات کو دوسروں کے لیے وقف کر دینا قربانی یے۔
ہر وہ کام جس میں آپ کسی کی رضا کے تابع ہو جائیں، اپنا آپ مٹا دیں۔ سب قربانی کے زمرے میں آتا یے۔اللہ پاک ہمیں اپنے محبوب بندوں کی زندگیوں سے سیکھنے اور ان پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

ای پیپر دی نیشن