قابل رحم قیدی

14 جولائی 2009
مکرمی! 25 سالہ قیدی عرصہ دس سال سے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور میں مقید ہے۔ اس قیدی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ سال میں 5 6/ مہینے اس کو شدید قسم کے دورے ہوتے ہیں اور اس کی حالت آپے سے باہر ہو جاتی ہے۔ اپنے ہاتھوں پہ کاٹتا ہے کپڑوں کو پھاڑ دیتا ہے چیختا چلاتا ہے، منہ سے رالیں ٹپکتی ہیں کھانا پینا بالکل چھوڑ دیتا ہے روٹی سالن برتن سب زمین پر پٹخ دیتا ہے لگاتار پاگلوں کی طرح بولتا رہتا ہے نہ کسی کی سنتا ہے نہ سمجھتا ہے اس حالت میں اس کو جیل کی قصوری چکیوں میں بند کردیاجاتا ہے اور اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں وہ ایک قصوری چکی میں بند ہے اور اس کی اس قدر خراب حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی اس قابل رحم حالت پر بے ساختہ میرے آنسو ٹپک پڑتے ہیں۔ یہ قیدی اپنی سزا تقریباً پوری کر چکا ہے اگر کوئی آٹھ دس مہینے رہ بھی گئی ہے تو صدر وزیراعظم اور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اس کو معاف کریں دیں ورنہ یہ قیدی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔قیصر افتخار ولد افتخار احمد، حافظ فداء الرحمن فاروقی سنٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور