مسلم لیگ میں مشرف زرداری لیگ

14 جولائی 2009
سابق وزیر اعجاز الحق نے کہا ہے کہ پرویز مشرف چودھری شجاعت کو ہٹا کر حامد ناصر چٹھہ کو پارٹی کا صدر بنانا چاہتے تھے لیکن ان کا پارٹی میں موجودہ اختلاف سے کوئی تعلق نہیں حالانکہ پرویز مشرف نے کل ہی کہہ دیا ہے کہ اگر عوام چاہیں تو میں پاکستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کیلئے تیار ہوں۔ یہاں بھی بات تیسری بار کی ہے۔ دوسری بار اقتدار کو سنبھالے ہوئے انہوں نے پھر سنبھال لیا تھا تو کیا تیسری بار کی پابندی ان پر عائد نہیں ہوتی۔ وردی کے ساتھ حاضر سروس بائیس گریڈ کا جنرل ہوتے ہوئے انہوں نے صدر کا الیکشن لڑ لیا تو اب کونسی پابندی ان پر لاگو ہو گی۔ یہ پابندی تو سابق وزیراعظم سیاستدان نواز شریف اور بے نظیر بھٹو پر لاگو ہو سکتی ہے اور اب تیسری بار پارٹی صدر ہونے کے حوالے سے چودھری شجاعت پر لگائی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ پارٹی صدارت کو بھی ملک کی صدارت کے برابر سمجھتے ہیں۔ یہ بات نہ ہوتی تو صدر زرداری اپنے پاس پارٹی کی شریک چیئرمین شپ کیوں رکھتے۔ آج نام نہاد جمہوری نظام اسی وجہ سے خراب ہو رہا ہے۔ پارٹی کی سربراہی میں کچھ تو ہے کہ کوئی بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ جب تک وہ خود زندہ رہتے ہیں اور اس کے بعد اپنے بیٹے کو یہ ورثہ تحفے میں دے جاتے ہیں۔ اے این پی باچا خان کے پاس رہی‘ پھر ولی خان اور اب اسفند یار ولی۔ درمیان میں نسیم ولی خان بھی آگے آگے تھیں مگر اب وہ نجانے کہاں ہیں۔ اس دوران کسی بڑے پھنے خان صاحب نے چیلنج کرنے کا سوچا بھی نہیں۔ جمعیت العلماء اسلام مفتی محمود کے بعد مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے۔ پیر پگارا کو اللہ سلامت رکھے‘ وہ مسلم لیگ فنکشنل کے صدر نہ ہوتے تو بڑے بڑے سیاستدان انہیں ملنے کیوں جاتے۔ وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ میں جی ایچ کیو کا آدمی ہوں۔ وہ چودھری برادران کے کس لئے خدا واسطے خلاف ہیں؟ بھٹوز تو خیر واقعی سیاستدان تھے‘ اسی لئے تو شہید ہوئے۔ صدر زرداری بھی بے نظیر بھٹو کی زندگی میں کہیں نہیں تھے‘ اب بس وہی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بیوی کا جانشین کہتا ہے اور اس نے اپنے جانشین بیٹے کو اپنا لیڈر بنا لیا ہے۔ وہ چیئرمین ہے اور زرداری صاحب شریک چیئرمین ہے۔ اس سے ’’شریکے‘‘ کی بو آتی ہے۔ اس صورتحال میں رشتہ داروں کو خبردار رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ ہوتی ہے موروثی سیاست کہ پاکستان میں بیوی کے بعد شوہر حکمران بنا ہے ورنہ اب تک شوہر کے قتل پر بیویاں حکمران بنتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اپنے شہید والد کے بعد وزیراعظم بنی تھیں۔ وہ کبھی شوہر کے بعد وزیراعظم نہ بن سکتیں۔ اللہ صدر زرداری کو لمبی عمر دے۔ انہوں نے بلاول زرداری کا نام بلاول بھٹو زرداری رکھا ہے۔ اس میں زرداری کی نسبت اضافی ہے۔ عوام میں جو صدر زرداری کے خلاف ردعمل ہے‘ وہ بے چارے تک جاتے جاتے جاتے ردی عمل بن جائے گا۔ خدا اسے پاکستان کا وزیراعظم بنائے صدر نہ بنائے۔ وہ کبھی صدر بننے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ کوئی بھی کبھی نواز شریف اور شہباز شریف کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ شہباز شریف کو اللہ سلامت رکھے‘ ان کی زندگی میں حمزہ شہباز شریف ایم این اے ہے۔ ایم این اے وزیراعظم بن سکتا ہے۔ شہباز شریف کے لئے ابھی یہ امکان ختم نہیں ہوا۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری حمزہ شہباز کے سر ہو گی۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئی یہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہے یا نہیں ہے۔ کیپٹن صفدر نواز شریف کی طرف سے ایم این اے ہے‘ وہ بہت اہل نوجوان ہے۔ اپنے رومانی پس منظر کی وجہ سے وہ اہل دل بھی ہے۔ وہ وزیراعظم بن سکتا ہے‘ شوہر صدر ہو سکتا ہے تو داماد بھی وزیراعظم ہو سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی طرف کسی کا خیال نہیں جاتا مگر ان جماعتوں کے سربراہوں کا خیال ہے کہ وہ تاحیات صدر رہیں گے۔ ’’اقتدار پارٹی‘‘ کا بھی سربراہ ہوتے ہیں تو وہ تاحیات صدر رہنے کا ’’انتظام‘‘ کرتے رہتے ہیں مگر یہ سرکاری بدنظمی پھیلانے والے بہت ڈاہڈے ہیں۔ تحریک انصاف کے عمران خان کے علاوہ کسی کا نام کسی کو یاد ہو تو پھر بھی کبھی عمران خان پارٹی سربراہی سے اپنے آپ کو خود بھی نہیں ہٹا سکتے۔ ایک اور تحریک بھی ہے تحریک استقلال جس میں اتنا استقلال ہے کہ ائرمارشل اصغر خان کے علاوہ اس جماعت میں کوئی آدمی نہیں ہے۔ ویسے وہ بہت بااصول سیاستدان ہیں۔ اسی اصول کے تحت منتخب وزیراعظم بھٹو صاحب کو مار بھگانے کا خواب دیکھتے رہے۔ کسی الیکشن میں وہ بلامقابلہ بھی میدان میں آئیں تو ان کی ضمانت ضبط ہو جائے گی مگر انہیں کوئی مائی کا لعل تحریک استقلال کی سربراہی سے نہیں ہٹا سکتا۔
بات اعجاز الحق سے چلی تھی اور نجانے کہاں بلکہ کہاں کہاں چلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف‘ حامد ناصر چٹھہ کو چودھری شجاعت کی بجائے مسلم لیگ ق کا صدر بنانا چاہتے تھے لیکن اب وہ ق لیگ کے انتشار میں شریک نہیں تو چٹھہ صاحب کس کے کہنے پر یہ سب ڈرامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود تو کبھی جرنیلوں کی حمایت کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔ وہ تب پارٹی کے صدر نہ بن سکے جب پرویز مشرف آرمی چیف جنرل تھے اور صدر تھے تو اب چٹھہ صاحب کیسے کچھ ہو جائیں گے۔ اعجاز نہ چودھری صاحب کے ساتھ ہے نہ چٹھہ صاحب کے ساتھ ہے تو پھر کس کے ساتھ ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہے جس کا سیاستدانوں کو ذلیل کرانے میں ہاتھ ہے۔ وہ جنرل ضیاء الحق کے ورثے کو نہ سنبھال سکے۔ اچھا ہوا کہ نواز شریف نے یہ گدی سنبھال لی ورنہ اعجاز سے نجانے کون یہ منصب چھین کے لے جاتا۔ وہ نواز شریف کی ماتحتی کرنے کے بعد جنرل مشرف کی نوکری کرنے چلے گئے۔ جنرل مشرف اپنی نجی محفلوں میں اعجاز الحق کے والد جنرل ضیاء الحق کا خوب مذاق اڑاتا تھا۔ وہاں وہ لوگ اسے جنرل ضیاء کے لطیفے سناتے تھے وہ جنرل ضیاء کو بھٹو صاحب کے لطیفے سناتے تھے۔ اعجاز صاحب صدر زرداری کے مشیر بننے کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے اور وہ اسے مشیر بنا بھی لیں گے۔ یہ کام اس کے لئے چودھری شجاعت یا نواز شریف کرا سکتے ہیں۔
راجہ بشارت نے کہا ہے کہ اب مسلم لیگ ق کے ہمدرد بننے والوں نے کبھی چھ سات برسوں میں پارٹی کی نمائندگی نہیں کی۔ کسی بجٹ سیشن میں بلکہ کبھی اسمبلی میں تقریر نہیں کی۔ اب مسلم لیگ ق اسٹبلشمنٹ کے بغیر کھڑی ہوئی ہے تو اسے کھڑا ہونے دیں۔ سیاست کو ایجنسیوں کی سیاست سے پیچھا چھڑانے دیں۔ ہمایوں اختر ڈرائنگ روم میں ایک بار پھر مسلم لیگ کو کیوں قید کرنا چاہتے ہیں۔ خود تو اس نے اپنے گھر کے سرونٹ کوارٹر کا دورہ کبھی نہیں کیا ہو گا۔ اسے اپنے ملازمین کے نام نہیں آتے۔ وہ غریبوں اور دیہات کی سیاست کو کیا جانیں۔ اس مسلم لیگ کو چودھریوں نے بنایا ہے۔ مسلم لیگوں کے اتحاد کے لئے بھی وہی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ چودھری صاحبان چند دن پہلے مجید نظامی اور عارف نظامی سے نوائے وقت کے دفتر میں ملے ہیں۔ مسلم لیگوں کو مزید تقسیم نہ کیا جائے۔ مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی فکر کی جائے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے منشور اور جذبے کو اب اپنی منزل بنایا جائے۔ چودھری صاحبان کے خلاف بغاوت تھی تو باغی میدان میں آتے‘ مجھے دکھ ہوا ہے کہ فاروڈ بلاک کے عطا مانیکا ہمایوں اختر سے جا ملے ہیں۔ انہیں اپنے لیڈر ڈاکٹر طاہر جاوید سے تو مشورہ کرنا چاہئے تھا۔ یونیفکیشن بلاک کے بعد اس کا نام کیا ہو گا۔