مقبوضہ کشمیر میں یوم شہداء کے مظاہرین پر بھارتی فوج کا بدترین تشدد‘ درجنوں زخمی

14 جولائی 2009
سرینگر + اسلام آباد (بی بی سی + آن لائن + ثناء نیوز) مقبوضہ و آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم شہدائے کشمیر عقیدت و احترام سے منایا گیا ہے۔ اس موقع پر وادی بھر اور پاکستان میں مظاہرے ہوئے اور اقوام متحدہ دفاتر میں احتجاجی یادداشتیں پیش کی گئیں۔ بھارتی فوج نے لال چوک چلو مارچ ناکام بنانے کیلئے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا اور وادی کو فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا اور بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کرکے درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج سرینگر کی تاریخی مسجد کو سیل کر دیا اور جلوس نکالنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت بار بار یہ ثابت کر رہی ہے وہ وادی میں جمہوری عمل کیخلاف ہے۔ وادی بھر میں مظاہرے ہوئے جس میں مظاہرین نے فوج پرپتھرائو کیا جبکہ فوج نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا جس سے درجنوں کشمیری زخمی ہو گئے۔ اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور آزادی کشمیر اور حق خود ارادیت کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 13 جولائی 1931 ء کے شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔ انہوں نے کہا اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلوائے۔ یادداشت میں کہا گیا کہ آج بھی کشمیر کے اندر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کھلم کھلا کی جا رہی ہیں اور بھارتی فوج غیر قانونی طور پر کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی کونسل کے قراردادوں پر آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔