پاکستان میں جمہوریت اور سیاستدان کمزور ہیں‘ طالبان کا حامی نہیں: فضل الرحمن

14 جولائی 2009
لندن (آصف محمود سے) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ اور قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور سیاستدان کمزور ہیں۔ ایسے میں دو اداروں میں طاقت کی دوڑ شروع ہونا بدقسمتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنے آئینی اختیارات کے تحت کام کرے۔ عدلیہ‘ پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کریں۔ لندن میں نوائے وقت/ دی نیشن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا کہ سیاستدان فوج اور امریکہ کی ترجیحات کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہماری قومی خودمختاری جس کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی‘ آج سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن پر انہوں نے کہاکہ تعجب کی بات ہے کہ سرحد میں فوج جنگ کررہی ہے جبکہ بلوچستان میں معافی مانگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کی حمایت امریکہ کو خوش کرنے کیلئے کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں برمنگھم میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحن نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل غیرجانبدار کمشن بنایا جائے جو اندازہ لگائے کہ سوات میں ملٹری آپریشن ضروری تھا یا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں طالبان طرز عمل کا حامی نہیں کیونکہ بندوق لیکر شریعت کا نفاذ جرم ہے تاہم یہ سوچنا چاہئے کہ عمل جرم ہے یا ردعمل۔ انہوں نے کہاکہ ’’را‘‘ نے پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے افغانستان میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر میں بھارت اور پاکستان فریق ہیں تاہم کشمیری عوام کی حیثیت مدعی‘ فریق اور جج کی ہے۔