دو مشکوک افراد نے مدرسہ سے ملحقہ گھر میں کوئی چیز پھینکی: عینی شاہد

14 جولائی 2009
ملتان (خاتون رپورٹر) میاں چنوں کے نواحی گاؤں میں ہونے والی دہشت گردی کے ایک عینی شاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ وقوعہ سے تھوڑی دیر قبل کھیتوں کو پانی لگا کر واپس آ رہا تھا کہ مدرسے سے کچھ فاصلے پر انہوں نے ایک شخص جو پولیس کی وردی میں تھا جبکہ دوسرا عام کپڑوں میں دیکھا یہ دونوں موٹر سائیکل پر سوار تھے مدرسے سے ملحقہ گھر کے قریب رکے اور کوئی چیز اندر پھینکی ۔ انہوں نے فوری طور پر گھر کے قریب جا کر دروازہ کھٹکٹھایا کہ گھر والوں کو باخبر کر سکوں مگر دروازہ نہ کھلا۔ گھر کے صحن سے دھواں اٹھا تو وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے۔ فوراً ہی دھماکہ ہو گیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں کے دو بازاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ دریں اثناء میاں چنوں کی دہشت گردی کے عینی شاہد فلک شیر نے بتایا ان کا بیٹا محمد شفیع مدرسے میں قرآن پاک حفظ کر رہا ہے۔ وقوعہ سے تھوڑی دیر قبل میں بچے کو مدرسے چھوڑ کر آیا ابھی میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ دھماکے میں مدرسہ ملبے کا ڈھیر بنتے دیکھا میں بھاگا اور دیوانہ وار ملبے کو ہٹانے لگا۔ مجھے خیال تھا کہ میرا بیٹا یہاں کھڑا تھا۔ وہاں میں نے ایک ہاتھ کی انگلی باہر نکلی دیکھی میں نے دیوانہ وار ملبہ ہٹایا اور خدا سے گریہ زاری کر رہاتھا کہ خدایا میرے بچے کو اپنی امان میں رکھنا جونہی ملبہ ہٹایا تو وہ میرا ہی بچہ تھا جو اب نشتر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...