حافظ سعید کی نظر بندی کا ملکی قانون کے مطابق جواز پیش کیا جائے : جسٹس افتخار

14 جولائی 2009
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + اے پی پی) سپریم کورٹ نے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی رہائی کے خلاف دائر وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی اپیلوں کی سماعت آج منگل تک کے لئے ملتوی کر دی‘ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ایک طرف رکھ کر گرفتاری کو ملکی قانون کے مطابق ثابت کریں‘ یہ ایک شخص کی آزادی کا معاملہ ہے بغیر ثبوت کسی فرد کی آزادی پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی‘ اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہاں لکھا ہے کہ ایک شخص کو بغیر ثبوت اٹھا کر جیل میں ڈال دو۔ اپیلوں کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری‘ جسٹس سید ثائر علی اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رضا فاروق نے موقف اختیار کیا کہ حافظ سعید و دیگر کو اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد کے لئے اور ملک کے حساس اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں حراست میں لیا گیا تھا‘ اقوام متحدہ کی قرارداد میں ان افراد کی نقل و حرکت پر پابندی‘ اثاثے منجمد کرنے اور اسلحہ رکھنے پر پابندی لگائی گئی تھی جس پر عدالت نے کہا کہ نقل و حرکت کا یہ مطلب کس طرح نکالا گیا کہ ایک فرد کو گرفتار کر لیا جائے ‘ رضا فاروق نے بتایا کہ گرفتاری سے متعلق مواد ریویو بورڈ کو ان کیمرہ پیش کیا گیا تھا اگر یہ عدالت چاہے تو اسے بھی چیمبر میں بتایا جا سکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فریق مخالف کو بتائے بغیر چیمبر میں کسی کی پھانسی کے احکامات تو نہیں دے سکتے ویسے بھی اب یہ ریکارڈ خفیہ نہیں ہے سب کچھ تو عام کیا جا چکا ہے۔ رضا فاروق نے کہا کہ صوبہ پنجاب وفاقی حکومت کے کہنے پر عملدرآمد کر رہا ہے جب نظربندی کا حکم منظور کیا گیا اس وقت داخلی و خارجی سطح پر مشکل صورتحال کا سامناتھا‘ بھارتی سرحد پر افواج آ گئی تھیں ہوائی حملوں کا خطرہ تھا‘ میں نے زندگی میں پہلی بار ملکی حدود کی فضائی خلاف ورزی دیکھی۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آپ ریکارڈ سے باہر کی بات مت کریں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ جس بنیاد پر پاکستان میں آپ ان لوگوں کو نظر بند کر رہے ہیں اس میں الزامات کو دیکھنا ہوتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ 3 ماہ نظر بند رکھا گیا لیکن ان کے خلاف شواہد دستیاب نہیں جو ان الزامات کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہوں۔ حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ معلومات کے بارے میں ہمیں نہیں بتایا گیا، چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کر کے کہا کہ اب تک آپ عدالت کو قانونی نکتہ پر مطمئن نہیں کر پائے ہیں جب تک آپ بنیادی سوال پر عدالت کو قانونی جواز کے حوالہ سے مطمئن نہیں کریں گے ہم ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھیں گے۔ عدالت عظمی قانون کے متعین کردہ پیمانوں کے اندر آپ کے کیس کو جانچے گی۔