شمائلہ رانا کیخلاف مقدمہ میں فراڈ اور جعلسازی کی دفعات کا اضافہ

14 جولائی 2009
لاہور (نامہ نگار/ وقائع نگار/ ریڈیو نیوز) تھانہ غالب مارکیٹ میں ایم پی اے شمائلہ رانا کیخلاف دو کریڈٹ کارڈز چوری کرنے کے مقدمہ میں پولیس نے فراڈ اور جعلسازی کی دفعات کا اضافہ کرکے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ مقامی ایڈیشنل سیشن جج نے سب انسپکٹر کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں کریڈٹ کارڈ چوری کے سکینڈل سے متعلق کیس سے متعلقہ بنکوں سے کریڈٹ کارڈ کا متعلقہ ریکارڈ چیک کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ شمائلہ رانا نے اپنے اُوپر کریڈٹ کارڈ چوری کے لگائے گئے الزامات مسترد کر دئیے اور کہا ہے کہ مجھ پر کریڈٹ کارڈ چوری کا الزام بے بنیاد اور ایک سازش ہے۔ وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے واقعہ کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیدیا ہے‘ جلد اصل حقائق سامنے آ جائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فوٹیج میں میری تصویر نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطا بق غالب مارکیٹ کے رہائشی مقیت اسلام نامی شخص کی درخواست پر اس کی بہن زائرہ ملک کے کریڈٹ کارڈز چوری ہونے کا مقدمہ مسلم لیگ (ن) کی ایم پی اے شمائلہ رانا کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں زیر دفعہ 379(چوری ) کے تحت درج کروایا تھا۔ بعد ازاں انویسٹی گیشن پولیس تھانہ غالب مارکیٹ نے دفعات میں فراڈ اور جعلسازی کی تین دفعات کا اضافہ کرتے ہوئے 420/468/471 کا اضافہ کر دیا ہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹائون ذیشان اصغر نے بتایا کہ ایم پی اے کی گرفتار ی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔جب وہ سامنے آئیں گی تو اصل صورتحال واضح ہو گی۔ علاوہ ازیں سب انسپکٹر و تفتیشی افسر محمد مقصود کی طرف سے دی گئی درخواست میں مئوقف اختیار کیا گیا تھا کہ تفتیش کے سلسلہ میں دو متعلقہ بنکوں سے کریڈٹ کارڈ کا ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے۔ آئی این پی کے مطابق شمائلہ رانا پر کریڈٹ کارڈ چوری کے بعد عظمیٰ نامی ایک خاتون کی جانب سے ڈیجیٹل کیمرہ کی چوری کا الزام سامنے آیا ہے۔ علاوہ ازیں خاتون ایم پی اے شمائلہ رانا کو پارٹی کی طرف سے بیان بازی سے روک دیا گیا ہے۔