یہ کیسا اسلامی جمہوریہ ہے جہاں حج اور عمرہ کے دوران کرائے بڑھ جاتے ہیں ؟ لاہور ہائی کورٹ

14 جولائی 2009
لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے پی آئی اے کی پروازوں میں غیراعلانیہ تاخیر پر ازخود نوٹس کیس پر مزید سماعت17اگست تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں حج اور عمرہ کے دوران کرایوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ فاضل عدالت نے پی آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ شیڈول کو بہتر بنا کر آئندہ سماعت پر رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ فاضل چیف جسٹس نے سول ایوی ایشن سے لائسنس لینے کے باوجود نجی ائیرلائنز کی طرف سے چھوٹے شہروں میں سروس فراہم نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن کو ہدایت کی کہ نجی ائیرلائنز کو اس کا پابند کیا جائے کہ وہ چھوٹے شہروں میں بھی اپنی سروس فراہم کریں۔ گزشتہ روزعدالت کے روبروایم ڈی پی آئی اے کیپٹن محمد اعجازہارون نے پروازوں میں تاخیر پر چیف جسٹس سے معذرت کرتے ہوئے عدالت کو بتایاکہ لاہور سے اسلام آباد 55فیصد پروازیں مقررہ وقت اور 45فیصد پروازیں تاخیر سے روانہ ہوئی تھیں۔ اسی طرح اسلام آباد سے لاہور 66فیصد پروازیں مقررہ وقت اور 34فیصد پروازیں تاخیر سے روانہ ہوئیں جبکہ ملتان، رحیم یار خان اور بہاولپور میں موسم کی خرابی کی وجہ سے بعض اوقات پروازوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا تھاکہ پروازوں میں غیراعلانیہ تاخیرکے باعث ان سمیت چیف جسٹس پاکستان اور سندھ، بلوچستان اور پشاور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے علاوہ عوام کو بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور وفاقی حکومت کے وکیل کو بھی معاونت کے لئے طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ یہ بہت پریشان کن معاملہ ہے کہ پی آئی کا نعرہ ــ(Great people to fly with PIA)اب (Great peple to cry with PIA) بن چکا ہے۔ دریں اثناء چیف جسٹس نے جنریٹر پوش علاقوں میں نصب ہونے کے باعث لاہور کے ہزاروں شہریوں کے پینے کے پانی سے محروم ہونے کے واقعہ پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے مینجنگ ڈائریکٹر واسا لاہور کو آج ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔