مصری خاتون کے قتل کی ذمہ داری جرمن حکومت اور جج پر ہے : احمدی نژاد

14 جولائی 2009
تہران (اے ایف پی) ایران کے صدر احمدی نژاد نے جرمنی کی ایک عدالت میں مصر کی حاملہ خاتون کے قتل پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمن حکومت متعلقہ جج اور جیوری اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اس سانحہ پر کسی ردعمل کا اظہار نہ کرنے پر امریکی صدر اوباما یورپی لیڈروں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مخالف کسی ملک میں معمولی سا واقعہ بھی ہوجائے تو وہ اس کیخلاف قراردادیں پاس کرنا شروع کردیتے ہیں مگر وہ اپنے ہی ممالک میں لوگوں کے کم از کم حقوق کا بھی احترام نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ مصری خاتون شربینی کو یکم جولائی کو ایک روسی نژاد جرمن نے اس کے شوہر اور تین سالہ بیٹے کی موجودگی میں چاقو کے 18 وار کرکے قتل کردیا تھا۔ ہفتے کے روز تہران میں ایرانی طلبہ نے جرمن سفارتخانے پر گندے انڈے پھینکے اور ’’جرمنی مردہ باد‘ یورپ مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس سے ایک دن قبل ایران نے جرمن سفیر کو طلب کرکے اس قتل پر سخت احتجاج کیا اور جرمنی میں ہونیوالے اقلیتی لوگوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ مسلمان گروپوں نے اس قتل کو ’’پردے کا قتل ‘‘ قرار دیا ہے۔ مقتولہ کو پیر کے روز مصر کے شہر سکندریہ میں سپردخاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ مقتولہ کا شوہر شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ ملزم نے اس پر بھی چاقو سے وار کئے تھے جبکہ پولیس نے اسے ہی قاتل تصور کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر کی ٹانگ میں گولی مار دی تھی۔ ملزم اس سے قبل مقتولہ کو ایک جھگڑے کے دوران شربینی کو پردے میں رہنے کے باعث دہشت گرد قرار دینے کے جرم میں دی گئی سزائے قید اور جرمانے کے خلاف اپیل کے سلسلے میں اپیل کے حوالے سے عدالت میں موجود تھا۔