دھماکے کی شدت سے رکشہ اڑ کر فضا میں بکھر گیا اور تمام بچے مارے گئے

14 جولائی 2009
ملتان (خاتون رپورٹر) دھماکے کے شدید زخمی جو نشتر ہسپتال لائے گئے ان کے لواحقین کی بڑی تعداد ایمرجنسی وارڈ کے باہر موجود تھی۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے زخمی رکشہ ڈرائیور محمد انور کی اہلیہ مقصودہ بی بی نے بتایا کہ وقوعہ کے وقت ان کا شوہر مدرسے کے آگے سے ٹیوشن پڑھنے کے لئے بچوں کو چھوڑنے جا رہا تھا کہ دھماکہ ہو گیا جس سے رکشے میں سوار تمام بچے ہلاک جبکہ رکشہ اڑ کر دور جا گرا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ان کے شوہر کو بھی ہوش نہیں۔ دماغ میں چوٹیں آئی ہیں۔ فلک شیر اور محمد اخلاق نے بتایا گاؤں کے ایک مکان میں ریٹائر جج ریاض کمبوہ کی ہمشیہ بچیوں کو قرآن پاک ناظرہ اور حفظ کراتی تھیں۔ صبح کے وقت مدرسے میں کافی بچے تھے جو دھماکہ ہوتے ہی ملبے تلے دب گئے۔ محمد اشرف نے بتایا حادثے کے 15 منٹ بعد تک کان سن ہو گئے تھے اور سانس لینا بھی محال تھا۔ ذرا سنھلے تو مسجد کے سپیکر سے گاؤں والوں کو گاؤں سے دور جانے کو کہا۔ محمد محسن نے بتایا ان کی والدہ چھوٹی بچی کو لئے درخت تلے کھڑی تھیں کہ دھماکے سے گھر کی دیوار ان پر گر پڑی۔ مدرسے میں پڑھانے والی زخمی ٹیچر خالدہ نے بتایا حادثے کے وقت وہ بچوں کو پڑھا رہی تھیں کہ دھواں دیکھ کر دور بھاگیں تو زوردار دھماکہ ہو گیا۔ شگفتہ بی بی نے بتایا دھماکے بعد گاؤں کے دو بازار بالکل تباہ ہو گئے۔ سڑک پر اینٹیں بکھر گئیں جن سے سڑک پر آنے جانے والوں کو شدید پریشانی کا سامنا رہا۔
بکھر گیا