جنوبی وزیرستان میں مزید 23 شدت پسند جاں بحق‘ متاثرین کی واپسی شروع‘ 82 خاندان سوات پہنچ گئے

14 جولائی 2009
وانا + سوات + پشاور (بیورو رپورٹ + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) جنوبی وزیرستان میں سروکئی کے نواحی علاقہ اور دیگر مقامات پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی اور کوٹ کائی میں بمباری سے 23 شدت پسند جاںبحق ہو گئے۔ سکول میں قائم اہم مرکز تباہ کر دیا گیا۔ دریں اثناء متاثرین مالاکنڈ کی واپسی کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے پولیٹیکل حکام کے مطابق میر علی‘ میرانشاہ‘ شوال‘ مٹہ خیل اور غلام خان کے علاقوں میں رات 10 بجے سے پیر کی صبح 6 بجے تک کرفیو رہا‘ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ایف سی قلعہ پر حملے کے بعد قمبرخیل میں گولہ باری سے شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے‘ 11 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 6 عسکریت پسند جاں بحق اور 10 شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین نے بتایا کہ پیر کو صبح سات بجے کے قریب وانا ٹانک روڈ پر رستم اڈہ وانا سے کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سور پل سکیورٹی چیک پوسٹ پر مقامی عسکریت پسندوں نے خود کار اور بھاری اسلحہ سے حملہ کر دیا۔ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کر کے عسکریت پسندوں کو گھیرے میں لے لیا۔ فائرنگ کے تبادلے سے چھ عسکریت پسند ہلاک اور دس شدید زخمی ہو گئے۔ باجوڑ کے علاقوں چہارمنگ اور دیگر مقامات پر سکیورٹی فورسز نے گولہ باری کرکے شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کر دئیے۔ وقت نیوز کے مطابق کوٹ کائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی کگئی‘ جس سے 6 شدت پسند جاںبحق ہو گئے۔ شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے ہیں۔ سوات کے علاقہ ہری کوٹ میں سکیورٹی فورسز نے غیر علانیہ کرفیو نافذ کرنے کے بعد مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ گھروں سے باہر آئے تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔ سوات اور دیر میں چھاؤنیاں قائم کرنے کے لئے ابتدائی مرحلہ میں سٹرکچر تیاری کا کام شروع کر دیا گیا ہے‘ سوات ایئربیس کو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا درجہ دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کنٹونمنٹس بورڈ کے قیام کے بعد 30 ہزار مقامی افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لئے کوٹہ مختص کیا جا رہا ہے‘ درہ آدم خیل کے علاقہ اخوردال میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان کے نائب کمانڈر مولوی رفیع اللہ 4 ساتھیوں سمیت گرفتار ہو گئے۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر متاثرین مالاکنڈ کی واپسی کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا‘ سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں نوشہرہ کے جلوزئی کیمپ اور چارسدہ کے سلیم شوگر مل کیمپ سے دو قافلے سوات کے علاقے بری کوٹ کیلئے روانہ ہوئے۔ پہلے قافلے میں 13 بسیں‘ 10 ٹرک اور 120 خاندان شامل تھے جبکہ دوسرا قافلہ 70 خاندانوں پر مشتمل تھا۔ قافلوں کے آگے پیچھے سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں‘ فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے‘ قافلوں کے راستے میں مکمل کرفیو نافذ تھا۔ مجموعی طور پر 82 خاندان سوات پہنچے ہیں۔ قافلوں کی روانگی کے موقع پر متاثرین نے ڈیبٹ کارڈ نہ ملنے پر احتجاج کیا تاہم بعد میں حالات معمول پر آنے کے بعد قافلوں کو روانہ کیا گیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر ہوتی اور عبدالستار ایدھی نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری شروع سے خواہش تھی کہ متاثرین کی جلد از جلد واپسی ہو۔ مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کے حوالے سے کہا کہ آخری شدت پسند کے خاتمہ تک جاری رہے گا۔ متاثرین کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔ ادھر چیئرمین سپیشل سپورٹ گروپ لیفٹیننٹ جنرل ندیم نے کہا ہے کہ متاثرین کی واپسی 45 دنوں میں مکمل ہو جائے گی تاہم یہ عرصہ حتمی نہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واپسی میں تاخیر سے نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ متاثرین کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائیں گے‘ شدت پسند واپسی کے عمل میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 5 فیصد مکان تباہ ہوئے جن کے مالکان کو معاوضہ دیا جائیگا جبکہ سوات میں سویلین سیٹ اپ مستحکم کیا جا رہا ہے۔ 2 کی بجائے 7 تحصیلیں اور تھانوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 15 کی جائیگی۔ واپس جانے والے ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی امدادی رقم فراہم کرینگے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سوات کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 4 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا اور مشین گنوں سمیت بھاری اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی سوات کے مختلف علاقوں کو روانگی کا آغاز ہو گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے سوات کے علاقوں مٹہ اور شاہدونسہ میں سرچ آپریشن کیا، پانچ بڑے اور بعض چھوٹے دیہات کی تلاشی کے دوران تین چھوٹی مشین گنیں، دو پستول ایک رائفل اور دھماکہ خیز مواد قبضہ میں لے لیا۔ سکیورٹی فورسز نے وادی اترور میں کالام کے نزدیک کنڈلا گائوں میں سرچ آپریشن کے دوران دو دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے دو مشین گنیں اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا۔ ایک مشین گن، تین پسٹلز اور ایک رائفل برآمد کر لی۔ سکیورٹی فورسز نے شانگلہ کے علاقے کالاگئی میں سرچ آپریشن کے دوران خانزادہ نامی دہشت گرد کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سوات اور مالاکنڈ ڈویژن سمیت دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی اپنے علاقوں میں باعزت اور محفوظ واپسی کیلئے حکومت نے تمام ممکنہ اقدامات کئے ہیں اور ان علاقوں میں امن وامان اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے، سکیورٹی فورسز متاثرین کی واپسی کے دوران آمدورفت کے تمام راستوں کی مکمل حفاظت کریں گی۔ وہ پیر کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں ذرائع ابلاغ کو متاثرین کی بحالی اوران کی اپنے گھروں میں واپسی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والوں کی محفوظ اور باعزت واپسی کیلئے حکومت نے جامع اور تمام ممکنہ اقدامات کئے ہیں۔ اپنے گھروں کو واپس جانے والوں کی سکیورٹی کیلئے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن سمیت دیگر علاقوں کے راستوں پر مناسب تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ واپس جانے والوں کو ایک ماہ کا راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل 30 سے 40 روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔ سوات میں لنڈا چیک پوسٹ پر استقبالیہ کیمپوں سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بشیر بلور نے کہا کہ دہشت گردوں کے مظالم اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔