زرداری کا نوازشریف کو فون‘ جلد ملاقات پر اتفاق : متاثرین مالاکنڈ کی امداد پر شکریہ ادا کیا

14 جولائی 2009
لاہور + اسلام آباد (سلمان غنی سے + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری نے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو فون کیا ہے جس میں اہم قومی ایشوز پر بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے ملک کو درپیش داخلی و خارجی مسائل سے نکالنے کے حوالے سے جلد ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی‘ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کے بعد طے پایا کہ مسائل کے سیاسی حل کیلئے فیصلے پارلیمنٹ میں ہونگے۔ طے شدہ آئینی امور پر پیشرفت کی جائیگی‘ ایوان صدر سے آنے والی کال میں صدر نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو نواز شریف نے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل صورتحال میں ہماری ملاقاتیں بامقصد ہونی چاہئیں۔ قوم کو منتخب حکومت اور قیادت سے بہت سی توقعات ہیں جس کے لئے ان کے اعتماد پر پورا اترنا بہت ضروری ہے جس پر صدر زرداری نے اہم معاملات پر انہیں حکومتی پالیسی اور اس ضمن میں ہونے والے اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر زرداری اور نواز شریف کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ صدر نے ملکی معاملات پر ملاقات کی ضرورت پر زور دیا تو نواز شریف نے کہا کہ میں اس کیلئے حاضر ہوں میرے نزدیک قومی معاملات اور مفادات سے زیادہ کچھ اہم نہیں۔ البتہ بعض حکومتی معاملات پر نواز شریف نے اپنے تحفظات ظاہر کئے۔ صدر زرداری اور نواز شریف کے درمیان ملاقات آئندہ چند روز میں رائیونڈ میں ہو گی جس کیلئے نواز شریف نے انہیں دعوت دی ہے۔ یاد رہے کہ ایک دو روز قبل وزیراعظم گیلانی نے بھی نواز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو کرکے ان سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے میاں محمد نواز شریف سے فون پر بات چیت میں مالا کنڈ ڈویژن کے متاثرین کی امداد پر نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق آصف علی زرداری کا نواز شریف سے یہ رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایوان صدر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعلقات کے حوالے سے برف پگھلے گی دونوں رہنمائوں میں مجوزہ ملاقات کے نتیجے میں اہم قومی معاملات پر بریک تھرو کا قوی امکان ہے۔ متاثرین مالاکنڈ کے ایشونے دونوں رہنمائوں کو قریب کر دیا ہے ۔یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد دونوں رہنمائوں کے درمیان یہ پہلا براہ راست اور باضابطہ رابطہ ہے۔ لانگ مارچ سے قبل دونوں رہنمائوں میں رابطے تھے مگر عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے بعد تعطل پیدا ہوا۔ دیگر اطلاعات کے مطابق دونوں رہنمائوں نے ملکی مجموعی سیاسی صورتحال سمیت داخلی سلامتی ،نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا،ترجمان ایوان صدر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جلد ملاقات پر بھی اتفاق کیا، ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے آپریشن راہ راست کی حمایت اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر مسلم لیگ(ن) کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا صدر زرداری نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے جمہوریت کی جدوجہد میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا اب بھی ہم جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے مل کر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں، نواز شریف نے صدر زرداری کے ٹیلی فون پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم لیگ(ن)قومی سلامتی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے حکومت کی حمایت جاری رکھے گی، ملاقات میں دیگر سیاسی معاملات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دیگر ذرائع کے مطابق بات چیت نصف گھنٹہ جاری رہی۔ صدر زرداری نے تیل کی قیمتوں کے معاملے اوردیگر مسائل کے حل کیلئے نواز شریف سے تعاون مانگا۔ نواز شریف نے جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی مسائل کے حل‘ پارلیمنٹ کی خود مختاری کیلئے میثاق جمہوریت پر عمل کا پھر مطالبہ کیا۔
اسلام آباد (ایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ متاثرین مالاکنڈ کی بحالی بڑا چیلنج ہے‘ عوام کے تعاون اور مدد سے اس میں ضرور سرخرو ہونگے۔ تمام سیاسی جماعتوں عوام اور عالمی امدادی اداروں کی جانب سے ریلیف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور تعاون پر ان کے مشکور ہیں ۔ مشکل وقت میںثابت قدم رہ کر قوم نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم ہرچیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ متاثرین کی بحالی میں سرگرمی سے حصہ لینے والی تنظیموں‘ سول سوسائٹی کے ارکان کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہاکہ پاکستان تاریخ کے مشکل اور فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے ۔ جہاں کئی چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے نئی سمت کا تعین کرنا ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن کے نتیجے میں بیک وقت لاکھوں افراد کی نقل مکانی ایک بڑا چیلنج تھا۔ لیکن قوم تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت نے اس مشکل کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ ہم مل کر ہر قسم کی مشکل اور بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ملک ہمارے آبائو اجداد اور شہداء کی امانت ہے جس کی حفاظت اور اس کو دہشتگردی سے پاک ایک ترقی یافتہ ملک بنانا پوری پاکستانی قوم کا فریضہ ہے۔ صدر نے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لئے حکومت پنجاب اور عوام کیخدمات مثالی ہیں۔ پاکستان دنیا کے لئے دہشتگردی کے خلاف بر سر پیکار ہے اور اس کے خاتمے کے لئے پاکستان کو امداد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما کو دعوت دی ہے کہ وہ آئندہ ستمبر میں ہونے والی فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس میں شرکت کریں۔ صدر نے ڈونرز ممالک عالمی برادری اور سول سوسائٹی پر زور دے کر کہا کہ وہ امداد کا دائرہ بڑھائیں۔ گیلانی نے کہاکہ آپریشن راہ راست کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور قوم کے تعاون کے ساتھ ہم اس میں ضرور سرخرو ہونگے۔ دہشتگردی کے خلاف فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی نقل مکانی مشکل محاذ تھا۔ تاہم سول سوسائٹی عالمی امدادی اداروں اورپوری پاکستانی قوم کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا اور ہر ممکن تعاون کیا۔ متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو ایک بڑا چیلنج ہے لیکن پراُمید ہیں کہ عوام کے تعاون سے ہم ضرور سرخرو ہونگے۔ مالاکنڈ کے متاثرہ علاقوں کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا صوبائی حکومت نے فوج اور سپیشل سپورٹ گروپ کی مدد سے انفراسٹرکچر کو جزوی طور پر بحال کیا ہے۔ انہوں نے این جی اوز‘ سپیشل سپورٹ گروپ کی کارکردگی کو سراہا۔ صدر زرداری نے کہا ہے کہ متاثرین کی بحالی مشکل مرحلہ ہے۔ نجکاری کمشن کو بریفنگ کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ اداروں کی کارکردگی بڑھانے کے لئے ملازمین کو نفع اور انتظامی امور میں حصہ دار بنایا جانا چاہئے‘ پاکستان دنیا کے لئے دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر نے کہاکہ اداروں کی مراعات پیش کرنے والی انتظامیہ افرادی قوت کو زیادہ کام کرنے اور زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی طرف راغب کرتی ہے‘ کارکنوں کی شرکت سے نہ صرف شرح نمو میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اثاثوں کا تحفظ بھی یقینی ہوتا ہے۔ وزیر نجکاری سید نوید قمر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اس سکیم کے تحت ایسے چھیاسی اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں کارکنوں کو حصہ دار بنایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر کارکنوں کو اداروں میں حکومتی حصص کا 12فیصد دیا جائے گا جس میں مستقبل میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔