A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

اربوں کی کرپشن : ضلعی ناظمین‘ انتظامیہ‘ ٹھکیداروں کیخلاف ریفرنسز اینٹی کرپشن کو بھجوا دیئے گئے

14 جولائی 2009
لاہور (احسان شوکت سے) ضلعی حکومتوں میں ہونے والی اربوں روپے کرپشن کی چھان بین کے بعد اس میں ملوث ناظمینضلعی انتظامیہ و ٹھیکیداروں کے گرد شکنجہ کسنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں محکمہ بلدیات نے 19اضلاع‘ بلدیاتی اداروں میں 85کروڑ روپے کرپشن کے 58ریفرنسز مکمل ثبوتوں کے ساتھ کارروائی کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوا دئیے ہیں۔ جس پر سرگودھا میں کرپشن کے تین ریفرنسز پر گذشتہ روز مقدمات کے اندراج کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں جبکہ مرحلہ وار دیگر ریفرنسز پر مقدمات درج کئے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ان ریفرنسز کے مطابق ملتان ضلعی حکومت میں کرپشن کے 21ریفرنسز بھیجے گئے ہیں جبکہ راولپنڈی کے 5‘ سرگودھا کے 6‘ اوکاڑہ کے 5‘ ننکانہ کے 4‘ قصور کے 2‘ سانگلہ ہل کا ایک‘ گوجرانوالہ کے 2‘ سیالکوٹ کے دو‘ منڈی بہاء الدین کے 2‘ گجرات کے 2‘ فیصل آباد کے 3‘ گجرات کے 2‘ بہاولنگر کے 2‘ بہاولپور کا ایک اور رحیم یار خان ضلعی حکومت میں کرپشن کا ایک ریفرنس شامل ہے جس پر محکمہ اینٹی کرپشن حکام نے گذشتہ روز سرگودھا کے سب انجینئر ہائی وے شفقت لطیف کے خلاف 8کروڑ 63لاکھ 5ہزار روپے کے کرپشن کے ریفرنس کو دوبارہ انکوائری کے لئے بھجوا دیا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ آفیسر لائیو سٹاک خوشاب کے خلاف 50لاکھ روپے کرپشن اور ایک سی سی بی کے چیئرمین وحید و دیگر کے خلاف 10لاکھ 78ہزار روپے کی کرپشن اور ضلعی حکومت کی ملی بھگت سے 18لاکھ روپے 30 ہزار روپے کرپشن و خوردبرد کے تین ریفرنسز پر مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ دیگر ریفرنسز جن پر مقدمات درج کئے جائیں گے ان میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اوکاڑہ میں سال 2008ء کے دوران ادویات کی خریداری اور ٹرانسپورٹ کی مد میں 12کروڑ 98لاکھ 62ہزار روپے کی خوردبرد سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میانوالی میں مشینری کی خرید و فروخت میں 8کروڑ 63لاکھ 50ہزار جبکہ ہائی وے کی تعمیر میں 8کروڑ 63لاکھ روپے کے گھپلے‘ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اوکاڑہ میں لائیو سٹاک سپورٹ سروسز کی مد میں 9کروڑ 89لاکھ 40ہزار روپے‘ سٹی ڈسٹرکٹ بہاولنگر میں سٹیزن کمیونٹی بورڈ (سی سی بی) کی طرف سے 2کروڑ 51لاکھ 51ہزار جبکہ سال 2005-08ء کے دوران تعمیراتی کاموں میں 3کروڑ 70لاکھ 51ہزار روپے‘ قصور میں سڑکوں کی تعمیر‘ پانی کی سکیموں اور دیگر ترقیاتی کاموں کی مد میں سال 2006-07ء کے دوران 3کروڑ 41لاکھ 99ہزار روپے اخراجات کا ریکارڈ نہ رکھنا۔فیصل آباد میں 1کروڑ 70لاکھ 16سکیموں کے لئے کمیونٹی بورڈ کو جاری کرنا‘ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ جہلم کی جانب سے پنڈی بھٹیاں روڈ کی تعمیر میں 1کروڑ 71لاکھ روپے کا نقصان‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ سٹی گورنمنٹ کی جانب سے ہسپتالوں میں بیڈز کی خریداری میں 80لاکھ روپے زیادہ فنڈ جاری کرنا‘ مظفر گڑھ سٹی گورنمنٹ ٹول ٹیکس کی مد میں 1کروڑ 91لاکھ 17ہزار روپے‘ ساہیوال بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں 1کروڑ 20لاکھ3ہزار روپے کے اخراجات‘ مظفر گڑھ میں 1کروڑ 57لاکھ 71ہزار کے مشکوک اخراجات ظاہر کرنا‘ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ خانیوال کی جانب سے بوگس خریداری پر 1کروڑ 24لاکھ80ہزار روپے کے اخراجات ‘ سیالکوٹ میں 1کروڑ 30لاکھ 23ہزا ر سڑک کی تعمیر کی مد میں‘ سیالکوٹ میں 1کروڑ 81لاکھ 55ہزار روپے سڑک کی تعمیر کی مد میں ایڈوانس رقم جاری کرنا‘ منڈی بہائو الدین میں 1کروڑ 9لاکھ 89ہزار روپے وی وی آئی پی شخصیات کے دوروں کی مد میں خرچ کرنا‘ سٹی گورنمنٹ راولپنڈی کا 2کروڑ 97لاکھ 77ہزار روپے تعمیرات کی مد میں جبکہ سال 2006-08ء میں 5کروڑ 1لاکھ روپے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کا وصول نہ کرنا شامل ہیں۔ اسی طرح محکمہ اینٹی کرپشن حکام کو بھجوائے گئے تمام ریفرنسز ثبوتوں کے ساتھ بھجوائے گئے ہیں جس پر مرحلہ وار مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دیگر اضلاع کے ضلعی ناظمین و اداروں کی کرپشن کے ریفرنسز تیار ہیں جوکہ جلد کارروائی کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوائے جائیں گے اور اس سلسلہ میں حکومت نے متعلقہ محکموں کو واضح احکامات جاری کر دئیے ہیں۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...