میاں چنوں : مدرسے میں دھماکہ‘ گائوں تباہ‘ 15 جاں بحق‘ 75 زخمی

14 جولائی 2009
میاں چنوں : مدرسے میں دھماکہ‘ گائوں تباہ‘ 15 جاں بحق‘ 75 زخمی
میاں چنوں + خانیوال (نامہ نگاران + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) میاں چنوں کے نواحی گاؤں 15.129ایل میں واقع دینی مدرسہ میں خوفناک دھماکے سے 15 افراد جاںبحق اور 75 زخمی ہو گئے۔ نیوز ایجنسی آن لائن کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 25 سے 35 کے درمیان ہے۔ انتہائی خوفناک اور زوردار دھماکہ کے نتیجے میں گاؤں تباہ ہو گیا۔ اور 150 سے زائد مکان مکمل طور پر تباہ جبکہ باقی گھر بھی شدید متاثر ہوئے اور علاقے میں قیامت صغریٰ برپا ہو گئی۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سانحہ کے فوراً بعد تمام شہر سوگ میں بند ہو گیا۔ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد بھی شامل ہیں‘ بتایا جاتا ہے کہ تلمبہ روڈ پر واقع گائوں میں محمد ریاض نے اپنے گھر میں مدرسہ قائم کیا ہوا تھا جس میں اس کی بہنیں بچوں کو دینی تعلیم دیتی تھیں اور اس مدرسہ میں گائوں کے 100 سے زائد بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق مدرسہ کے ساتھ واقع گھر میں دہشت گردی کیلئے غیر محسوس انداز میں خطرناک اسلحہ اور بارود جمع کیا جا رہا تھا جس میں راکٹ لانچر، ہینڈ گرنیڈز اور خودکش جیکٹس بھی شامل تھیں۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق آسمان کی جانب سے کوئی چیز اس گھر پر آ کر گری جس سے خوفناک دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس سے اس جگہ پر 8 سے 10 فٹ گہرا اور 30 فٹ سے زائد چوڑا گڑھا پڑ گیا اور اس کی آواز خانیوال اور 40 کلومیٹر دور تک سنی گئی‘ گاؤں کی ایک مسجد شہید ہو گئی دوسری کو بھی شدید نقصان پہنچا اور تمام قریبی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے گائوں کو گھیرے میں لے لیا‘ گائوں کے لوگوں نے بتایا کہ ریاض اور اس کی بہنیں کافی عرصہ سے یہ مدرسہ چلا رہی تھیں‘ تاہم کسی کو یہ شک نہیں تھا کہ وہ کسی طرح کی تخریبی کارروائیوں میں بھی ملوث ہو سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی ایم این اے پیر محمد اسلم بودلہ‘ تحصیل ناظم پیر شجاعت حسنین قریشی‘ نائب تحصیل ناظم پیر عباس علی شاہ تقریباً 6 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ڈی سی او قاضی اشفاق بھی بہت تاخیر سے پہنچے۔ گاؤں کے لوگ ریسکیو اور پولیس کے تاخیر سے پہنچنے پر مشتعل ہو گئے اور انہوں نے پولیس کے خلاف زبردست نعرے لگائے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی خانیوال شاہد نیاز نے لاٹھی چارج کرنا چاہا تو عوام مزید مشتعل ہو گئے اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈی پی او اور دوسرے اہلکاروں نے بھاگ کر جانیں بچائیں تاہم ڈی ایس پی شاہد نیاز عوام کے ہتھے چڑھ گئے اور وہ تشدد سے زخمی ہو گئے۔ مشتعل مظاہرین نے مین شاہراہ کو بلاک کر دیا جبکہ پٹڑی پر دھرنا دیا جس سے ٹرین سروس معطل ہو گئی۔ اسی دوران شاہ شمس ایکسپریس آئی جس کو روک لیا گیا اور مظاہرین نے اس کے شیشے توڑ دئیے جبکہ ٹرین ڈرائیور کو مار مار کر شدید زخمی کر دیا۔ مظاہرین نے تھانہ سٹی کا گھیراؤ کیا اور ڈی ایس پی کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔ مشتعل مظاہرین نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے خلاف بھی نعرے لگائے جو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔ صدر زرداری‘ نوازشریف‘ شجاعت حسین‘ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال‘ رانا آفتاب احمد‘ شجاعت حسین‘ پرویز الٰہی‘ عمران خان اور دیگر نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے‘ وزیراعظم گیلانی نے واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے‘ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے شہباز شریف کی ہدایت پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ کوئی خودکش بم دھماکہ نہیں تھا بلکہ گھر میں رکھا ہوا دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے یہ دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا سوات آپریشن کا ردعمل ہے۔ اے پی پی کے مطابق انہوں نے شہباز شریف کی ہدایت پر سانحہ میاں چنوں کے متاثرین کی بحالی کیلئے ڈی سی او خانیوال کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے جو تباہ ہونے والے مکانات کی لاگت کا تخمینہ لگا کر مالی امداد کیلئے رپورٹ کرے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر جاںبحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے تین لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کیلئے 75 ہزار روپے فی کس کی فوری امداد کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد مکان میں ہی جمع کیا گیا تھا‘ جائے وقوعہ سے راکٹ‘ خودکش جیکٹس اور دستی بم بھی برآمد ہوئے۔ سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد نے بھی میاں چنوں کا دورہ کیا اور امدادی کام کی نگرانی کی۔ جبکہ آئی جی پولیس نے کہا ہے کہ واقعہ کی تفتیش کے دوران مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ ملزم ریاض نے جو انکشاف کئے اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک تک پہنچنے میں مدد ملے گی‘ انہوں نے کہا کہ چند مشکوک لوگوں کو بھی پکڑا ہے‘ کئی زخمیوں کو ملتان بھجوایا گیا جن میں سے 2 بچے اور 55 سالہ شخص راستے میں ہی دم توڑ گئے جبکہ 4 کی حالت تشویشناک ہے‘ دھماکے سے جانور بھی بڑی تعداد میں مرے اور کئی درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔