بجھ رہی ہے روشنی کی آرزو!

14 جولائی 2009
ایوان صدر ایک بار پھر عدالت عظمیٰ کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان کے لئے بے بس و بے کس عوام عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ایوان صدر کا مکین جانے کِس’’خمار‘‘ میں مبتلا ہے؟ تو جناب ایسی ہی ’’خماری‘‘ اس سے پہلے کے مکیں کو بھی چڑھی ہوئی تھی اور آج اس کا نام لینے والا کوئی نہیں، کل اس کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہوگا جو آج تخت وتاج کا وارث بن کر بھول بیٹھا ہے کہ بھٹو کا داماد اور شہید بی بی کا شوہر ہے وہ بھٹو جو عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور وہ بی بی جس کے مخالفین بھی اب فخر سے نعرہ بلند کرتے ہیں، زندہ ہے بی بی زندہ ہے۔ یہ نعرہ ان دنوں سب سے زیادہ کس کے لئے تکلیف دہ ہے، میرے خیال میں کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں۔ حیرت اس بات پر ہے اپنی ہی خواہش اور کوششیں پر اقتدار سنبھالنے کے بعد بھٹو اور بی بی کے نام کی ’’ٹین پرسینٹ‘‘ لاج بھی اس نے نہیں رکھی اور اب تو لاج نہ رکھنے کا معاملہ ہنڈرڈ پرسنٹ تک پہنچا ہوا ہے۔ وہ پانچ برسوں کے لئے صدر منتخب ہوا ہے، امپورٹیڈ تابعداری کے نتیجے میں امید تو یہی ہے۔ عوام کو پانچ برسوں تک اس ’’عذاب‘‘ میں متبلا رہنا ہی پڑے گا، رہنا بھی چاہیے کہ ’’مکمل جمہوریت‘‘ کا خواب دیکھنے والے ’’مجرموں‘‘ کو کچھ سزا تو ضرور ملنی چاہئے۔
عدالت عظمیٰ کے وقار کی بحالی اس کی مجبوری تھی ورنہ اب کے بار وہ آنکھوں میں ’’کھلا ای کھاؤ‘ تے ننگے ای نہاؤ‘‘ کے خواب سجا کر آیا تھا۔ اقتدار کا کھیل وہ مادرِ پدر آزادی کے ’’جذبہ عظیم‘‘ کے تحت کھیلنا چاہتا تھا‘ مگر پاکستان کی ’’سترہ کروڑ بھیڑ بکریوں‘‘ نے کچھ عرصے کے لئے قوم بن کر اس کے ’’جذبہ عظیم‘‘ کو خاک میں ملا دیا۔ اب وہ بے چارہ آرڈی نینس جاری کرنے کے سوا کیا کرے؟ کہ آخری حربے کے طور پر ایسے ہتھیار استعمال کرنا حکمرانوں کی عادت ہوتی ہے۔ عوام دشمن صدارتی آرڈی نینس سابقہ باوردی حکمران نے بھی بہت جاری کئے تھے مگر کوئی آرڈی نینس اس کا اقتدار بچا سکا نہ عزت۔ اب شہید بی بی کے شوہر محترم بھی اپنے چاؤ پورے کر لیں کہ ان کے اقتدار کا بھی یہ آخری کھیل ہے۔
بدقسمتی کی بات ہے پاکستان میں کوئی حکمران اب تک ایسا نہیں آیا جس کا اقتدار دیر تک سلامت رہنے کی عوام نے خواہش یا دعا کی ہو، کاش کوئی ایسا حکمران بھی ہمارے مقدر میں لکھا جائے جس کے دیر تک اقتدار میں رہنے کی لوگ دعائیں کریں۔ اقتدار سے جو رخصت ہو تو لوگوں کی آنکھوں میں سمندر اُتر آئیں۔ جس کے لئے دل میں اتنی عزت ہو کہ بعداز اقتدار لوگ اسے ملنا چاہئیں اس کی باتیں سننا، اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہئیں… مگر اپنی ایسی قسمت کہاں؟ ہمارے مقدر میں تو باربار آزمائے جانے والے حکمران ہی لکھے ہیں۔ بار بار آزمائے جانے والے ایک حکمران کا اقتدار ختم ہو جاتا ہے تو دوسرے کا شروع ہوجاتا ہے۔ باہر سے یہ ایک ہوں نہ ہوں اندر سے سب ہی ایک ہیں۔ ایک ہی مشن ہے سب کا کھاؤ پیئو موج اُڑاؤ اور پسے ہوئے عوام کو اور پیسو۔!
عدالت عظمیٰ نے تیل کی قیمتیں کم کرکے اپنی عزت میں جو اضافہ کیا، کاش اپنی عزت میں ایسا اضافہ جمہوری حکمرانوں نے عوام کے مفاد میں خود کیا ہوتا مگر حکمرانوں کی کوئی عزت ہو تو اس میں اضافہ کریں ناں۔ اضافہ صرف ان کے اثاثوں میں ہوتا ہے اور اتنا ہوتا ہے کہ عوام غریب سے غریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور حکمرانوں میں سے کوئی تیسرے نمبر کا دولت مند ہوا جاتا ہے تو کوئی دوسرے نمبر کا، اول نمبر کے عوام دُشمنوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آرڈی نینس جاری کرکے اپنے پاؤں پر جو کلہاڑا مارا ہے، اس کے نتیجے میں ان کا دھڑ سلامت رہتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، مگر سوچنے کی بات ہے عوام دوستی کے نام پر عوام دشمنی کرنے والوں پر اعتماد کرنے کا ’’ جہاد‘‘ عوام کب تک کرتے رہیں گے؟ سوچنے کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں، جب تک سوچی نہیں جائیں گی اور ان پر عمل نہیں کیا جائے گا ایسا طوفان ہرگز نہیں اٹھے گا عوام دشمن سیاسی وغیر سیاسی اور باربار باری لینے والے حکمرانوں کو جو بہا کر لے جائے۔ عدلیہ کے ساتھ پنگے لینے والوں کے مقدر میں پہلے بھی رسوائی لکھی تھی، صورتحال اب بھی مختلف نہیں ہو گی۔ افسوس کا مقام یہ ہے عوام دوستی اور جمہوریت کے نام پر اقتدار میں آنے والے عوام اور جمہوریت کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں کہ فوجی آمروں کا قد اُن سے پستہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ شہید بی بی کے شوہر نامدار اور شہید بھٹو کے دامادِ محترم سے گزارش ہے خدارا ایسے اقدامات نہ کریں کہ سابقہ عوام دشمن اور امریکہ کی غلامی پر فخر کرنے والے ’’پاکستانی حکمران‘‘ کو پاکستانی عوام پھر سے یاد کرنے لگیں۔
گر ایسے ہوا تو بہت بڑا سانحہ ہوگا!