آل انڈیا مسلم لیگ سے ق لیگ تک!

14 جولائی 2009
قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے تحریک پاکستان چلائی اس مخلص ‘ بے باک‘ نڈر زیرک اور دیانتدار قائد پر برصغیر کے مسلمانوں نے اعتماد کیا اور آل انڈیا کانگرس اور اس کے حمایتی علما کے بڑے بڑے جلسوں کے باوجود مسلم ووٹرز نے مسلم لیگ اور پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان بن گیا تو فوری طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کی بجائے پاکستان مسلم لیگ کے نام سے جماعت کی نئی شناخت قائم کر دی گئی جس کے صدر بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور سیکرٹری جنرل شہید ملت خان لیاقت علی خاں تھے قائداعظم اور لیاقت علی خاں کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ میں دھڑے بندیوں اور تقسیم کا عمل شروع ہو گیا۔ پنجاب میں دولتانہ اور ممدوٹ گروپ کی رسہ کشی تو تاریخ کا مشہور باب ہے۔ مگر تمام تر سازشوں اور بے اصولیوں کے باوجود مسلم لیگ کے نام میں ایک کشش ضرور موجود رہی۔ چنانچہ جنرل ایوب خان نے جب ملک میں جمہوری بساط لپیٹ کر فوجی آمریت کی بنیاد رکھی تو ان کو بھی مسلم لیگ کے نام میں ایک چاشنی اور سہارا محسوس ہوا اور انہوں نے کچھ پرانے مسلم لیگیوں کو اکٹھا کیا پاکستان مسلم لیگ کے نام سے ایک جماعت بنالی جس کے خود صدر بن گئے اور راجہ حسن اختر سیکرٹری جنرل بنا دئیے گئے لیکن ان کی مسلم لیگ کو کنونشن لیگ کا نام دیا گیا جبکہ اس وقت اپوزیشن میں میاں ممتاز دولتانہ‘ محمد حسین چٹھہ اور اس طرح کے تو اور لوگ موجود تھے اور انہوں نے بھی پاکستان مسلم لیگ کا اپنا دھڑا برقرار رکھا۔ تاہم ان کے دھڑے کو کونسل مسلم لیگ کا نام دیا گیا ہے۔ اسی دوران سرحد کے مرد آہن خان عبدالقیوم خاں نے اپنا مسلم لیگ کا الگ گروپ قائم کر لیا۔ بھٹو حکومت کے زوال اور خاتمے کے بعد جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آئے تو پھر ایک نئی مسلم لیگ تشکیل پا گئی۔ اس سے پیرصاحب پگارا الگ ہوئے تو انہوں نے فنکشنل مسلم لیگ کے نام سے الگ گروپ بنا لیا جبکہ باقی ماندہ جونیجو لگی کہلانے لگی جونیجو صاحب کی وفات کے بعد پھر دو حصے بن گئے اور ایک بڑے حصے کے سربراہ میاں محمد نوازشریف بن گئے۔ ان کی حکومت کا دوسرا دور جنرل مشرف نے ختم کیا اور اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کر لی۔ مگر ان کو بھی مسلم لیگ کے نام میں ہی عافیت محسوس ہوئی۔ اس کے لئے ان کا اپنا گھوڑا میاں محمد اظہر تھا مگر بہت جلد وہ منظر سے غائب ہو گئے اور چودھری برادران کا سیاسی خاندان ہی مسلم لیگ کی شناخت بن گیا۔ تاہم اس دوران مسلم لیگ نواز اور دیگر گروپ بھی قائم رہے۔ جنرل مشرف کے سیاہ دور کے خاتمے کی بنیاد 18 فروری 2007ء کے انتخابات کے رکھ دی کیونکہ ان انتخابات میں جنرل مشرف کے حامی گروپ کے وزیر قانون وصی ظفر‘ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرا فگن خاں نیازی وغیرہ کے برج الٹ گئے۔ سیاسی بدنامیوں کے باوجود چودھری برادران کی لابی کے بہت سے سیاستدان
کامیاب ہو کر قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔ جنرل مشرف کے سیاسی منظر سے مکمل طور پر غائب ہو جانے کے بعد مسلم لیگ ق کے بعض ارکان پی پی پی سے مل کر اقتدار میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ لیکن چودھری شجاعت اس کے لئے اصولی طور پر تیار نہ تھے۔ اس لئے چودھری برادران کی مخالفت شروع کر دی گئی۔ ان مخالفین میں حامد ناصر چٹھہ‘ ہمایوں اختر‘ سلیم سیف اللہ اور کشمالہ طارق پیش پیش تھے۔ لیکن وہ مسلم لیگ ق کے اندر چاروں اکیلے اکیلے رہے اور ان کا کوئی قابل ذکر گروپ قائم نہ ہو سکا۔ البتہ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات نے ان کو لیڈر ظاہر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہ باغی گروپ مسلم لیگ ق کے الیکشن ملتوی کرانے اور چودھری برادران کو امیدوار نہ بننے کا مطالبہ کرتا رہا۔ لیکن ان کا مطالبہ تسلیم نہیں ہوا اور 10 جولائی 2009ء کو مسلم لیگ ق کے چاروں صوبوں کے الیکشن مکمل ہو گئے اور چودھری برادران کی لابی ان انتخابات میں مکمل طور پر کامیاب رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم لیگ کا ایک گروپ اقتدار اور اقتدار کی امید سے دور ہونے کے باوجود اب تک قائم ہے۔ یقیناً یہ چودھری شجاعت کی قیادت کا جادو ہے کہ مسلم لیگ ق اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے اب میاں برادران کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ اور مسلم لیگ کے اتحاد کی راہ نکالنی چاہئے اور مسلم لیگ (ق) کی تحلیل کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ ستاروں کی روشنی میں ستارہ مشتری 30 جولائی کو زحل میں داخل ہوگا جس کی وجہ سے حکمرانوں کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں 22 جولائی کے سورج گرہن کے منفی اثرات پڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔