منگل 14 جولائی 2009 ء

14 جولائی 2009
بھارت نے کہا ہے‘ پاکستان جامع مذاکرات سے قبل انتہا پسندی ختم کرنے کا وعدہ پورا کرے۔
بھارت نے چونکہ جامع مذاکرات نہیں کرنے‘ اس لئے وہ پانی گدلا کر رہا ہے۔ انتہا پسندی کیخلاف پورے ملک میں کارروائی کی جارہی ہے‘ اس سے آگے موہن پیارے کیا چاہتے ہیں۔ پاکستان اپنا سب کچھ دائو پر لگا کر امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کی تسلی کیلئے بہت کچھ کر رہا ہے‘ مگر امریکہ اور اسکے گٹھ جوڑ ساتھی مسلسل ’’ڈومور‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ اب کسی جگہ لکیر کھینچ دے اور باور کرائے کہ پاکستان اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتا۔ تب جا کر یہ امریکہ اور اسکے جگری یاروں کی ڈکٹیشن ختم ہو گی۔
پاکستان بھی ایران جیسی سٹریٹجی اختیار کرے‘ پھر سب خیر ہے چونکہ پاکستان ہر بات پر یس سر کہتا چلا آرہا ہے‘ اس لئے اسکی سرزمین کو شارع عام سمجھ لیا گیا ہے۔ طالبان کو یقین ہو چکا ہے کہ انکو ختم کرنے کیلئے پاکستان مکمل طور پر امریکہ کا پرزہ بنا ہوا ہے‘ اس لئے اب پاکستان سے لڑنا بھی جہاد ہے۔ اگر ہم نے ابتداء ہی سے امریکہ کے سامنے اس جنگ میں شمولیت اختیار نہ کی ہوتی اور نیوٹرل فورس کی طرح ایکٹ کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ مشکوک گاڑیوں کے نمبروں کی لسٹ اہم عمارتوں کے مرکزی دروازوں پر آویزاں کردی گئی ہے۔
یہ خبر ایسی مضحکہ خیز ہے کہ جس پر جتنا ہنسا جائے کم ہے۔ اگر مشکوک گاڑیاں علم میں آچکی ہیں تو انہیں بند کر دیں‘ کیا کسی ایسی گاڑی کی آمد کی اطلاع دی جائیگی اور اہم عمارتوں والے اس گاڑی کے نمبر کو دیکھ کر خود کو بچا سکیں گے؟ یاد رہے کہ دہشت گردی کرنے والے ان گاڑیوں میں تو ہرگز سفر نہیں کریں گے جو ہمارے خفیہ اداروں نے معلوم کرکے لسٹ فراہم کر دی ہے۔ یہ کام تو انتہائی رازداری کا ہے اس کو یوں مشتہر کرنے سے خود دہشت گردوں کو فائدہ ہو گا۔
یہ مشکوک گاڑیوں کا معاملہ یوں طشت ازبام کرنا آخر کونسی سٹریٹجی کے مطابق ہے۔ دھماکے‘ حملے کرنے والے اپنے طور پر حکومت پاکستان کی اور اسکے اداروں کی کارکردگی کا اندازہ لگا چکے ہیں‘ اس دیدہ دلیری کے ساتھ وہ یکے بعد دیگرے دھماکے کر رہے ہیں۔ یہ کوئی بچائو کی تدبیر نہیں کہ خفیہ ادارے مشکوک گاڑیوں کا تعارف کرا رہے ہیں اور کیا انکی فہرست آویزاں کرنے کے بعد دہشت گرد ان مشکوک گاڑیوں میں واردات کریں گے؟؟
٭…٭…٭…٭
صدر زرداری نے کہا ہے‘ پاکستان کو امن کا گہوارہ‘ لبرل اور ترقی یافتہ ملک بنا کر دم لیں گے۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پاکستان کی بابت جن خیالات کا اظہار کیا ہے‘ وہ عین ہر محب وطن کے دل کی آواز ہے۔ اس میں شک نہیں کہ صدر محترم پاکستان کو ایک آئیڈیل ریاست بنانا چاہتے ہیں‘ اس لئے اہل وطن کو حکومت کی مجبوریاں بھی پیش نظر رکھنی چاہئیں۔ یہ ایک اچھا شگون ہے کہ ملک میں جمہوریت قائم ہے‘ اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ زرداری صاحب کے سرپر جو ذمہ داریاں آن پڑی ہیں‘ اہل وطن کو اس کا اندازہ کرنا چاہئے۔ یہ بہت مشکل گھڑی ہے کہ حکومت کو ایک طرف جمہوریت کی حفاظت کرنا ہے اور اسکے ساتھ ہی شدت پسندوں سے نمٹنا بھی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنے منشور سامنے رکھنا چاہئے‘ کسی بھی پارٹی کی بقاء کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے منشور پر عمل کرے اور اپنے اندر تازہ ہوا کا جھونکا آنے دے۔
اس وقت زرداری صاحب ماضی والے زرداری نہیں رہے‘ ان پر ذمہ داریوں کا نیا بوجھ ہے اور ان کو بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ انہیں پارٹی کو امریکی دست برد سے باہر نکالنا بھی ہے اور پاکستان کو امریکہ نے جس طرح استعمال کیا‘ اس سے بھی نجات دلانا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ ایک مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں‘ پاکستان کو ایک آزاد خودمختار ریاست بنانے کی ذمہ داری بھی انکے شانوں پر ہے۔
اب تبدیلی کا زمانہ ہے‘ قوم کو انکے شانہ بشانہ چلنا چاہئے کیونکہ اس وقت وطن عزیز میں بہت گھٹن ہے اور اس گھٹن کو پیپلز پارٹی نے دور کرنا ہے۔ اب وہ زمانہ بھی نہیں کہ جیالے ہے جمالو کر سکیں‘ کیونکہ حالات کا تقاضہ ہے کہ سنجیدہ ماحول میں سنجیدگی کے ساتھ اپنی قیادت کے ہاتھ مضبوط کریں۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ملک میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہی اجاگر ہوئی ہیں اور پھر یہ کہ دونوں میں باہمی تعاون بھی ہے اور میاں نواز شریف ملک کے عظیم تر مفاد میں سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
اطلاعات کے وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے‘ کالاباغ ڈیم منصوبہ ختم نہیں کیا‘ لوڈشیڈنگ میں 25 جولائی تک کمی ہو جائیگی۔
آہ کالا باغ ڈیم… اگر بروقت بن گیا ہوتا تو آج نہ یہ لوڈشیڈنگ ہوتی اور نہ واٹر شیڈنگ کا وجود ہوتا۔ وزیر اطلاعات نے یہ خوشخبری سنائی کہ کالاباغ ڈیم منصوبہ ختم نہیں کیا اور یہ بھی فرمایا کہ 25 جولائی تک لوڈشیڈنگ میں کمی ہوجائیگی۔ کالاباغ ڈیم کو مکمل طور پر سیاسی منصوبہ بنادیا گیا ہے اور تینوں صوبوں کے عوام کو چھوڑ کر انکے سیاسی لیڈران کالاباغ ڈیم پر چیں بجبیں ہیں اور نہیں چاہتے کہ اس ملک میں بجلی عام ہو‘ پانی وافر ہو۔ کیا عوام ایسے قائدین کو اپنا قائد تسلیم کریں گے؟
بھارت نے 62 ڈیم بنائے‘ کسی ایک ڈیم کو بھی وہاں کے سیاست دانوں نے سیاسی رنگ نہیں دیا اور عوام کے مفاد کے منصوبوں پر بالکل سیاست نہ کی‘ ہمارے ہاں کالاباغ ڈیم پر ایک منافقانہ طرز عمل جاری ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...