بلدیاتی نظام اور ایگزیکٹو مجسٹریسی کی بحالی…(آخری قسط)

14 جولائی 2009
برطانیہ نے تو ایک طالع آزما کرامویل کو خلاف قانوں حکومت پر قبضہ کرنے کی سزا کے طور پر اس کے جسد خاکی کو قبر سے نکال کے پھانسی دی تھی تا کہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کی جرأت نہ ہو۔
وطن عزیز میں جس وقت اور جس طرح یہ نظام صوبوں پر ٹھونسا گیا سمجھدار لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ یہ نظام بھی اس وقت تک چلے گا‘ جب تک مشرف صاحب کی حکومت ہے بعد میں اس کا حشر بھی وہی ہو گا جو \\\" بنیادی جمہوریت\\\" کے نظام کا ہوا۔
اس نظام سے منسلک لوگوں کے علاوہ کسی نے اسے قبول نہیں کیا۔ لوگ اس سے بد ظن تھے۔ پرانے عہدے داروں کے نئے نئے نام اور اصلاحات جتنے غیر ضروری تھے‘ اتنے ہی مضحکہ خیز۔لیکن جنرل نقوی صاحب ان دنوں کسی کی سنتے ہی نہ تھے۔
ایک اور ستم ظریفی جنرل مشرف نے یہ کی کہ اس نظام کو جو کلیتاً صوبائی ہوتا ہے آئین پاکستان کے چھٹے شیڈول کا حصہ بنا کر نا ممکن کر دیا کہ صوبائی حکومتیں اس میں ترامیم بھی کر سکیں ۔
دس برس تک صدر کی پیشگی اجازت حاصل کر لینا اس کیلئے ضروری قرار دیا ۔ اگر یہ نظام اتنا ہی مقبول ، عوام دوست اور مفید تھا تو اسے اس قدر حفاظتوں کی کیا ضرورت تھی۔ عوام اور سیاست دان اسے بخوشی قبول نہ کر لیتے ؟
ایک اور فیصلہ جو مشرف حکومت نے کیا ایگزیکٹو مجسٹریسی کو ختم کر دینے کا تھا۔ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے ختم کر دیئے گئے۔ شہریوں نے افسروں کی شکایات تو ہو سکتا ہے کبھی کی ہوں بد عنوانی کی شکایات بھی بعض افسروں کے خلاف رہی ہوں گی لیکن یہ کبھی سننے میں نہیں آیا کہ عوام نے ان عہدوں کو ختم کر دینے کا مطالبہ کیا ہو۔ یہ افسرسیاسی طور پر غیر جانبدار ہوتے تھے معاشرہ کے ہر طبقہ اور ہر فکر کے لوگ ان تک پہنچ سکتے تھے اور پہنچتے تھے ۔
ہو سکتا ہے سو فیصد لوگوںکے سو فیصد مسائل حل نہ ہوئے ہوں تو بھی بہت سے لوگوں کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے تھے۔ ناظم خود کو لاکھ غیر سیاسی کہے وہ ہوتا نہیں کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے اس کا تعلق ہوتا ہے۔
پھر وہ لوگ جنہوں نے انتخاب میں اس کی مخالفت کی ہو دادرسی کیلئے کیسے اسکے پاس جا سکتے ہیں لہذا نصف آبادی کو تو ویسے ہی منہا کر دیجئے رہے وہ لوگ جنھوں نے ناظم کو ووٹ بھی دیا ان کو ناظم تک رسائی ملی؟ کتنوںکے مسائل حل ہوئے؟
اس طرح پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس ہر قسم کے \\\" چیکس اینڈبیلنس\\\" سے آ زاد ہو گئی۔ضلعی پولیس افسر ناظم کے ماتحت نہیں ہوتا۔ رسمی طور پر لاء اینڈ آرڈر میں ناظم کو باخبر رکھنے کی ذمہ داری اس کی ہوتی ہے ۔D.P.O (ضلعی پولیس افسر) R.P.O (ریجنل پولیس افسر کے ما تحت) اورR.P.O (انسپکٹر جنرل پولیس کے ماتحت) ایسے بند نظام سے پید اہو جانیوالے مسائل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پچھلے نظام میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (D.C) پولیس کے عملہ کا انچارج بھی ہوتا تھا۔ عوام پولیس کے خلاف بھی شکایات DM یا ڈی سی سے کر لیا کرتے اور بہت سے معاملات میں داد رسی ہو جاتی جو موجودہ نظام میں ممکن نہیں۔پھر سب سے افضل بات یہ کہ اگر صوبائی حکومتیں ایک ایسے معاملہ پر مختلف رائے رکھتی ہیں جوحقیقتاً اور کلیتاً صوبائی مسئلہ ہے تو ضروری ہے کہ انھیں سنا جائے اور انھیں حق دیا جائے کہ جس طرح چاہیں نظام میں تبدیلیاں کریں۔صوبائی خود مختاری ایک اہم ایشو ہے جتنی جلدی صوبائی معاملات صوبوں کے حوالے کر دیئے جائیں بہتر ہے۔وزیر اعظم نے جن فیصلوں کا اعلان بدھ کے روز کیا وہ درست فیصلے ہیں ان پر جتنا جلد عمل کیا جائے بہتر ہے۔
پنجاب میں پرانا بلدیاتی اور مجسٹریسی نظام بحال کرنے کی منظوری کا بینہ سے حاصل کر لی گئی ہے۔ پولیس آرڈر 2002 میں تبدیلی کیلئے بھی ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو چند صوبائی وزراء اور سینئر پولیس افسران پر مشتمل ہو گی۔ مجسٹریسی کی بحالی سے ضابطہ فوجداری میں بھی ترامیم کی ضرورت پڑے گی جس کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ۔
یہ فیصلے صوبائی کا بینہ کے ایک اجلاس میںکئے گئے جس کی صدارت وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کی۔بہت اچھا ہوا کہ پنجاب کی حکومت نے اس اہم مسئلہ کی طرف فوری توجہ دی۔ اُمید ہے باقی صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے حالات کے مطابق پیش رفت کریں گی۔
جنرل پرویز مشرف یوں تو \\\" منتخب\\\" صدر تھے اور انکی جماعت ق لیگ انھیں (باوردی) دس بار انتخابات لڑا کر جتوانا چاہتی تھی۔ انکے عہد میں وزیر اعظم بھی تھے۔ کابینہ بھی تھی اور سب سے بڑھ کر پارلیمنٹ بھی تھی لیکن ان اداروں کی جو حیثیت تھی سب پر آشکار ہے ۔ عدلیہ کا تقدس اور احترام جو جنرل مشرف کی نگاہ میں تھا‘ کل عالم پربہت تکلیف دہ انداز میںظاہر ہوا۔
بیک قلم اعلیٰ عدلیہ کے 60 سے اوپر جج صاحبان کو برخواست کر دینا، چیف جسٹس پاکستان کو معزول کر کے خاندان سمیت محبوس کر دیناایسے اقدامات تھے جو ہرکوئی \\\" کمانڈو\\\" بھی نہیں کر سکتا۔ اس کیلئے مخصوص ذہن کی ضرورت تھی۔ اس ذہن کے مالک نے بے بس قوم کے ساتھ جو چاہا کیا ، پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے ، کابینہ کے ہوتے ہوئے، ان سے بالا تر سکیورٹی کونسل کا قیام چندایسے ہی اقدامات میں سے ایک ہے جو بالکل غیر ضروری اور قطعی بے فیض تھے۔مشرفی بلدیاتی نظام کے حامی اتنا ضرور کہتے ہیں کہ اسی نظام میں ترقیاتی کام بہت ہوئے۔
یہ دعویٰ غلط بھی نہیں لیکن ترقیاتی کاموں میں تیزی نظام کی وجہ سے نہیں آئی تھی اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ حکومت نے خزانوں کے منہ کھول دئیے تھے اور اس قدر رقم بلدیاتی اداروں کو دی گئی جس کی کوئی نظیر ماضی میںنہ ملتی تھی۔ ترقیاتی کا م ہوئے اسکے ساتھ کرپشن کے واقعات بھی اسی تیزی سے بڑھے۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق پنجاب میں 30 ناظم حضرات کیخلاف مقدمات اینٹی کرپشن محکمہ کو دیئے جا چکے ہیں۔ 70 کے معاملات زیر تفتیش ہیں۔ جنرل نقوی کہتے ہیں کرپشن کس محکمہ میں نہیں۔ محض بلدیات کو کیوں ہدف تنقید بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا نظا م مفروضوں اور نقالی پر مبنی تھا اور بنیاد چونکہ مستحکم نہ تھی ایک ذرا سا دھچکا لگا تو ڈھیر ہوتا نظر آیا ۔ع
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا
دیر آید درست آید کے مصداق جمہوری حکومت نے درست فیصلہ کیا ہے۔ معاملات جتنی جلد درست ہو جائیں‘ اچھا ہے عوام کیلئے بھی اور حکومت کیلئے بھی۔