A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

چوں چوں کا مربہ آئین.......حکومت اپنا فرض اور کردار ادا کیوں نہیں کرتی

14 جولائی 2009
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ موجودہ نظام صدارتی ہے‘ نہ پارلیمانی بلکہ چوں چوں کا مربہ ہے۔ ملک میں کھچڑی پکی ہے‘ ہم آئین میں ترمیم کرکے اسے پارلیمانی نظام بنانا چاہتے ہیں جو قائداعظمؒ اور ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ کے مطابق ہو۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم ترامیم لا کر 1973ء والا آئین بحال کریں گے۔
وزیراعظم گیلانی کی یہ تشخیص تو سو فیصد درست ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے پیشرو فوجی آمروں کی طرح آئین میں من مانی ترامیم کرکے اسے چوں چوں کا مربہ بنا دیا ہے اور یہ نہ صدارتی رہا ہے‘ نہ پارلیمانی بلکہ یہ ایک ایسا اونٹ ہے‘ جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ تمام سیاسی و جمہوری قوتیں آئین کے وفاقی‘ پارلیمانی‘ اسلامی تشخص کی بحالی پر متفق ہیں حتٰی کہ سترھویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حلیہ بگاڑنے اور فوجی حکمران کے ایل ایف او کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرنے والی ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ق) کے علاوہ ایم کیو ایم بھی ایسی ترامیم کی حامی ہے جس سے اس کا مسخ شدہ چہرہ بحال کرنے میں مدد مل سکے اور یہ عوامی خواہشات کے مطابق جمہوریت کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے کم و بیش ڈیڑھ سال ہو گیا ہے اور 2008ء کے عام انتخابات سے پہلے دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میثاق جمہوریت پر متفق ہو کر آئین کی 12؍ اکتوبر 1999ء کی سطح پر بحالی کا وعدہ کر چکی ہیں‘ اسکے باوجود آج تک حکومت چوں چوں کے اس مربہ سے اسی طرح لطف اندوز ہو رہی ہے جس طرح جنرل (ر) پرویز مشرف کی فوجی آمریت اور اسکی حلیف مسلم لیگ (ق) حظ اٹھا رہی تھی اور مسلم لیگ (ق) اور دیگر جماعتوں کی طرف سے پارلیمنٹ کے مختلف ایوانوں میں پیش کئے گئے آئینی پیکیج زیر بحث نہیں لائے جا سکے۔
صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں براجمان ہونے سے قبل قوم کو یہ مژدہ سنایا تھا کہ پیپلز پارٹی کا منتخب صدر ایوان صدر میں داخل ہوتے ہی پہلے روز پرویز مشرف دور کے بدنام زمانہ آئینی اختیار 58(2)B سے دستبردار ہو کر قوم کو جمہوریت کا تحفہ دیگا تاکہ پارلیمنٹ کے سر پر لٹکتی ہوئی یہ تلوار کند ہو لیکن دس گیارہ ماہ سے وہ خود ایوان صدر میں جنرل پرویز مشرف کے تمام اختیارات کے ساتھ موجود ہیں اور دوبار پارلیمنٹ کے سامنے سترھویں ترمیم کے خاتمے کا وعدہ کرنے کے باوجود پارلیمانی نظام کی بحالی اور پارلیمنٹ کے غصب شدہ اختیارات کی واپسی کی نوبت نہیں آئی۔ چند ماہ قبل آئینی اصلاحات کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن وہ بھی آج تک کوئی قابل قدر کارنامہ انجام نہیں دے سکی اور حکومت کے حلیف یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کمیٹی کے قیام کا مقصد معاملات کو معرض التواء میں ڈالنا اور ایک نیا پینڈورا بکس کھولنا ہے تاکہ صدارتی اختیارات واپس کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن کا شوشہ بھی چھوڑ چکے ہیں جس سے اعلیٰ ایوانوں میں متمکن پیپلز پارٹی کی قیادت کی نیک نیتی اور پارلیمانی نظام سے وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
اتوار کے روز پارٹی کے ایک سینئر ممبر سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی‘ غیرت مند‘ بہادر اور نہ بکنے والے شخص ہیں‘ انہیں پارٹی سے وفاداری کے نتیجے میں وزیراعظم کی کرسی پر بٹھایا ہے‘ صدر کی طرف سے وزیراعظم کیلئے یہ خراج تحسین اس بات کا متقاضی ہے کہ پارٹی کے ایک وفادار وزیراعظم کو جس نے عدلیہ بحران کے موقع پر اپنی سیاسی بصیرت اور بہتر حکمت عملی سے ملک اور پارٹی کو مشکلات سے نکالا اور جمہوری نظام کو درپیش خطرات کا ازالہ کیا‘ ان تمام اختیارات سے لیس کیا جائے جو 1973ء کے آئین میں پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے منتخب وزیراعظم کیلئے پسند کئے اور اپوزیشن نے ان کا ساتھ دے کر متفقہ آئین کی تدوین کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم کا بھی فرض ہے کہ وہ چوں چوں کے اس مربے کو ایک طرف رکھ کر 1973ء کے اصل آئین کی بحالی کیلئے اسی طرح کا قائدانہ کردار ادا کریں جس طرح انہوں نے آزاد عدلیہ کی بحالی کیلئے کیا اور تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف میں رقم کیا۔ اس مقصد کیلئے وہ نہ صرف صدر آصف علی زرداری کو قائل کریں کہ توازن اختیارات کی بات کرنے والے خوشامدیوں سے ہوشیار رہیں بلکہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کو بھی ہدایت کریں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر کارروائی مکمل کرکے اگلے ایک ڈیڑھ ہفتے میں قوم کو آئینی پیکیج کا تحفہ دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے ڈیڑھ سال میں ملک کو نیا آئین دے دیا تھا‘ ان کی پارٹی ڈیڑھ سال میں اٹھارھویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار نہیں کر سکی جو بمشکل ڈیڑھ دن‘ ڈیڑھ ہفتہ یا ڈیڑھ ماہ کا کام تھا‘ آخر رکاوٹ کیا ہے اور ہر کام کو ٹالنے کی موجودہ پالیسی سے حکومت کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔
میاں چنوں دھماکہ، لمحۂ فکریہ
میاں چنوں کے نواحی گائوں 129/15Lمیں ایک رہائشی ماسٹر ریاض کے گھر دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے گزشتہ روز دس بچوں سمیت 16کے قریب افراد جاں بحق اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات کیمطابق اس خوفناک دھماکہ کے نتیجہ میں اس گائوں کے 50 مکانات صفحہ ہستی سے مٹ گئے،کئی لوگ ان مکانوں کے ملبے تلے بھی دبے ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ماسٹر ریاض نے اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا مدرسہ بھی قائم کررکھا تھا جس میں اسکی بہنیں بچیوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی تھیں۔
بعض عینی شاہدین کے بقول دھماکے سے قبل آسمان پر روشنی نظر آئی اور پھر ہر جانب گرد و غبار پھیل گیا جبکہ بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آسمان کی جانب سے کوئی چیز اس گھر پر آ کر گری تھی جس سے خوفناک دھماکہ ہوا، ڈی پی او میاں چنوں کامران خان نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ماسٹر ریاض کے گھر میں ہی رکھا ہوا تھا اور وزیرداخلہ رحمان ملک کے بقول جائے وقوعہ سے راکٹ لانچر بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ماسٹر ریاض کو وقوعہ کے بعد زخمی حالت میں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے حکم پراس سانحہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اس لئے اسکے بارے میں حتمی رائے تو تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی قائم کی جاسکے گی تاہم جس منظم طریقہ سے یہ واردات ہوئی ہے بادی النظر میںمحسوس یہی ہوتا ہے کہ کسی اطلاع کی بنیاد پر ماسٹر ریاض کے گھر کو ٹارگٹ کرکے وہاں میزائل داغا گیا ہے کیونکہ بعض عینی شاہدین کے مطابق آسمان کی جانب سے کوئی چیز اس گھر میں آ کر گری تھی۔ تاہم اگر ڈی پی او اور وزیر داخلہ کی روشنی میں دھماکہ خیز مواد گھر کے اندر موجود تھا تو یہ پولیس اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور نااہلی کا ثبوت ہے کہ ایک چھوٹے سے گائوں میں اتنا کچھ ہوتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔
امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے گزشتہ روز حیدر آباد میں جماعت اسلامی کی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ ’’ڈو مور‘‘ پالیسی کے تحت نام نہاد جنگ کا رخ پنجاب کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ میاں چنوں کے گائوں میں دھماکہ کے افسوسناک واقعہ سے اس الزام کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اگر تو یہ فی الواقع میزائل حملہ تھا تو یہ امریکی ڈرون کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے جو ہمارے حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہماری ملکی و قومی سلامتی کس قدر سنگین خطرات میں گھر چکی ہے۔ امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین کیری لیون نے ابھی گزشتہ روز ہی ہمارے حکمرانوں کو طعنہ دیا ہے کہ ان میں ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ نہیں۔ امریکی اعلیٰ حکام گاہے گاہے باور کراتے رہتے ہیں کہ ڈرون حملے حکومت پاکستان کی اجازت اور منظوری سے کئے جاتے ہیں۔ جبکہ ان حملوں سے دہشت گردوں کو مارنے کے مقاصد پورے نہیں ہو پاتے اور زیادہ تر عام شہری ہی ان حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ حکومت کو بالخصوص میاں چنوں دھماکہ کے بارے میں جامع تحقیقات کرانا چاہئیں اور اگر اس میں کسی امریکی ڈرون کی واردات ثابت ہو تو اسے ملک کی سالمیت پر حملہ قرار دے کر امریکہ کو اس کا قومی دفاعی پالیسی کی روشنی میں فوری اور سخت جواب دینا چاہئے۔ بصورت دیگر امریکہ کے حوصلے بلند ہوئے تو اسلام آباد سمیت ملک کا کوئی بھی علاقہ ڈرون حملوں سے محفوظ نہیں رہے گا۔
حکومت مخالف پیغام رسانی پر سخت سزائوں کا فیصلہ
وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے حکمرانوں کیخلاف غیرشائستہ اور بے بنیاد فرضی کہانیوں پر مشتمل ای میلز اور ایس ایم ایس کرنے والوں کیخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں وزارت داخلہ کے جاری کردہ ہدایت نامہ میں واضح کیا گیا ہے کہ سائبر کرائمز میں ملوث افراد کو 14 سال قید اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا دی جا سکے گی۔ اس سلسلہ میں ایف آئی اے نے اپنی باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا ہے جبکہ بیرون ملک ویب سائٹس اور ای میلز ایڈریسز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے انٹرپول کو باضابطہ درخواست بھی دے دی گئی ہے اور بیرون ملک سے آنے والی ای میلز اور ایس ایم ایس خصوصی طور پر چیک کئے جا رہے ہیں۔
اس وقت جبکہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو ایک دائرے میں گلوبل ویلج کی شکل میں محدود کرکے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کے انسانوں کا سیکنڈوں میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ ممکن بنایا ہوا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں کوئی بات چھپانا ممکن نہیں رہا‘ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے پیغام رسانی کے عمل کو سائبر کرائمز میں شامل کرکے انکی سخت ترین سزائیں مقرر کرانا کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف نظر آتا ہے۔ پہلے وفاقی بجٹ میں ایس ایم ایس سروس پر فی ایس ایم ایس 20 فیصد ٹیکس عائد کرکے حکومت مخالف پیغام رسانی کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی گئی مگر سخت عوامی ردعمل سامنے آنے پر حکومت کو بجٹ میں یہ ٹیکس واپس لینا پڑا جبکہ اب حکومت مخالف ای میل اور ایس ایم ایس بھجوانے پر اس حقیقت کے باوجود سخت ترین سزائوں کا ڈراوا دیا جا رہا ہے کہ ایسا کوئی جبری ہتھکنڈہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس دور میں ای میل اور ایس ایم ایس کی ڈیلیوری کو نہیں روک سکتا بلکہ ایسے ہتھکنڈوں کے ردعمل میں لوگوں میں زیادہ تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ حکومت مخالف ای میل اور ایس ایم ایس ڈھونڈ ڈھونڈ کر فارورڈ کرتے ہیں۔ اس طرح اپنے حکمرانوں کے بارے میں لوگوں کے جو جذبات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر نہیں آسکتے‘ وہ ای میلز اور ایس ایم ایس کے ذریعے سینہ بہ سینہ منتقل ہوجاتے ہیں۔ اس کا مقصد بنیادی طور پر حکومتی خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہی ہوتا ہے‘ تاکہ حکمران طبقہ اپنی اصلاح کر لے۔ اس طبقہ کو اپنی اصلاح ہی مقصود نہ ہو اور وہ اپنی من مانیاں جاری رکھنا چاہتے ہوں‘ تو حکومتی پالیسیوں کے ستائے لوگ اپنے جذبات کے اظہار کیلئے ایس ایم ایس اور ای میلز کا سہارا کیوں نہیں لیںگے جبکہ اسے سائبر کرائم میں شامل کرکے اس پر سخت سزائیں دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو اس کی آڑ میں لوگ اپنے ذاتی انتقام لینا بھی شروع کر دیں گے۔ اس لئے بجائے اسکے کہ ای میلز اور ایس ایم ایس کے ذریعے حکومت مخالف پیغام رسانی کو سنگین جرم قرار دے کر لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے‘ بہتر یہی ہے کہ اپنی حکومتی پالیسیوں کی اصلاح کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ اگر ایک حاکم اپنے محکومین کی آواز کو دبانے کیلئے اسے طویل سزا اور بھاری جرمانے کا ڈراوا دے کر انہیں اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنے کی کوشش کریگا تو عوام کی جانب سے اس پر بھی سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ اس لئے خلق خدا کو تنگ کرنے کے بجائے مطمئن کریں اور حکومت مخالف پیغام رسائی پر اپنی پیشانیوں پر بل ڈالنے کے بجائے انہیں اپنے لئے اصلاح کا ذریعہ گردانیں‘ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا راستہ تو بہرحال نہیں روکا جا سکتا۔