مشرقِ وسطی میں امن و استحکام خطے اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ،توقع ہے شام اور لیبیا میں جلد استحکام پیدا ہوگا: ممنون حسین

14 فروری 2018 (16:31)
مشرقِ وسطی میں امن و استحکام خطے اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ،توقع ہے شام اور لیبیا میں جلد استحکام پیدا ہوگا: ممنون حسین

صدرِ مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطی میں امن و استحکام خطے اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے اور توقع ہے کہ شام اور لیبیا میں جلد استحکام پیدا ہوگا اور ان دونوں ممالک کی عوام امن وخوشحالی کی زندگی بسر کر سکے گی ۔ صدرِ مملکت نے یہ بات ایوانِ صدر میں لیبیا کے لیے پاکستان کے نامزد سفیر میجر جنرل (ریٹائرڈ ) ساجد اقبال اور شام کے لیے نامزد سفیر ایئر مارشل (ریٹائرڈ ) راشد کمال سے علیحدہ علیحدہ ملاقات میں کہی ۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان ، شام اور لیبیا کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے ۔ صدرِ مملکت نے نامزد سفیروں کو ہدایت کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کریں اور عوام کے درمیان روابط میں اضافے پر توجہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ، لیبیا اور شام کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافہ ضروری ہے تاکہ تعلقات میں مزید گہرائی پیدا ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا اور شام کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی ، تہذیبی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں ۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ شام کے مسئلے پر ہمارا مقف عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہے ۔ پاکستان چاہتا ہے کہ کسی کی خود مختاری متاثر نہ ہو ۔ انہوں نے توقع کا اظہار کیا کہ شام کے مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے گا ۔ صدرِ مملکت نے لیبیا کے نامزد سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انجینئرنگ ، ادویات ، زراعت اور بینکنگ کے شعبے میں ٹریننگ کے لیے بہت سے مواقع ہیں جن سے لیبیا کے ادارے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ صدرِ مملکت نے لیبیا اور شام کے لیے نامزد پاکستانی سفیروں کو ہدایت کی کہ وہ دونوں ممالک میں موجود پاکستانی کمیونٹی کی ویلفیئر کے لیے بھرپور اقدامات کریں تاکہ انہیں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔