پاکستان کے انتہاپسندوں سے تعلقات اور اور جوہری ہتھیاروں میں اضافہ دنیا کے لیے خطرہ ہے: امریکہ

14 فروری 2018 (15:01)

امریکہ کے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینیئل کوٹس نے پاکستان کے انتہا پسندوں سے تعلقات اور جوہری ہتھیاروں میں اضافے کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ انتہاپسند جن کی پاکستان پشت پناہی کر رہا ہے، وہ افغانستان اور بھارت  کے اندر حملے کرتے رہیں گے جس سے خطے میں کشیدگی پھیل رہی ہے۔دنیا کو لاحق عالمی خطرات کو اجاگر کرنے کے لیے سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سالانہ اجلاس میں ڈینیئل کوٹس کا کہنا تھا کہ جن انتہاپسند تنظیموں کی پاکستان پشت پناہی کر رہا ہے وہ پاکستان میں قائم اپنی محفوظ پناہ گاہوں کو افغانستان اور  بھارت میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کریں گے جو امریکی مفادات کے برعکس ہے۔ڈین کوٹس نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ 'واشنگٹن کے مطالبہ کے باوجود پاکستانی فوج طالبان اور حقانی گروہ کے حلاف صرف ظاہری طور پر سخت روایہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے، ملک میں جاری فوجی آپریشنز صرف پاکستانی طالبان کے خلاف موثر کارروائی کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا: 'تاہم اب تک کیے گئے پاکستانی اقدامات ان گروہوں پر موثر دبا وڈالنے میں ناکافی ظاہر ہو رہے ہیں اور مشکل ہے کہ ان کے دوررس نتائج نکلیں۔'کوٹس کے مطابق امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں طالبان، حقانی گروپ اور دیگر تنظیموں کے آٹھ افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں مگر امریکی خفیہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ان انتہا پسندوں سے روابط جاری رکھے گا جن سے امریکہ کی انتہاپسندی کو روکنے کی کوششیں محدود ہو جائیں گی۔