لودھراں میں موروثی سیاست کی باعث پی ٹی آئی کو شکست ہوئی‘ خورشید شاہ

14 فروری 2018
لودھراں میں موروثی سیاست کی باعث پی ٹی آئی کو شکست ہوئی‘ خورشید شاہ

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں صرف 3 ماہ باقی ہیں، اب نگران وزیراعظم کے لئے مشاورتی عمل شروع ہو جانا چاہیے لیکن تاحال وزیراعظم کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نا ہی کوئی مشاورتی عمل شروع ہوسکا۔ این اے 154 کے ضمنی انتخاب میں عوام نے موروثی سیاست پر پی ٹی آئی کو شکست دی۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ بہترین شخص کو نگران وزیراعظم بنایا جائے اور اس کے لئے عوام کو بھی چاہئے کہ ہمیں وہ اپنی مرضی کے اچھے نام بتائیں تاکہ مشاورت میں ان پر غور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا موقف تھا کہ موروثی سیاست ختم ہونی چاہیے لیکن انہوں نے اپنے کہے کے برعکس خود موروثی سیاست پر عمل کیا اور شائد اسی وجہ سے عوام نے بھی اپنے ووٹ کے ذریعے منفی جواب دیا اور موروثی سیاست کو شکست ہوگئی۔سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ کے ایم کیوایم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ سے میرا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی میں نے کسی کو ایک روپیہ دیا ہے ، ایم کیوایم خود سینیٹ کی لڑائی میں پڑی ہے اور یہ لڑائی پیسوں پر کی جارہی ہے جب کہ بدنام ہم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ پاکستان کے بہت سے بڑے نام ہمارے رابطے میں ہیں کیوں کہ انہیں بھی پتہ ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔