نوازشریف کو سیاست سے مستقل آئوٹ کرنے کے خواہشمند حلقوں کو اب زمینی حقائق تسلیم کرلینے چاہئیں

14 فروری 2018

لودھراں ضمنی انتخاب میں نوازشریف کے نامزد غیرمعروف امیدوار کی واضح مارجن سے کامیابی‘ انکے مخالفین کیلئے لمحۂ فکریہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کے آبائی ضلع لودھراں کے ضمنی انتخاب میں انکے بیٹے علی ترین کو واضح مارجن کے ساتھ شکست دے کر قومی اسمبلی کی یہ نشست واپس چھین لی۔ حلقہ این اے 154 کی اس نشست پر 2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے جہانگیر ترین کے مقابلہ میں کامیابی حاصل کی تھی جسے جہانگیر ترین نے انتخابی ٹربیونل میں چیلنج کیا جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2013ء کے انتخابات میں انجینئرڈ دھاندلیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے جو چار حلقے کھولنے کا تقاضا کیا‘ ان میں لودھراں کا حلقہ این اے 154 بھی شامل تھا۔ جب سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت اس حلقے کا انتخاب کالعدم ہوا اور الیکشن کمیشن کے زیرانتظام اس حلقے میں دوبارہ انتخابات ہوئے تو ان میں جہانگیر ترین کو کامیابی حاصل ہوگئی جس پر تحریک انصاف کی جانب سے یہ بھرپور پراپیگنڈا کیا گیا کہ اسکے انجینئرڈ انتخابی دھاندلیوں کے الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کے کیس میں جہانگیر ترین کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا جس کے باعث لودھراں کی متذکرہ نشست خالی ہوگئی تو اس حلقہ کے ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین نے اپنے بیٹے علی ترین کو تحریک انصاف کا ٹکٹ دلوادیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انکے مدمقابل نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غیرمعروف کارکن پیر محمد اقبال شاہ کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا۔ گزشتہ روز 338 پولنگ سٹیشنوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے اس حلقہ کے ضمنی انتخاب میں چار لاکھ 31 ہزار رجسٹرڈ ووٹروں میں سے دو لاکھ 15 ہزار کے قریب ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا اور اس طرح ضمنی انتخاب کا مثالی ٹرن آئوٹ 49 فیصد رہا۔ اس انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو ایک لاکھ 13 ہزار 452 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ انکے مدمقابل پی ٹی آئی کے علی ترین کو 85 ہزار 933 ووٹ ملے۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار ملک محمد اظہر اس انتخاب میں تیسرے نمبر پر رہے جنہیں 10 ہزار 275 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار مرزا محمدعلی چوتھے نمبر پر آئے جنہیں صرف 3 ہزار 189 ووٹ ملے۔ پاکستان الیکشن کمیشن کے ماتحت یہ انتخاب مکمل آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ماحول میں عمل میں آیا جس کیلئے حلقے میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔ پولنگ سٹیشنوں پر دو ہزار پولیس اہلکاروں کے علاوہ فوجی دستے بھی تعینات تھے چنانچہ پہلی بار ایسا ہوا کہ حکمران جماعت کے امیدوار انتخابی دھاندلیوں کی شکایت کرتے پائے گئے اسکے باوجود انہیں 27 ہزار 319 ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی جس کی بنیاد پر اس انتخاب میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلے کا تصور بھی باطل ہوگیا۔ 

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف نے اس حلقے کے نتائج کے اعلان کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو فون کرکے مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس انتخاب میں عوام کی جیت ہوئی ہے جس سے جمہوریت کو استحکام ملا ہے اور عوام کے ووٹوں کی عزت بڑھی ہے۔ اسی طرح مریم نواز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ لاکھوں بار الحمدللہ۔ اللہ کے شکر میں ہمارے سر جھکے ہوئے ہیں۔ انکے بقول نوازشریف کیخلاف سازشوں کو اللہ نے انکی طاقت بنادیا ہے۔ اب بھی سمجھ جائو‘ فیصلے اللہ کے ہی چلتے ہیں۔ آج عوام نے واضح کردیا کہ ووٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا جائیگا اور نوازشریف کی قیادت میں ووٹ کی حرمت کا کارواں منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔ کہا نہ تھا ’’روک سکو تو روک لو‘‘۔
یہ ضمنی انتخاب مستقبل کی انتخابی سیاست کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی دونوں کیلئے چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ پی ٹی آئی نے اس حلقہ کو انتخابی دھاندلیوں سے متعلق اپنے الزامات کی بنیاد بنایا تھا اور اس حلقہ کے دوبارہ انتخابات کراکے جہانگیر ترین کو کامیاب کرایا تھا جس کے باعث مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی کے انتخابی دھاندلیوں کے پراپیگنڈے میں دفاعی پوزیشن پر آگئی تھی۔ اگر مسلم لیگ (ن) نے بدترین حالات میں بھی پارٹی کے ایک غیرمعروف کارکن کو ٹکٹ دے کر پی آئی ٹی کے دھن دولت والے امیدوار کو انکے ہاتھوں واضح مارجن کے ساتھ شکست دے دوچار کردیا ہے تو اس سے بادی النظر میں میاں نوازشریف کے اس دعوے کو تقویت حاصل ہوئی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے پانچ ججوں سے نااہل ہونیوالے نوازشریف کو عوام کی عدالت میں سرخروئی حاصل ہورہی ہے۔ یہ زمینی حقائق اب بلاشبہ کھل کر سامنے آرہے ہیں کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل ہونے کے بعد میاں نوازشریف نے ریاستی اداروں کو چیلنج کرکے اور اسٹیبلشمنٹ کی سازش کے تحت انہیں اقتدار سے نکالنے کے الزامات عائد کرکے عوام میں اپنے لئے ہمدردی اور پہلے سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ انکی نااہلیت کے بعد مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی تین نشستوں کے ضمنی انتخاب کے چیلنج سے گزرنا پڑا اور ان تینوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت کے ساتھ سرخروئی حاصل ہوئی۔ ان میں لاہور سے خالی ہونیوالی میاں نوازشریف کی اپنی نشست‘ میاں نوازشریف کے قطعی مخالف حلقہ انتخاب چکوال کی نشست اور لودھراں سے خالی ہونیوالی جہانگیر ترین کی نشست پر ضمنی انتخاب کے ٹرن آئوٹ اور مسلم لیگ (ن) کو پڑنے والے ووٹوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوسکتی کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو صرف میاں نوازشریف کے نام پر ووٹ پڑ رہے ہیں چنانچہ جو امیدوار میاں نوازشریف کا پوسٹر تھامے انتخابی میدان میں اترتا ہے‘ کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
یقیناً میاں نوازشریف کو بھی اپنی نااہلیت کے بعد حاصل ہونیوالی اس عوامی مقبولیت کا مکمل ادراک و احساس ہے اس لئے انہوں نے عوام کے ووٹ کے تقدس کو بنیاد بنا کر اپنی نااہلیت کے فیصلہ کو پبلک فورموں پر چیلنج کرنے کا راستہ اختیار کیا جس کے بارے میں انکی پارٹی کی صفوں میں بھی اندیشہ ہائے دوردراز کا اظہار سامنے آیا کہ میاں نوازشریف کی ریاستی اداروں سے ٹکرائو کی پالیسی سے مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل تاریک ہو سکتا ہے اس لئے میاں نوازشریف کو مزاحمت کے بجائے اداروں کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) کے بعض سینئر عہدیداروں کی جانب سے میاں نوازشریف کو مفاہمت پر آمادہ کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں مگر انہوں نے مزاحمت کی پالیسی ہی اختیار کئے رکھی جس میں انکی صاحبزادی مریم نواز نے ان کا مکمل ساتھ دیا۔ آج اسی سیاست کی بنیاد پر میاں نوازشریف کے نامزد ایک غیرمعروف امیدوار کے ہاتھوں پی ٹی آئی کی اعلیٰ ترین قیادت کے فرزند ارجمند کو انتخابی مہم کے دوران اپنی دولت کی بوریاں کھولنے کے باوجود شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے تو یہ میاں نوازشریف کو مستقل طور پر سیاست سے آئوٹ کرنے کے خواہش مند حلقوں اور افراد کیلئے عبرت کا مقام ہے کیونکہ زمینی حقائق انکی توقعات‘ خواہشات اور منصوبہ بندیوں کے قطعی برعکس سامنے آرہے ہیں۔
اگر میاں نوازشریف کو سیاست سے آئوٹ کرنے کی منصوبہ بندی کے تحت ہی تحریک لبیک پاکستان کو سیاسی میدان میں اتارا گیا ہے تو ضمنی انتخابات کے نتائج اس تجربے کو بھی ناکام ثابت کررہے ہیں۔ سیاسی ایجنڈا رکھنے والی یہ دینی جماعت بے شک ضمنی انتخابات میں حیران کن ووٹ حاصل کررہی ہے اور اسکے امیدوار بہرصورت مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے مقابلے میں تیسرے نمبر پر آرہے ہیں تاہم اسکے ذریعے مسلم لیگ (ن) کے ووٹ متاثر کرنے کا فلسفہ باطل ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹوں کا تناسب بتدریج بڑھ رہا ہے۔ اگر انتخابی میدان میں تحریک لبیک پاکستان کسی کو نقصان پہنچا رہی ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہے جو چاروں صوبوں کی زنجیر قرار دی جاتی رہی ہے۔ اب پنجاب میں اسکے امیدواروں کی ضمانتیں بھی ضبط ہو رہی ہیں تو اس پارٹی کی قیادت کیلئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ 2013ء کے انتخابات میں جس ’’آکاس بیل‘‘ نے اس پارٹی کے ساتھ چمٹ کر اسے راندہ ٔ درگاہ بنایا تھا۔ وہ ابھی تک اسکے ساتھ چمٹی ہوئی نظر آتی ہے چنانچہ 2018ء کے انتخابات میں کامیاب ہو کر اقتدار میں آنے کے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے دعوے خوش فہمی اور مبالغہ آرائی کے زمرے میں ہی شامل ہونگے۔ اسی طرح 2018ء کے انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف کے دعوئوں پر بھی اوس پڑتی نظر آرہی ہے۔ اگر عمران خان کینیڈین باشندے طاہرالقادری اور شیخ رشید کو ساتھ ملا کر بھی میاں نوازشریف کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے دعوئوں میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے جس کیلئے لودھراں کا ضمنی انتخاب ایک بڑی مثال بن کر سامنے آیا ہے تو اس سے میاں نوازشریف کی ووٹ کا تقدس تسلیم کرانے کی سیاست کا ہی ڈنکا بجے گا۔ ضمنی انتخابات کے نتائج اس امر کا واضح عندیہ دے رہے ہیں کہ 2018ء کے انتخابات میں محلاتی سازشوں کے تحت مسلم لیگ (ن) کا راستہ نہ روکا گیا اور اسے عوام کے پاس جانے کیلئے فری ہینڈ مل گیا تو اگلی پارلیمنٹ میں مسلم لیگ (ن) سنگل مجارٹی پارٹی ہی نہیں‘ دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت والی جماعت کی حیثیت سے موجود ہوگی۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ تمام فریقین مسلم لیگ (ن) اور اسکی قیادت کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے حقائق کو تسلیم کریں اور انتخابی عمل کو شفاف طریقے سے آزادانہ ماحول میں چلنے دیں۔ اگر عوام دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے سر پر ہی تاج سجانا چاہتے ہیں تو انتخابی عمل میں اسکے راستے میں غیرآئینی اور غیرقانونی طریقے سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا اقدام ایسی سازشوں کیخلاف عوامی منافرت بھڑکانے کا باعث بنے گا۔ میاں نوازشریف کی محاذآرائی کی سیاست جمہوری اقدار تسلیم کرانے کی سیاست ہے تو جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنے کے خواہش مند حلقوں کو اس سیاست سے قطعاً خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔