بدھ ‘ 27؍ جمادی الاوّل‘1439 ھ ‘ 14؍ فروری 2018ء

14 فروری 2018
بدھ ‘ 27؍ جمادی الاوّل‘1439 ھ ‘ 14؍ فروری 2018ء

علی ترین نے ووٹ ڈالنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کیمپ میں جا کر چائے پی۔

الیکشن کی تلخیاں‘ الزامات کی سیاست اور پارٹی بازی اپنی جگہ۔ لودھراں میں پی ٹی آئی کے امیدوار علی ترین نے اس تیز و تند جذباتی ماحول میں بھی جس طرح نرم گفتاری اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔ نوجوان وہ بھی اونچے گھرانوں کے مال و زر میں ناز و نعم میں پلے ہوئے عام طور پر معاشرتی رویوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ مگر علی ترین نے اس گرما گرمی کے ماحول میں بھی جب اپنا ووٹ کاسٹ کیا تو انتخابی مرکز سے باہر نکل کر وہ سیدھا اپنے حریف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اقبال شاہ کے انتخابی کیمپ میں گئے اور وہاں ان کے کارکنوں کے ساتھ گھل مل گئے‘ گپ شپ لگائی اور چائے بھی وہاں بیٹھ کر پی۔ اس موقعہ پر انہوں نے کیا خوب بات کہی ’’الیکشن ایک دن میں ختم ہو جائے گا مگر ہم سب نے جینا مرنا یہاں ہے‘ رہنا یہاں ہے‘‘ علی ترین الیکشن جیتے تو نہیں مگر الیکشن میلہ ضرور انہوں نے لوٹ لیا۔
یہ بات اعلیٰ اوصاف کی نشاندہی کرتی ہے۔ محبت فاتح عالم ہے۔ عوام کے دل اس طرح بھی جیتے جاتے ہیں۔ لوگ اس محبت کو احساس مروت کو تادیر یاد رکھتے ہیں۔ یہی ایک کامیاب لیڈر اور اچھے انسان کی خوبی ہے۔ سیاست میں اپنے حلقے کے ووٹروں کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ جو کسی بھی وقت کیش کرائی جا سکتی ہے۔ کاش یہ بات ہمارے سارے سیاستدان اپنے پلے باندھ لیں تو سیاست کے ماحول کی تلخی میں کمی آ سکتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
اوبامہ داڑھی رکھ لیں: سوشل میڈیا صارفین
سوشل میڈیا صارفین کو بھی نت نئی باتیں سوجھتی ہیں۔ اوبامہ صاحب کی کسی نے داڑھی والی خیالی تصویر بنا لی یا فوٹو میجک سے ان کے چہرے پہ داڑھی فٹ کر لی اور وائرل کر دی۔ بس پھر کیا تھا۔ ہزاروں صارفین کو یہ تصویر بھا گئی اور انہوں نے باقاعدہ اوبامہ صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ داڑھی رکھ لیں۔ سابق امریکی صدر اوبامہ گرچہ افریقی ہیں مگر ایک شاندار شخصیت کے مالک بھی ہیں۔
ان کی اہلیہ بھی ان کی طرح سمارٹ اور جاذب نظر خاتون ہیں۔ دونوں کی جوڑی پسندیدہ قرار دی جاتی ہے۔ اب معلوم نہیں اگر اوبامہ صاحب نے داڑھی رکھ لی اپنے چاہنے والوں کے مشورے پر تو بیگم اوبامہ پسند کریں یا نہ کریں۔ اس داڑھی کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے پیٹ میں درد بھی ہو سکتا ہے۔ جو پہلے ہی اوبامہ صاحب کے مسلمان ہونے کے حوالے سے ان کے نام کو لے کر کافی پراپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔
حالانکہ ان کا صرف نام اسلامی تھا ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا سوائے اس کے کہ ان کے دادا دادی مسلمان تھے۔ اب داڑھی رکھنے کی وجہ سے کہیں امریکی تنگ نظر انہیں مولانا اوبامہ سمجھ کر ان کے پیچھے نہ پڑ جائیں اور وہ مسٹر اوبامہ کی بجائے امریکہ میں مولانا اوبامہ کے نام سے مشہور ہو جائیں اور موجودہ صدر ٹرمپ ان کے پیچھے بھی لاٹھی لے کر نہ دوڑ پڑیں۔
سنا ہے پیر جیت گیا۔ ریحام خان کا لودھراں میں ضمنی الیکشن پر طنزیہ تبصرہ
جی ہاںبالکل درست سنا ہے ریحام خان نے۔ اب وہ پیر کو جیت کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ کیا پیرنی سے بھی شکست پر اظہار افسوس کریں گی جس کا مرید یا مجازی خدا اب تک اس سے اپنی شادی چھپائے ہوئے ہے‘ کا نمائندہ خاص یہ الیکشن ہار گیا۔ لگتا ہے یہ نئی پیرنی بھی خان صاحب اور تحریک انصاف کو کامیابی کے گھوڑے پر سوار نہیں کر سکیں۔ اب اگر خان صاحب نے ہنوز شادی نہیں کی تو امکان یہی ہے کہ اب یہ تقریب سعید شاید ہی منعقد ہو سکے۔ اگر شادی کر چکے ہیں تو سمجھ لیں پیرنی کی شامت آ گئی۔ کیونکہ خان صاحب نے بقول شخصے الیکشن میں کامیابی اور آئندہ وزیراعظم بننے کی پیشنگوئی پر ہی پیرنی کو اپنی ملکہ بنانے کی شرط قبول کی تھی۔ مگر گردش سیارگان کچھ اور ہی نظر آ رہی ہے۔ ’’میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے‘‘ والی حالت خان صاحب کے پیروں سے لپٹی ہے۔ کامیابی قریب آنے کی بجائے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ اب کہیں ریحام خان کو شاید خوشی یہ ہو گی کہ تیسری شادی کے بعد بھی خاں صاحب کو ابھی تک وہ راحت اور سکون والی منزل نہیں ملی جس کا خواب ان کی جاگتی آنکھیں عرصہ دراز سے دیکھتی رہی ہیں۔ معلوم نہیں منزل مراد سے یہ دوری ریحام کی آہوں کا سبب ہے یا جمائمہ کے خاموش صبر کا۔ ورنہ پیرنی نے تو خان صاحب کی آنکھوں میں فتح اور حکومت کے خوبصورت خواب بھر دیئے تھے۔
٭…٭…٭…٭
طویل خشک سالی کے بعد ہونے والی بارش اور برفباری نے اپنا رنگ جما لیا۔
اس بار سردیاں اول تو آئیں نہیں اگر شرماتے للچاتے جنوری میں سردی نے آ کر مکھڑا دکھایا بھی تو اس کے رنگ و روپ میں وہ اثر نہ تھا کہ لوگ اس کے آتے ہی لحاف یا کمبل لپیٹ لیتے۔ یہی حال دسمبر میں رہا چند روز جھلک دکھا کر سردی پھر غائب ہو گئی۔ ہلکی بارش اور ہلکی برفباری سے بھلا کیا ہوتا ہے۔ سردیوں کا نہ آنا خشک موسم کے لئے باعث مسرت بن گیا اور اس کے جلو میں نزلہ زکام‘ بخار اور سوائن فلو نے ایسا طوفان مچایا کہ لوگ رو رو کر بارش کی دعائیں مانگنے لگے۔ اب فروری کے وسط میں اللہ کریم نے اپنے بندوں کی سن لی اور رحمت کے بادل بھیجے۔ کراچی تا کشمیر ایسی رحمت کی ہوا چلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری نے اپنا رنگ جمایا۔ پیاسی اور مرجھائی ہوئی دھرتی ایک بار پھر کھل اٹھی۔ لوگوں کے چہروں پہ رونق آ گئی۔ نزلہ بخار اور زکام سے جان خلاص ہوئی۔ میدانی علاقوں سے سیاحوں کی بڑی تعداد برفباری کے مزے لوٹنے پہاڑی علاقوں کی طرف چل پڑی جس کی وجہ سے معروف سیاحتی علاقوں میں پہلے تو برف نے ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالی دوسری طرف گاڑیوں کے اژدھام نے سڑکیں بلاک کر دیں۔ مگر کیا مجال ہے جو موسم کا مزہ لوٹنے والوں کے جوش و خروش میں کمی آئی ہو۔ وہ ابھی تک برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے پہاڑی مقامات کی طرف رواں دواں ہیں۔ بارش اور برفباری سے عام آدمی نے بھی سکون کا سانس لیا ہے کیونکہ یہ گرمیوں میں آبی قلت سے نجات کی نوید بھی ہے۔
٭…٭…٭…٭