سینٹ انتخابی تماشا‘ مشرف احتساب

14 فروری 2018

اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے ’’اللہ کی آیات کو دنیا کے تھوڑے سے فائدے کیلئے مت بیچو‘‘۔ اگر لوگ مذہب فروش بن سکتے ہیں تو سیاست فروش کیوں نہیں بن سکتے۔ بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسی منڈی بن چکا ہے جس میں ہر چیز بکتی ہے۔ انتخابات کے موقع پر اشرافیہ کی جمہوریت ننگا رقص کرتی نظر آتی ہے۔ انتخابی تماشا دیکھ کر بھی عوام مزاحمت اور اصلاح پر آمادہ نہیں ہوتے اور قطار میں کھڑے ہوکر سیاست میں سرمایہ کاری کرنیوالے اُمیدواروں کو ووٹ ڈالتے ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ بقول اقبال جعلی شیطانی جمہوریت کا یہ دائرہ کب ٹوٹے گا اور وہ مسیحا کب ظہور پذیر ہوگا جو انگریز کی بگڑی ہوئی اشرافیائی جمہوریت کو ہمیشہ کیلئے دفن کرکے قائداعظم اور علامہ اقبال کے تصورات اور اسلام کے سنہری اُصولوں کی روشنی میں روحانی جمہوریت نافذ کریگا۔ بلوچستان میں ہر چند کہ آئینی طور پر مگر مکروفن اور سرمایے کے ہتھیار استعمال کرکے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو تبدیل کیا گیا۔ وہ ہماری جمہوری تاریخ کی تازہ شرمناک مثال ہے۔ انتخابات کے دوران عوام کا لوٹا ہوا سرمایہ بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق بلوچستان میں اراکین اسمبلی کو سینٹ کے انتخاب کیلئے پچاس کروڑ (ایک) ووٹ کی پیش کش کی جارہی ہے۔ جو اُمیدوار اربوں روپے خرچ کرکے سینٹ کا رکن منتخب ہوگا وہ عوام اور ریاست کے خزانے پر ڈاکہ کیوں نہیں ڈالے گا۔ عمران خان کی گواہی سامنے آئی ہے کہ ان کو سینٹ کے ٹکٹ کیلئے چالیس کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی۔

انتخابی شطرنج کے ماہر کھلاڑی آصف زرداری سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے ہر حربہ آزما رہے ہیں۔ مجموعی طور پر سینٹ کے اُمیدواروں کے انتخاب کے سلسلے میں پی پی پی کا کردار دوسری سیاسی جماعتوں سے بہتر رہا ہے۔ پارٹی کے پرانے نیک نام اور اہل کارکنوں کو ٹکٹ دیئے جاتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران سینٹ کی کارکردگی بہت بہتر رہی ہے جس کا کریڈٹ سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کو جاتا ہے۔ شخصیت پرستی پر مبنی سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ مرکزی شخصیت کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد جماعت بکھرنے اور ٹوٹنے لگتی ہے۔ الطاف حسین کے بعد ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور آج کل اپنی تاریخ کے سنگین ترین بحران سے گزررہی ہے۔ اگر ایم کیو ایم کو شخصیت پرستی کے بجائے جمہوری اُصولوں کیمطابق چلایا جاتا تو آج اسے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ افسوس کا مقام ہے پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اُمیدواروں کیلئے کوئی اہلیت اور معیار مقرر نہیں کیا لہذا مرکزی لیڈر میرٹ کو نظرانداز کرکے ذاتی وفاداری اور اپنے اوپر کی گئی سرمایہ کاری کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ جاری کردیتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے اندرونی ذرائع کیمطابق شریف خاندان نے پارٹی اُمیدواروں کا فیصلہ پہلے کرلیا اور ٹکٹوں کیلئے درخواستیں بعد میں طلب کی گئیں تاکہ پارٹی کارکنوں کو بیوقوف بنا کر پارٹی فنڈ اکٹھا کیا جاسکے۔ مسلم لیگ(ن) نے جمہوری اُصولوں کو پامال کرکے سینٹ کے ٹکٹوں کا فیصلہ کرنے کیلئے پارلیمانی بورڈ تشکیل نہ دیا اور امریکہ و برطانیہ کے دوہری شہریت کے حامل دو افراد کو سینٹ کے ٹکٹ دے دئیے۔ تحریک انصاف بھی اپنی منفرد جمہوری نظریاتی شناخت قائم کرنے میں ناکام رہی ہے اور پرانے کارکنوں کو نظرانداز کرکے ارب پتی افراد کو سینٹ کے ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔ لودھراں میں تحریک انصاف کے اُمیدوار کی شکست عمران خان کیلئے لمحہ فکریہ ہے ان کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی ہوگی اور گلی محلوں میں کام کرنیوالے پارٹی کے کارکنوں سے رابطہ بڑھانا ہوگا۔
سینٹ کا انتخابی تماشا عوام، سول سوسائٹی اور مقتدر ریاستی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اب بھی موقع ہے کہ جمہوری نظام کو شفاف، اخلاقی اور عوامی بنانے کیلئے جوہری تبدیلیاں کی جائیں۔ بھارت کے جمہوری تجربے سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے جس نے آئین میں ترمیم کرکے ضلعی اور مقامی حکومتوں کی سطح پر پنچائتی نظام رائج کیا جسکے نتیجے میں بھارت میں اڑھائی لاکھ مقامی پنچائتیں کام کررہی ہیں۔ 32لاکھ منتخب نمائندے ہیں جن میں پندرہ لاکھ خواتین ہیں۔ عوام کے بنیادی مسائل مقامی سطح پر حل ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی جب تک سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اختیارات محدود کرکے مالی سیاسی اور انتظامی اختیارات یونین کونسل کی سطح پر منتقل نہیں کیے جاتے خرید و فروخت کا بازار گرم رہے گا اور جمہوریت و سیاست خرید و فروخت کی منڈی بنی رہے گی۔ دو سال کی اہل اور دیانتدار نگران حکومت ہی جمہوری، سیاسی اور انتظامی اصلاحات کا کام انجام دے سکتی ہے۔ پاکستان ستر سال کا ہوچکا مگر ابھی شفاف اور یکساں احتساب کی روایت قائم نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن عروج پر پہنچ چکی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے 2013ء کے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اپنے گوشوارے الیکشن کمشن میں داخل کیے تو مضبوط اعصاب کے مالک اور مساوی احتساب کے علمبردار لیفٹیننٹ کرنل(ر) انعام الرحمن ایڈوکیٹ نے نیب میں درخواست دائر کی کہ سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے اثاثے انکی معلوم آمدن سے زیادہ ہیں لہذا نیب آرڈی نینس 1999ء کے مطابق ان کا احتساب کیا جائے۔ نیب نے انکی درخواست اس بنیاد پر مسترد کردی کہ آرڈی نینس کیمطابق نیب کو کسی ریٹائرڈ جرنیل کا احتساب کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ انعام الرحمن ایڈوکیٹ نے نیب کے فیصلے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کردی اور مؤقف اختیار کیا کہ نیب آرڈی نینس کیمطابق ہر اس شخص کا احتساب کیا جاسکتا ہے جو کسی عوامی عہدے پر فائز رہا ہو۔ جنرل پرویز مشرف چونکہ صدر پاکستان کے سیاسی عہدے پر فائز رہے ہیں اس لیے نیب ان کا احتساب کرسکتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے جو جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل تھا کیس کی سماعت کی اور نیب آرڈی نینس کے متعلقہ آرٹیکل کی تشریح کرتے ہوئے تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔ ڈویژن بنچ کے فیصلے کیمطابق جنرل پرویز مشرف چونکہ افواج پاکستان کے منصب سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور وہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائز رہے ہیں لہذا وہ نیب آرڈی نینس کے مطابق نیب کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جو تمام دوسرے قوانین پر بالادستی رکھتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے تمام کنفیوژن دور ہوگیا ہے لہذا اب نیب ان ریٹائرڈ فوجی افسروں کا احتساب بھی کرسکے گا جن کیخلاف کرپشن کے الزامات ہونگے۔ پاک فوج باوقار قومی ادارہ ہے جس کو عوام کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ اپنے اس اعتماد اور وقار کو بحال رکھنے کیلئے لازم ہے کہ پاک فوج ان ریٹائرڈ فوجی افسروں کا دفاع نہ کرے جن پر کرپشن کے الزامات ہوں تاکہ کرپٹ سیاستدانوں کو سازش اور انتقام کا پروپیگنڈہ کرنے ، عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا موقع نہ ملے۔
پاکستان کے منتخب وزیراعظم کا احتساب ہورہا ہے اور نیب آرڈی نینس کیمطابق ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے اربوں روپے کے اثاثوں کے ذرائع آمدن بتائیں۔ اسی قانون کیمطابق جنرل پرویز مشرف کا احتساب بھی ہونا چاہیئے تاکہ پاکستان میں شفاف اور یکساں احتساب کی روایت قائم ہوسکے اور پاکستان موجودہ سنگین بحران سے باہر نکل سکے اور یہ تاثر زائل ہوجائے کہ پاکستان میں صرف سیاستدانوں کا ہی احتساب ہوتا ہے۔ ریاستی امور کے ماہر یہ تجویز بھی پیش کرتے ہیں کہ نیب کو عدلیہ کے ججوں کے احتساب کا بھی اختیار ہونا چاہیئے کیونکہ سپریم جوڈیشل کونسل عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تارک قرآن ہو کر ہم بحیثیت قوم اجتماعی طور پر بربادبلکہ خوار ہورہے ہیں۔ انصاف اور احتساب کے سلسلے میں بھی ہمیں قرآن سے رہنمائی حاصل کرکے اس پر سختی سے عمل کرنا چاہیئے۔ ارشاد ربانی ہے۔’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو عدل و انصاف پر مضبوطی سے ڈٹ جانیوالے اور اللہ کی خوشنودی کیلئے سچی گواہی دینے والے بن جائو گو وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتے دار عزیزوں کے۔ وہ شخص اگر امیر ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے سو تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے گریز کیا تو جان رکھو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے‘‘۔ (135:4) قرآن کی اس واضح اور محکم آیت کیمطابق ہمیں اپنے احتساب کے نظام کو مکمل طور پر مساوی، شفاف اور بلاتفریق بنانا ہوگا۔

بے بسی ہائے تماشا

دنیائے اسلام کے حاکموں کے عمل نے ثا بت کیا ہے کہ وہ منفی سوچ جرات سے عاری ...