لودھراں: دولت ہار گئی نظریہ جیت گیا

14 فروری 2018

لودھراں کے عوام نے بے پناہ دولت کو شکست دے دی ریت کے دریا ستلج کی تہذیب نے دولت کے کھیل کو ہرا دیا ۔ عمران خود بری طرح ہار گیا اس کا نظریہ موروثی سیاست سے بغاوت جیت گیا۔

'نوجوان علی ترین ہار گیا بوڑھا پیر اقبال شاہ جیت گیا'جس کی غربت کا یہ عالم تھا کہ اس نے اپنی انتخابی مہم بھی مانگے تانگے کی چھوٹی سی (coure) کار پر چلائی تھی ان کے مقابل سونے کا چمچ منہ میں لیکر پیدا ہونے والے علی ترین یونین کونسلوں کا دورہ بھی ہیلی کاپٹر پر کرتے رہے۔ ’بے' کار سادہ لوح پیر اقبال شاہ کو عوام نے منتخب کرکے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ وقت نیوز کے پروگرام ’’مدمقابل‘‘ میں تمام تجزیہ نگار اس بات پر متفق تھے کہ جوان سال علی ترین آسانی سے جیت جائیں گے ہم سب کے لاشعور میں دولت کی خیرہ کن طاقت کا رعب اور دبدبہ کار فرما تھا اینکر ثنا بدلتے ہوئے ووٹنگ پیٹرن اور نتائج کی روشنی میں اقبال شاہ کی سبقت کا ذکر کر رہی تھیں کہ برادر کبیر فرخ سعید خواجہ نے صرف یہ رعائت کی کہ اقبال شاہ کو کوئی معجزہ ہی جتا سکتا ہے اور رات گئے وہ معجزہ رونما ہوگیا اور بزرگ اقبال شاہ آسانی سے جیت گئے۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ نوجوان علی ترین کو جہانگیر ترین نے لندن سے بلوا کر بقول عمران ’موروثی سیاست‘ کے 'گند' میں لا ڈالا۔
دکھ ہوتا ہے کہ ایسے اجلے علمی اداروں سے پڑھنے والے امیرزادوں کا انجام انکے اپنے ’باپوں‘ کے ہاتھوں کس قدر عبرتناک ہو رہا ہے۔ 338 پولنگ سٹیشنز کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق پیر اقبال شاہ نے ایک لاکھ تیرہ ہزار پانچ سو بیالیس ووٹ حاصل کئے۔ علی ترین کو پچاسی ہزار نو سو تینتیس ووٹ ملے۔ یوں ستائیس ہزار چھ سو نو ووٹوں سے لودھراں کا سیاسی میدان مار لیاگیا۔ ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں جھڑپیں اور ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ انتخابات کو شفاف، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ بنانے کیلئے دوہزار پولیس اہلکاروں کے علاوہ اتنی ہی تعداد میں پاک فوج کے جوان بھی تعینات تھے۔ دھاندلی کی کوئی ٹھوس شہادت بھی سامنے نہیں آسکی۔ دھاندلی کا کوئی الزام بھی اب تک نہیں لگایا گیاانتخابی نتائج جیسے جیسے سامنے آتے گئے، شام ڈھلتے پی ٹی آئی کے قائدین کے فون بند ہوتے گئے انتخابی نتیجہ نے جیسے لوگوں کے سینے پر کاری ’پھَٹ‘ لگادیا۔ تبصروں کا سیلاں رواں ہے کہ تھمنے کو نہیں۔ طنز میں ڈوبا دلچسپ تبصرہ آیا ’’عمران خان کی پارٹی ہار گئی لیکن ان کا نظریہ جیت گیا کہ موروثی سیاست خراب ہے۔‘‘ اب ذرا مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کا تعارف ہو جائے۔ لودھراں میں ن لیگ کے امیدوار پیراقبال شاہ کے پاس اپنی کوئی سواری نہیں تھی۔ انہوں نے انتخابی مہم اپنے دوست کی مانگی ہوئی ’کورے‘ گاڑی میں چلائی۔ علاقے میں سادہ لوح اور نفیس انسان کی شناخت رکھتے ہیں۔ انکے حامیوں کا کہنا تھا کہ عوام میں رہنے والے پیر اقبال شاہ کا مقابلہ عمران کی ATM جہانگیر ترین کے بیٹے سے تھا۔ تبدیلی لانے اورانقلاب برپا کرنیوالوں کی جماعت کے امیدوار علی ترین ہر یونین کونسل میں اپنا ہیلی کاپٹر اڑاتے پھرے۔ نونہالِ سیاست علی ترین کا اپنے ڈیرہ پر حامیوں سے خطاب میں دعویٰ تھا کہ ضمنی انتخاب میں پچاس ہزار ووٹوں کی لیڈ سے فتح حاصل کرینگے، پچاس ہزار سے ایک ووٹ کم نہیں ہوگا۔ نتیجہ آپکے سامنے ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تحریک انصاف کا صفایا ہوگیا تو باقی ماندہ پنجاب میں کہاں پائوں رکھنے کو جگہ مل پائے گی۔
مخالفین کی توپوں کا رْخ عمران کیطرف ہونا تو غیرمعمولی نہیں لیکن لودھراں انتخابی نتیجہ نے تحریک انصاف کے حامیوں اور کارکنوں کی زبانیں بھی قیادت کیخلاف دراز کردی ہیں۔ سوال ہورہا ہے کہ ’’جناب عمران خان صاحب! تقریریں کرتے ہوئے مثالیں دینا بڑا آسان ہوتا ہے، خود مثال بننا بڑا مشکل اور جان جوکھوں کاکام ہے۔ یہ حقیقت ہے آپ مثال نہیں بن سکے۔ آپ فرماتے ہیں ! میں ریاستی اور آئینی اداروں کا احترام کرتا ہوں لیکن جب الیکشن کمشن آپ کو جلسہ کرنے سے منع کرتا ہے تو آپ دھڑلے سے جلسہ کرکے اپنے قول و فعل کا تضاد نمایاں کرتے ہیں۔‘‘ شعری تبصرہ آیا…؎
اب تو وہ ہو گا جو دل فرمائے گا
بعد میں جو ہو گا دیکھا جائے گا
پی ٹی آئی کے حامیوں کیلئے لودھراں کا نتیجہ ہولناک دھچکا اور ڈرائونا خواب ہے جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پاناما اور احتساب کی ہتھکڑی پہنے ’شریف‘ کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے۔ ان کی عوامی مقبولیت کا ’بھٹہ‘ بیٹھ چکا ہے۔ انقلابیوں کی یہ سوچ دھری کی دھری رہ گئی۔ نتائج نے پہیہ الٹا گھما دیا۔ پی ٹی آئی کی محبت میں غرق اور صدمے سے دوچار ایک ممدوح نے ان الفاظ کا نشتر چلایا کہ ’عمران بھائی وزیراعظم بننے کیلئے آپ کوشریفوں اور زرداری کی سطح پر آنا پڑے گا۔ آپ دن رات سخت محنت کررہے ہیں کہ ان کی طرح ہوجائیں جو بدقسمتی سے پاکستان کے لئے نیک فال نہیں، چینلز کا یہ عالم تھا کہ مسلم لیگ (ن) دشمنی اور عمران خان پر فدا ہوجانے والے ایک ٹی وی پر ’اقبال شاہ 19340 ووٹ لیکر بھی دوسرے نمبر پر ہے اور علی ترین 18765 ووٹ لیکر بھی پہلے نمبر پررہا۔ 30اکتوبر2011 کو مینار پاکستان کے جلسہ سے عوام سے جو وعدے ہوئے تھے، جو خواب دکھائے گئے، وہ جھوٹ ثابت ہوئے، عمل کی میزان پر پورا نہ اتر سکے، بدعہدی کی نذر ہوئے اور پارٹی نظریہ کو ارب پتی مافیا کے ہاتھ فروخت کر دیاگیا۔ میاں محمود الرشید اور اعجاز چودھری کے لاہور میں ارب پتی علیم خان اور مخصوص شہرت کے حامل میاں اسلم اقبال تحریک انصاف کا چہرہ مہرہ قرار پائے تھے پھر یہ تو ہونا تھا۔ اب آخری امید چودھری سرور ہیں۔ اپنا سب کچھ پاکستان پر وار دینے والا بزرگ دیدہ ور اب بھی ناامید نہیں ہوا۔
25اپریل1996سے تحریک انصاف کی صورت عمران احمد خان نیازی کرکٹ سے سیاست کے میدان میں اتراتھا۔ دو دہائیاں ہونے کو آئیں۔ اس عرصہ میں ’شک کی گنجائش‘ دینے والوں کی کمی نہیں رہی لیکن لاہور سے جس تبدیلی کا آغاز ہوا تھا، سات سال بعد وہ لہر بتدریج مررہی ہے۔ نظریاتی کارکنوں کا شکوہ ہے کہ تحریک انصاف جنہیں عبرت کا نشان بنانے کے لئے وجود میں آئی تھی، وہ تمام اجرتی قاتل آج اس پارٹی پر قابض ہیں۔ موروثی، اقربائ￿ پروری، کرپشن، ٹیکس چوری، پیسے کی سیاست کے خلاف جو جدوجہد شروع ہوئی تھی، جس سیاست سے بغاوت کی تھی، عمران نے وہ تمام برائیاں خود اپنالیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ نام نہاد تبدیلی سے خوفزدہ ہوکرواپس سٹیٹس کو کی طرف جارہے ہیں۔
اصلاح کا راستہ یہ تجویز کیاجارہا ہے کہ عمران اسی اْجلے، راست اور سچائی کے راستے پر واپس آجائے جو پارٹی کا اصل نظریہ، دستور اور منشور تھا۔ سیاسی گٹر سے تبدیلی تلاشنے، تعویزات، درختوں پر دھاگے باندھنے اور پیرنیوں کے چکر سے اْسے نکلنا ہوگا۔ بصورت دیگر تحریک انصاف کا مستقبل خطرے میں ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک پارٹی کا نظریاتی چہرہ سنوارنے والوں کو مرکزی دھارے اور فیصلہ سازی میں واپس لانا ہوگا۔ کے ضمنی انتخاب میں آزادامیدوار ملک محمد اظہر دس ہزار دوسو بارہ ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار مرزا محمد علی بیگ صرف تین ہزار ایک سو نواسی ووٹ حاصل کرپائے۔ جو بلوچستان میں جوڑ توڑسے ’تبدیلی‘ لانے والے آصف زرداری کے لئے گہری تشویش سے کم نہیں البتہ بھٹو ازم کی جادونگری میں بھٹکتے نظریاتی کارکنوں کے دل پر وار ضرور ہوا ہوگا۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد چار لاکھ اکتیس ہزارسے زائد بتائی گئی۔ ٹرن آئوٹ بھی خاصا رہا جس سے پتہ چلتا ہے کہ امیدواروں نے خوب زور لگایا۔ ’مجھے کیوں نکالا‘ اینڈکمپنی اس نتیجہ کو اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش میں ہے۔ وہ اس کامیابی کو عدلیہ کے چہرے پر سیاہی ملنے کی عادت بد کیلئے بروئے کار لانے کی جستجو میں ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عوام میں انکی مقبولیت کا گراف بڑھ رہا ہے۔ کیا کہیں کہ عمران کی سیاسی حماقتوں نے اپوزیشن کا کباڑہ کرکے رکھ دیا ہے اور ایسے میں اداروں کو پامال کرنے کا ایجنڈا چلانے والوں کی بدقسمتی سے لاٹری نکل آئی۔ ’نیازی صاحب! سلام آپ کو صد سلام کہ پاکستان کی تقدیر کھوٹی کرنے میں آپ کا لاابالی پن کام آ رہا ہے ۔