صحافت میں تنزلی۔ ذمہ دار کون؟

14 فروری 2018
صحافت میں تنزلی۔ ذمہ دار کون؟

ایم اے صحافت کرنے سے پہلے میں بھی، کارکن صحافیوں کی بہت بڑی تعداد کی طرح صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرچکا تھا۔ پہلے دن سے کالم لکھنے کی ذمہ داری اور وہ بھی محترم مجید نظامی کے اخبار میں اور بھر رپورٹنگ اور وہ بھی عبدالقادر حسن کیساتھ اور پھر نیوزروم میں نوائے وقت کے پہلے نیوز ایڈیٹر حاجی صالح محمد صدیق کے ساتھ اور ایڈیٹروں میں مجید نظامی صاحب کے علاوہ ظہیر بابر صاحب اور حمید جہلمی صاحب کے ساتھ اور نیوز ڈیسک پر اسلم کاشمیری، فضیل ہاشمی، وحید قیصر اور طارق وارثی کے ساتھ غرضیکہ ہر معتبر نام کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ 

تنخواہ ایم اے صحافت سے زیادہ شہرت بھی زیادہ ، ایم اے صحافت ساتھی تھے اور گپ شپ بھی بالعموم خبروں، سرخیوں اور ایڈیٹنگ پر ہی ہوتی تھی کہ مجھے یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ایم اے صحافت میں مجھے بے شمار نئی چیزیں پڑھنے کو ملیں جو بطور کارکن میں نہیں جانتا تھا۔ شاید اس لئے وہ سارے بزرگ صحافی اور ایڈیٹر جنہوں نے ایم اے صحافت نہیں کیا انکی طے شدہ اور مستقل رائے تھی کہ ایم اے صحافت کرنے سے صحافت نہیں آجاتی‘ میں بھی انکی رائے کا اس اس وقت تک حامی رہا جب تک میں نے صحافت کی نظری تعلیم حاصل نہ کی دو سال کے ایم اے کو ایک سال میں کرکے یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کی بڑی وجہ یقیناً میری صحافت کی عملی تربیت تھی اور میں نے نظری اور عملی صحافت کو بھرپور انداز سے استعمال کیا صحافت کی تعلیم کی افادیت اور ضرورت کو میںنے ہمیشہ محسوس کیا۔ آج ٹیلی ویژن کی اس مشروم گروتھ کے ساتھ زیادہ شدت سے محسوس کر رہا ہوں بزرگ صحافیوں کا وہ گروپ جو صحافت کے شعبہ میں پوری طرح چھایا ہوا تھا اور صحافت کا تعلیم کو نہ صحافت میں کیلئے ضروری سمجھتا تھا اور نہ ہی ایسی تعلیم حاصل کرنیوالے کو بہتر صحافی مانتا تھا قومی حد تک تو اپنے موقف پر ڈٹا رہا کیونکہ خبر کی تردید کرنا اس دور میں بہت بڑی ناکامی یا صحافتی بدنامی تھی اس لئے بادل نخواستہ کسی کونے کھدرے میں غیر نمایاں تردید شائع کی جاتی مگر عملاً یہ سارے لوگ اپنی اولاد کیلئے اس تعلیم کے قائل ہو گئے۔ اور میرے ٹھوس شواہد کے سامنے ان میں سے کسی نے بھی اپنے موقف پر ڈٹ جانے یا ڈٹے رہنے سے گریز کیا ۔ حمید نظامی سے لیکر شورش کاشمیری تک حمید جہاں مصطفی صادق ۔ مجیب الرحمٰن شامی ضیاء شاہد عبدالقادر حسن اور منو بھائی مشرق کے چیف ایڈیٹر اقبال زبیری اور حریت کے توصیف احمد خاں ایسے بڑے بڑے صحافیوں نے اپنی اولاد کو صحافت کی تعلیم کیلئے یونیورسٹی بھیجا۔ یونیورسٹی کے اساتذہ میں ڈاکٹر عبدالسلام خورشید سے پروفیسر وارث میر تک جو دونوں اخبارات میں ریگولر لکھتے تھے اپنے کسی نہ کسی بچے کو صحافت کی ڈگر ی حاصل کرنے کیلئے یونیورسٹی میں داخل کر دیا۔
گویا اگر کسی کی اولاد نے یہ تعلیم حاصل نہیں کی تو ان کے عزیزواقارب میں سے کسی نہ کسی نے ادھر کا رخ کیا۔ میں بے شمار نامم بھول گیا اور بے شمار دوستوں کا ذکر کرنے سے رہ گیا ۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق ایم ڈی اشرف عظیم خود ایم اے صحافت کر کے یہاں پہنچے۔ اس وقت کم از کم چار اخبارات ایسے ہیں جن میں ہمارے شعبہ کے پڑھے ہوئے گروپ ایڈیٹر یا ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے کسی سے بھی نو کے چھچھورا پن کی توقع نہیں اور اگر کبھی ایسا ہو جائے تو وہاں صحافت کا استاد انہیں ڈانٹ کر خاموش کرا دیتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنیوالے عملی صحافت میں اسکی آبرو کی حفاظت بعض صورتوں میں ان سے زیادہ کرتے نظر آتے ہیں جتنا انہیں کرنا چاہیے۔ محکمہ اطلاعات میں 1980ء میں پبلک سروس کمشن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے انٹرویو میں جو چار امیداوار کامیاب ہوئے ان میں تین ایم اے صحافت تھے مگر ٹاپ کرنیوالے نے کسی اور شعبہ میں ایم اے کیا تھا اسکی پرفارمنس کو میں اور میرے ساتھی ممبر نظرانداز نہیں کر سکتے تھے۔ ایم اے صحافت کا تعصب اس لئے وہاں نہ آیا کہ صحافت کے ضابطہ اخلاق میں ہم نے یہ پڑھا بھی نہیں تھا پڑھایا بھی نہیں تھا۔ برادرم جمیل اطہر ایک نہیں دو دو اخبارات چلا رہے ہیں اس کامیابی سے چلا رہے ہیں ان کا بیٹا ایم اے صحافت کر کے باپ کا دست و بازو تو بن گیا مگر باپ والی صلاحیت اور نام حاصل نہیں کر سکا۔
نظری اور عملی تربیت کی بحث مجھے امریکہ کی کم از کم بارہ میں دس یونیورسٹیوں میں اس وقت بالکل پاکستانی سٹائل میں دیکھنے کو ملی جب میں فل برائٹ سکالر کی حیثیت سے 1990 میں امریکہ کی ان یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے گیا۔یہ کتھا سنانے کا مقصد یہ ہے کہ صحافت کی تعلیم نہیں تو تربیت بھی آپ کو بہتر صحافی بنا سکتی ہے دونوں سے تعلق نہ ہو تو پھر آپ گالی گلوچ اور دھمکیوں کی زبان کی اکلوتی آپشن پر عمل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اگر قصور کی زینب کی وہ خبر جو ایک معروف ٹی وی اینکر نے چلائی اور بہت جذباتی انداز میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اس کا نوٹس لینے کی درخواست کی مگر مجھے یقین ہے اگر وہ رؤف کلاسرا یا اسی طرح کے کسی اور تحقیقاتی رپورٹنگ کرنیوالے صحافی کے پاس پڑتی تھی ملزم عمران کے مختلف بینکوں میں اکاؤنٹ کی فہرست دیکھ کر جذباتی نہ ہو جاتا اگلے دو تین دن میں اسکی پہلے متعلقہ بینکوں سے پھر سٹیٹ بینک سے تصدیق کرواتا اس لسٹ کو خبر کیلئے صرف ’’ٹپ‘‘ سمجھتا اور پھر نہ خود پریشان ہوتا نہ ہیجان پھیلانے اور سنسنی پھیلانے کے الزامات کا سامنا کرتا نہ وضاحتیں کرتا نہ دشمنیاں پالتا،نہ یہ کہتا مجھے پھانسی دے دو اور نہ ہی اینکر کو صحافی اور نہ ماننے والے اینکر یا صحافی کی بات کا بُرا مناتا۔ وہ صحافت کی تعلیم میں ضیاء الدین برنی کے حوالے سے فیروز شاہی تاریخ میں درج اس واقع کو کانسیس آف جرنلزم کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کی کتابوں میں بھی پڑھ چکا ہوتا کہ خبر کی حرمت کیا ہے اور غلط خبر کی سزا کیا ہے۔ ضیاء الدین برنی لکھتے ہیں کہ بدایوں کے حکمران ملک لق لق بہت بڑے زمیندار تھے انکے بلبن کے ساتھ بہت قریبی دوستانہ مراسم تھے ایک بار ملک لق لق نے شراب کے نشہ میں اپنے ایک دوست کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کچھ عرصہ بعد بلن جب بدایوں کے دورہ پر آیا تو ملک لق لق کے دوست کی بیوہ نے زبانی بادشاہ سے شکایت کی شہنشاہ بلبن نے موقع پر ہی حکم دیا کہ جس طرح میرے دوست ملک لق لق نے کوڑے مار مار کر اپنے دوست کو موت کے گھاٹ اتارا ہے اس طرح مرحوم کی بیوہ کے سامنے ملک لق لق کے جسم پر اتنے کوڑے برسائے جائیں کہ اسکی روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے۔ بادشاہ کے حکم پر عمل ہوا تو بادشاہ نے اس خبر کو چھاپنے اور شائع ہونے کی ذمہ داری پوری نہ کرنے والے صحافی کو شہر کے مرکزی دروازے پر پھانسی کا حکم دے دیا۔ اس واقعہ سے خبر کی اہمیت اور حرمت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے اوررپورٹر کی ذمہ داری اور کردار کی بھی ذمہ داری نہ نبھانے کے جرم کی سزا کا بھی۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خبر حاصل کرنا ہی رپورٹر کی ذمہ داری نہیں اسے نشریا شائع کرنے کے عمل کا حصہ بننا بھی اسکے فرائض میں ہے اس لئے ماضی میں خبر کی سچائی پر سب صحافی متفق ہوتے تھے۔ خبر میں پہل کی دوڑ نے سب کو برباد کر دیا مگر تحقیقاتی رپورٹنگ میں اولیت یا پہل کا تصور اسلئے قبول نہ کیا گیا کہ سچ تک پہنچنے کیلئے تحقیقات کے مراحل میں آنیوالی مشکلات اور دشواریوں پر قابو پانے میں نہ وقت کی کوئی قید ہے نہ کسی سے چھچھورا مقابلہ۔ مجھے معروف امریکی صحافی سیئو برائون کے ماتھے پر نمودار ہونیوالے شرمندگی اور ندامت کے وہ قطرے کبھی نہیں بھولتے جب ٹیلی ویژن پر میرا انٹرویو کرتے ہوئے اسے نیوز روم سے بتایا گیا کہ اسکی کسی خبر کی تردید آ گئی ہے۔معذرت، معافی، شرمندگی کیلئے ہر انگریزی کا لفظ ادا کر کے بھی وہ مطمئن نہیں ہوا تھا مگر کیا کہا جائے جب محاورے کی زبانی میں بندر کے ہاتھ استرا آ جائے تو وہ ہر کسی کیلئے خطرہ کی گھنٹی بجا دیتا ہے۔
کسی سسٹم میں کام کرنے سے جو تربیت ہوتی ہے اسکی ایک مثال کسی لفظ کو بے احتیاطی سے استعمال کرنے سے دی جا سکتی ہے۔ نوائے وقت نیوز روم میں رات کی ڈیوٹی کے دوران ایک صاحب آئے اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے آپ نے آج کے اخبار میں زنا بالجبر کا لفظ لکھا ہے یقیناً یہ کسی واقع کو رپورٹ کرتے ہوئے آپکے رپورٹر نے استعمال کیا ہے اور سب ایڈیٹر نے اسے اس طرح جانے دیا ہے میں یہاں کسی قسم کی بحث کرنے یا اخلاقیات پر درس دینے نہیں آیا۔مجھے ایک مشکل پیش آ گئی میرے پاس اس سے نکلنے کا ایک ہی ذریعہ تھا کہ آپ سے آ کر پوچھ لوں مشکل یہ ہے کہ میری چھوٹی بیٹی جس نے میری تحریک پر اخبار پڑھنا شروع کیا ہے آپ کا آج کا یہ اخبار میرے پاس لیکر آئی اور پوچھا ابو یہ زنا بالجبر کیا ہے مجھے اس کے معنی سمجھ نہیں آئے آپ بتائیں میں اپنی چھوٹی سی معصوم بچی کو کیا بتائوں ، نیوز روم میں میرے سمیت سب کی زبانیں گنگ تھیں نہ معذرت کیلئے الفاظ تھے نہ ’’ میں نہ مانوں کی گردان ‘‘کرنے کی جرأت نہ اسے جھٹلانے اور خود کو ہزاروں لاکھوں لفظوں میں ایک لفظ کو پکڑ لینے کے طعنیٰ دینے کا موقع خاموشی ہماری شرمندگی اور لا جواب ہونے کا اکلوتا جواب تھا۔ صبح نظامی صاحب کو واقعہ سنایا انہوں نے اسی وقت ہدایت کی کہ آئندہ اخبار میں یہ لفظ نہ چھپے اسکی جگہ تشدد یا زیادتی لکھیں اور ساتھ ہی ہدایت کی کہ جس بچی کے ساتھ زیادتی کی خبر آئے اسکی تصویر چھاپنے کی تونہ ہی جرأت کرنا اس کا نام بھی نہ لکھنا زیادہ سے زیادہ نام کا پہلا حرف جیسے صائمہ کا ’’ص ‘‘اور زینب کا ’’ز‘‘ ہے لکھنا۔ اور پھر ایک عرصہ تک نوائے وقت میں اس پر عمل درآمد ہوا۔ (ختم شد)