ایران اور پاکستان

14 فروری 2018

جیسا پچھلے کالم میں عرض کر چکا تاریخی اہمیت کے لحاظ سے 1906ء وہ یادگار سال ہے جب شیراز اور اصفہان کے خوبصورت سرسبز باغات اور فارسی جیسی میٹھی زبان کی وجہ سے عالمی شہرت رکھنے والی ایرانی سرزمین پر پہلی دفعہ پارلیمنٹ کا پودا لگا جو دیکھتے ہی دیکھتے دو سال کے عرصے میں اتنا تناور ہو گیا کہ دنیا نے دیکھا کہ وہ ایرانی سرزمین جہاں صدیوں سے بادشاہت کے جھنڈوں تلے شخصی حکومتیں قائم تھیں وہاں قانونی اصلاحات کے حامیوں کی کثیر تعداد 1908ء میں سپرئیر پارلیمنٹ کے نام پر علی قلی خان اور نجف قلی خان بختیاری کی قیادت میں آذربائیجان اور اصفہان میں اسطرح اکھٹی ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے تیرہ جولائی 1909ء کو جسے تاریخ میں Triumph of Tehran کے نام سے یاد کیا جاتا ہے محمد شاہ کجر کو اقتدار اپنے بھائی احمد شاہ کجر کے حوالے کر کے ایران سے بھاگنا پڑا جسکا افسوس ناک نتیجہ یہ نکلا کہ نظم و نسق بحالی کے نام پر رشیا نے 1911ء میں شمالی ایران کے علاقوں پر قبضہ کر لیا لیکن رشیا کا یہ قدم ایران میں سیاسی شعور کی بیداری کے آگے اس وقت بے بس نظر آیا جب مرزا کوچک خان نے غیر ملکی قبضے اور کجر حکمرانوں کے خلاف جنگل موومنٹ شروع کی گو کہ جنگ عظیم اوّل میں مغربی ایران کا زیادہ تر حصہ برطانیہ کے زیر تسلط چلا گیا لیکن ایران کی تاریخ میں فروری 1921ء کے وہ لمحات بھی آئے جب کوسک برگیڈ کے سابقہ جرنل رضا خان جو بعد میں رضا شاہ کہلائے نے کجر خاندان کو انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سے مکمل علیحدہ کرتے ہوئے بطور وزیراعظم اقتدار سنبھالا لیکن پھر اس انقلابی نے بھی 1925ء میں اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا جسکا شخصی اقتدار اس وقت رْخصت ہوا جب رضا شاہ کو 1941ء کے اواخر میں اپنے بیٹے محمد رضا پہلوی کے حق میں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔ گو کہ 1943ء میں تہران کانفرنس کے موقع پر تین بڑوں جوزف سٹالن، روز ویلٹ اور ونسٹن چرچل نے ایران کی آزادی اور اسکی سرحدوں کی مکمل پاسداری کا یقین دلایا تھا لیکن جنگ عظیم دوئم کے خاتمے پر روس کی افواج ایران میں ہی رہیں اور اسکے ساتھ ہی رشیا نے شمال مغربی ایران کے حصے میں آذربائیجان اور ماہباد کے نام سے دو پرورشین علیحدہ ریاستیں قائم کر دیں جو زیادہ دیر اپنا وجود قائم نہ رکھ سکیں اور رشیا کے قبضے میں چلی گیئں لیکن 1946ء میں رشیا کو امریکہ اور برطانیہ کے اصرار پر ایران سے نکلنا پڑا۔ 1951ء میں محمد مصدق ایران کا وزیراعظم بنا جس نے جب ایران میں موجود آئل انڈسٹری کو قومی تحویل میں لیا تو وہ عوام میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگا جو سامراجی قوتوں کو کہاں برداشت ہو سکتی تھا لہذا پھر وہی ہوا جو یہ گھناؤنی طاقتیں کرتی ہیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ کس طرح برطانیہ اور امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے گھناونے کردار کے ذریعے مصدق کو 1953ء میں اقتدار سے علیحدہ کیا اور پھر محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کو اس قدر طاقتور بنایا کہ اگلی کئی دہائیوں تک ایران پر رضا پہلوی مطلق العنان حکمران کے طور پر تو فائز رہا لیکن اسکی ساری باگ ڈور امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھوں میں تھی اسطرح دنیا میں امریکہ کا سب سے بڑا کوئی حمائیتی جانا جاتا تھا تو وہ شاہ ایران تھا۔ پھر 1979ء کا وہ دور بھی آیا جب آیت اللہ روح اللہ خمینی کی برسوں پر محیط جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پر شاہ ایران کو ملک چھوڑنا پڑا اور وہ ایران جو رضا پہلوی کے زمانے میں اپنی سیکولر شناخت رکھتا تھا 1979ء میں دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نام سے متعارف ہوا جسکا کل رقبہ 1,648,195 مربع کلومیٹر ہے اور جو اکتیس صوبوں پر مشتمل ہے۔ ایران کی کل آبادی تقریباً اْٹھ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مشہد، شیراز اور اصفہان کا حْسن دیدنی ہے اور یہاں کے باغات کی طرز آرائش پوری دنیا میں اپنی مثال اپ ہے۔ ایک اور حقیقت جس سے فرار تقریباً ناممکن جس طرح فارسی زبان کی شرینی پوری دنیا میں مشہور ہے اسی طرح اس زبان کے بولنے والے بھی اپنے میٹھے مزاج کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ اس حقیقت کی روشنی میں اگر پاکستان سے انکا رشتہ دیکھا جائے تو جیسا پہلے عرض کر چکا دنیا کا سب سے پہلا وہ ملک جس نے سب سے پہلے پاکستان کو آزاد ہونے پر تسلیم کیا وہ یہی ایران تھا اور وہ غیر ملکی سربراہ جس نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا وہ بھی اسی ایران کا بادشاہ تھا۔ بعض مورخ پاکستان کی طرف ایران کے اس جھکاؤ کی بڑی وجہ جیو پولیٹیکل تناظر میں بھارت کی طرف سے مصر کے جمال عبدالناصر کی Pan-Arab Ideology جو ایران اور مصر کے درمیان بہت بڑا تنازعہ تھی کی سپورٹ کو بھی قرار دیتے ہیں لیکن اس وقت کے زمینی حقائق اس بات کی بھی گواہی دیتے ہیں کہ یہ رومانس ایران کی طرف سے یکطرفہ نہیں تھا اس حقیقت کو جاننے کیلئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں پڑتی صرف اور صرف 1955ء میں ہونے والے (CENTO) معاہدے پر ہی ایک نظر ڈال لیں گو کہ یہ اس وقت پاکستان کی سلامتی کی اولین ترجیح سمجھی جا رہی تھی کہ وہ کسی ایسے معاہدے میں شامل ہو لیکن تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان اس وقت تک اس معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے تیار نہ ہوا جب تک ایران نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کی حامی نہیں بھری کیونکہ اس وقت ایران کے برطانیہ کے ساتھ تیل والے مسئلے پر کچھ تحفظات تھے جو ایران چاہتا تھا کہ اس معاہدے پر دستخطوں سے پہلے وہ خدشات دور ہوں۔

اسی طرح پاکستان ، ایران اور ترکی نے Central Treaty Organization کے نام سے امریکہ کے ساتھ ایک اور معاہدہ بھی کیا جسکا 1965ء کی جنگ میں امریکہ نے تو احترام نہ کیا لیکن جسطرح اس جنگ میں ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا وہ بھی رہتی دنیا تک اپنی ایک مثال رہے گا۔ اس جنگ میں نہ صرف ایران نے طبی عملے، ادویات اور پانچ ہزار ٹن تیل کی صورت میں پاکستان کی مدد کی بلکہ واقفان حال بتاتے ہیں کہ اس نے پاکستان کو جرمنی سے سیبر جیٹ طیارے بھی خرید کر دیے اور پھر 1971ء کی جنگ میں بھی ایران نے ہر طرح پاکستان کی نہ صرف سفارتی محاذ بلکہ فوجی ہتھیار مہیا کر کے بھی مدد کی۔ پھر 1973ء میں جب سویت یونین، افغانستان اور بھارت کی ملی بھگت سے بلوچستان میں سورش برپا ہوئی تو ایران نے اس پر قابو پانے میں پاکستان کی نہ صرف انٹیلی جنس سطح پر مدد کی بلکہ اس میں حربی اور عسکری طور پر بھی ہر طرح کی مدد کی لیکن تاریخ کے جھروکوں میں ایران اور پاکستان کے مثالی رشتہ میں پہلی دفعہ اس وقت ہلکا سا ارتعاش دیکھنے کو ملتا ہے جب 1974ء میں پاکستان میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے اور لیبیا کے کرنل قذافی جنکے ساتھ شاہ ایران کی خاصی مخالفت پائی جاتی ہے انھے اس کانفرنس میں مدعو کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے شاہ ایران اس کانفرنس میں آنے سے معذرت کر لیتے ہیں لیکن اسکے باوجود ایران اپنے ظرف پر آنچ نہیں آنے دیتا اور 1976ء میں یہی شاہ ایران جب افغانستان کا سردار داؤد پاکستان کا سردرد بنا ہوتا ہے سعودی عرب کے شاہ خالد کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور افغانستان کو پاکستان کی مخالفت سے باز رکھنے کیلئے نہ صرف سفارتی تعلقات استعمال کرتا ہے بلکہ کئی ملین ڈالروں میں افغانستان کی مدد کر کے اسے سویت یونین اور بھارت سے دور کرتا ہے۔

ایران اور پاکستان

اس کائنات میں اللہ کی ذات کے بعد اگر کوئی ذات سب سے زیادہ طاقتور اور بااختیار ...