وہ کشتیاں جلانے والے کیا ہوئے!

14 فروری 2018

ملکی عدلیہ اور سیاسی لڑائی میں تیزی سے شدت آ رہی ہے جبکہ اصل طاقت خاموش ہے۔ عدلیہ کے ہاتھوں نااہل قرار پانے کے بعد سابق وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب کشتیاں جِلا کر آئے ہیں اور اب مقابلہ کرکے ووٹ کا تقدس بحال کریں گے۔ جس کے جواب میں عدلیہ نے ان کے حواری نہال ہاشمی کو اڈیالہ جیل بھیج کر اپنا حساب برابر کیا ہے۔ اس پر ایک دوست نے علامہ خادم حسین رضوی کی وہ ویڈیو وٹس اپ کی جس میں وہ عدلیہ کے سربراہ سمیت ججوں کے درجات بلند کر رہے ہیں اور سوال کیا کہ کیا یہ بھی کشتیاں جِلا کر نکلے تھے؟ اس طرح کے سو سو سوالات پیدا ہو رہے ہیں جن کا جواب یہی ہے کہ عوامی امنگوں کے خلاف چلنے والا نظام اب اپنی اصل شکل دکھا رہا ہے مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ اس کا متبادل نظام وضع کرنے کا نہ تو کشتیاں جلانے والوں کو خیال آ رہا ہے اور نہ ہی ان کے مدمقابل قوتوں کو کہ بے انصافی پر مبنی نظام میں یا تو کچھ ’’پبلک ریلیف‘‘ ڈالاجائے یا پھر یہ ’’کفریہ‘‘ نظام کی بساط سمیٹ کر کوئی ایسا نظام تلاش کیا جائے جو اس کی جگہ لے سکے اور اس کے لیے پبلک یا اصل طاقت کو ہی بالآخر رول کرنا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اصل طاقت تو ’’پبلک‘‘ ہے اور اس کا کردار کسی بھی فریق کو قبول نہیں۔ ریاست اپنے ستونوں پر چلتی ہے مگر ستون صرف ریاست کو کھڑا رہنے میں ہی مدد دے سکتے ہیں۔ ریاست کے چلانے والوں کا تعین پبلک نے ہی کرنا ہے اور اس کا واحد حل ایک شفاف اور دیانتدار الیکشن ہے۔ جس کو ملتوی کرنے اور لوگوں کو اپنے لیے فیصلہ کرنے کا حق دینے کو کوئی بھی ستون تیار نہیں!کشتیاں جلانے والوں کو ایک اور کشتیاں ڈبونے والے نے کہا ہے کہ آپ کا وجود اس دھرتی پر بوجھ بن چکا تھا اس لیے ’’آپ کو نکالا گیا‘‘ حالانکہ وہ بھی اپنی کشتی کو اپنی مسکراہٹ جو کئی لاشوں کے درمیان سے گزر کر آگے آئی تھی کے بل پر سلامت نکال لے گئے تھے!!

اخبار میں روز ایک نئی خبر ایسی آتی ہے کہ دل دہل جاتا ہے مگر چونکہ اخبار کا مطالعہ کرنے کی عادت چوتھی جماعت سے پڑ چکی ہے اس لیے اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی صورت نہیں۔ کل کی خبر عطاء الق قاسمی کے حوالے سے تھی جس میں بتایا گیا کہ سابقہ حکومت نے ان کو 2سالوں میں 27کروڑ روپے سے نوازا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ الزام درست ہونے پر اس رقم کی ریکوری کی جائے گی مگر لگتا ہے یہ سارا ڈرامہ ان کی سالگرہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے کھیلا گیا اور اس کی حیثیت بھی زینب کیس سے زیادہ نہیں ہو گی جو اب ضلعی سطح کی تفتیش بن کر رہ گیا ہے۔ چند ماہ پہلے عطا صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے چیئرمین کا عہدہ سنبھالتے ہی درخواست کی تھی کہ وہ اس عہدہ پر بلاتنخواہ کام کریں گے مگر یہ سمری وزیراعظم کی سطح پر مسترد کر دی گئی مگر انہوں نے چھ ماہ کی تنخواہ واپس جمع کرا کے باقاعدہ رسید حاصل کی جو ان کے پاس موجود ہے۔ اس پر ایک باخبر بیوروکریٹ سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ بحیثیت چیئرمین ان کی تقرری خلاف قانون نہیں تھی۔ مگر بعدازاں جب انہیں ایم ڈی کا چارج دیا گیا کہ اس آرڈر کا دفاع کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ کافی عرصہ پی ٹی وی کے ایم ڈی کا عہدہ خالی تھا اور بالآخر چیئرمین کو ہی اس کا اضافی چارج دینے کا فیصلہ اعلیٰ سطح پر ہی ہوا ہوگا۔ یہ فیصلہ ایک ستون کو ’’ہضم‘‘ نہیں ہوا اور جب زمام اس کے ہاتھ آئی تو اس نے ایک عوامی سطح کے دانشور کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ مذکورہ بالاخبر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتی ہے کیونکہ اقتدار کی راہ داریوں میں کوئی رشتہ بھی امر نہیں ہوتا۔
اس کھیل میں جو دو تین نام اور لیے جا رہے ہیں ان میں ایک نام صبا محسن کا ہے جو اس وقت سیکرٹری انفرمیشن تھیں ان کی ذہانت اور امانت داری پر کوئی شبہ نہیں اس طرح دوسرا نام فواد حسن فواد کا ہے اور یہ بات طے ہے کہ وہ عطا الحق قاسمی سے ہرگز متاثر نہ تھے کہ وہ ان کو اتنی کثیر رقم دینے کا فیصلہ خود کرتے۔ جب کہ وہ خود بھی آج کل اس حوالے سے کئی قسم کے دبائو کا شکار ہیں کہ ان پر بھی ایسے کئی الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ جو ابھی تک صرف الزام ہی ہیں جبکہ ان کی کردار کشی کا سبب وہی ہے جو عطا الحق قاسمی کی کردار کشی کا ہے۔یہ سب کشتیاں جلانے کا کھیل ہے اور کون اپنی کشتی سلامت لے کر نکلتا ہے اور کون اپنی کشتی جلا کر دریا میں یاسمندر میں کودتا ہے اور جوش ایمانی سے کنارے لگتا ہے یہ سب غیر واضح ہے کہ سمندر میں سب کچھ بالاسمندر نہیں ہوتا کچھ مسائل زیر سمندر ہوتے ہیں جن سے کنارے پر کھڑے لوگ واقف نہیں ہوتے۔شکیب جلالی نے کہا تھا:
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتا بھی دیکھ
یہ سوال بھی شکیب نے کنارے پر کھڑے کسی محبوب سے کیا تھا جس نے اسے کشتی پر بوجھ بننے کا طعنہ دیا تھا یہاں تو ہر کوئی دوسرے کو اس الزام کا طعنہ دے رہا ہے اور زیر سمندر مسائل سے بالکل بے خبر ہو کر کہ معاملات کی دھندلاہٹ نے کچھ بھی تو واضح نہیں رہنے دیا۔ اب اس سارے انتشار کے دوحل تو واضح ہیں کہ ایک تو کشتیاں جلانے اور ڈبونے کا کھیل فوراً روکا جائے یا دوسرا یہ کہ بجائے کشتیاں جلانے کے کوئی منصف کشتیوں کی دوڑ کا مقابلہ کرا دے جو اپنی مہارت یا مسکراہٹ کی وجہ سے دوڑ جیت جائے وہ سمند رپر اپنا پھریرا لہرائے اور باقی سب اس دوڑ کے تماشائی تو ہوں مگر اس فیصلے کو تسلیم بھی کریں۔ آج کی صورت حال میں دوسرا حل ہی ممکن ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پہلا حل بھی ممکن ہو پائے گا جبکہ پہلے حل کے بارے میں کچھ کہنا اس لیے بھی ناممکن ہے کہ وہ اپنے اپنے سروائیول کے لیے بھی سبھی نے اختیار کیا ہوا ہے۔
ہماری ریاست کے سبھی ’’ستونوں‘‘ سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ اس حقیقت کو جان لیں کہ ریاست ہے تو ستون ہیں اور وہ سہولت کار ہی رہیں تو زیادہ بہتر ہے کہ کبھی کبھی سروں پر آسمان بھی ٹوٹ پڑتا ہے اور جب آسمان ٹوٹ پڑے تو پھر ستون بھی اس کے نیچے آ جاتے ہیں۔ ہمارے ایک اور دوست نے ہماری توجہ ایک اور مسئلے کی طرف بھی دلوائی ہے کہ راتوں رات ابھرنے والی ہائوسنگ سوسائٹیاں لوگوں کی بچتوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں اور اس حوالے سے LDA کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے مگر LDAتو خود ان میں شامل ہے کہ بہت سے منصوبے ابھی تک نامکمل ہیں مگر پھر بھی پرانے والا پچھلے منصوبے کو وہیں چھوڑ کر اپنے نام کا منصوبہ بنا کر اپنا مقام بنانے کے چکر میں رہتا ہے۔
ہماری تجویز ہے کہ اس پر فوری قانون سازی کرتے ہوئے سب سوسائٹیوں پر نیشنل سیونگ آرڈیننس کا اطلاق کیا جائے کہ ہر سوسائٹی اپنے کھاتہ داروں کو نیشنل سیونگ کی شرح کے مطابق ان کے سرمایے پر منافع دینے کی پابند ہو تاکہ جو بے چارے پلاٹوں کے خریدوفروخت کا دھندہ نہیں کر سکتے ان کی بچتوں کو بھی کوئی تحفظ حاصل ہو۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور تفصیلی اظہارِ خیال کا طلبگار ہے۔ اس پر الگ سے ایک بحث قومی سطح پر ہونی چاہیے اور ہماری قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اس پر بات چیت کرکے اپنے تجزیئے سے آگاہ کریں تاکہ جو لوگ اپنی بچتیں اپنی کشتیوں میں لیے پھرتے ہیں اور بالائے یا زیر سمندر مسائل سے آگاہ نہیں ان کی کشتیاں اگر جلیں تو کم از کم ان کی بچتیں تو ان کے لواحقین تک پہنچ سکیں!!