کیسی ہے یہ سیاست!

14 فروری 2018
کیسی ہے یہ سیاست!

سیاست میں سیاسی حریفوں کی جنگ، لڑائی یا اُن کے درمیان شدید اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ہوتا آیا ہے جب کوئی پارٹی یا جماعت حکومت میں ہو تو جو سیاسی جماعتیں حکومت سے باہر ہوتی ہیں وہ حکمران جماعت کے خلاف اس طرح صف آرا ہو جاتی ہیں کہ نظر آتا ہے کہ وہ محبت، اخوت، مروت اور شرم و حیا کے سب تقاضے بھول گئی ہیں۔ پاکستان ہی نہیں ہم نے یورپ کی بعض اسمبلیوں میں بھی دھینگا مشتی کے بہت سے ناقابل فراموش اور دلخراش مناظر دیکھے ہیں اور ان اسمبلیوں کو مچھلی منڈی میں بھی تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ مگر آج ہم صرف پاکستان کی بات کریں گے، پاکستان کی سیاست اور اس میں ختم ہونے والی اُس تہذیب اور روایات کی، جو کبھی ہمارا کلچر تھی۔ پاکستان آزاد ہوا تو قائداعظم محمد علی جناح اس کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے۔ انہوں نے ہی جمہوری اور پارلیمانی روایات کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کو جمہوری اور پارلیمانی سیاست سے روشناس کرایا۔پاکستان کی تشکیل ہوئی تو ایک ہی سیاسی جماعت تھی۔ پاکستان مسلم لیگ۔ اس جماعت کو ہی پاکستان کو معرضِ وجود میں لانے کا بے مثال کریڈٹ ملا۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ دو حصوں میں بٹی۔ لیکن اس دوران کچھ اور جماعتیں بھی وجود میں آ گئیں۔ لیکن یہ چھوٹی چھوٹی علاقائی سیاسی جماعتیں تھیں۔ پینسٹھ گزرا، اڑسٹھ آیا تو لاہور میں ایک نئی سیاسی جماعت نے جنم لیا جس کا نام پاکستان پیپلز پارٹی تھا۔ اس جماعت کے قائد اور بانی ذوالفقار علی بھٹو تھے۔جو صدر جنرل محمد ایوب خاں کی حکومت میں بطور وزیر خارجہ کام کر رہے تھے اور استعفیٰ دے کر اس نئی سیاسی جماعت کے وجود کا باعث بن گئے تھے۔ چونکہ پاکستانی سیاست میں ان دنوں سیاسی کلچر کا ایک بڑا خلاء موجود تھا اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی لوگوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ پارٹی قیادت ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تھی جو ایک زیرک سیاستدان تھے۔ اُن کی ٹیم میں نہایت ذہین اور انتہائی پڑھے لکھے لوگ موجود تھے۔ اس لیے وہ اپنے عوام کو ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ جیسا بڑا ، دلفریب اور مسحور کن نعرہ دینے میں کامیاب رہے۔ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے سلوگن کو عوام میں اس قد ر پذیرائی ملی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف ملک کی ایک مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی بلکہ جنرل الیکشن میں بھی کامیاب ٹھہری۔ یوں اقتدار کی ہُما ذوالفقار علی بھٹو کے سر پر آ بیٹھی۔ 

یہ الگ کہانی ہے کہ اس جنرل الیکشن کے نتیجے میں کیا ہوا، مشرقی پاکستان جو پاکستان کا حصّہ تھا ہماری سیاسی پالیسی کے باعث نہ صرف پاکستان سے الگ ہو گیا بلکہ الگ ہو کر یہ مشرقی حصّہ بنگلہ دیش کہلایا۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے پیچھے سیاسی رسہ کشی کا ہی ہاتھ تھا۔
یہ سیاسی رسہ کشی آج بھی جاری ہے گو کہ زمانہ بدل گیا ہے۔ وقت کی رفتار اور رِیت وہ نہیں رہی۔ سیاسی جماعتیں عددی لحاظ سے بہت بڑھ گئی ہیں۔ مگر سیاسی تہذیب و ثقافت اور سلیقے میں ہم بہت کمی دیکھتے ہیں۔ اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تیس سے زیادہ سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم ان میں سے صرف تین چار کو ہی نیشنل لیول کی جماعت ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ ان جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) شامل ہیں۔ اے این پی، ایم کیو ایم وغیرہ صوبائی یا علاقائی سطح کی جماعتیں ہیں۔ ان تمام جماعتوں کے رہنمائوں کی بیان بازی اور مختلف نجی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں ان کی شرکت اور گفتگو سے انداز ہ ہوتا ہے کہ ہم سیاست میں شعوری طور پر کہاں پہنچ چکے ہیں۔ عوامی یا سیاسی جلسوں میں بعض رہنمائوں کی طرف سے جو زبان استعمال کی جاتی ہے۔ وہ اتنی سطحی اور گری ہوئی ہوتی ہے کہ کسی نئے کو سیاست میں آنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا۔ گزشتہ تین چار سالوں میں ہم نے الزامات کی جو سیاست دیکھی ہے، رہنمائوں کی بیان بازی کا جو معیار ہمارے پیش نظر رہا ہے اُس پر صرف افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی شخصیات کی ذات پر ذاتی حملے اب روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ حکومتی ٹیم ہو یا اپوزیشن کے کچھ رہنما یا افراد، دوسروں پر الزام لگاتے ہوئے مطلق بھی پرواہ نہیں کرتے کہ اُن کے اس طرز بیان سے عام آدمی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ وہ اپنے رہنمائوں کے بارے میں کیا امیج قائم کرے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ اب اپنے بچوں کو انجینئرز، ڈاکٹرز یا سائنس دان پسند کرتے ہیں۔ سیاست دان بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔یہی ہماری ملکی سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہم یہ آس اور امید لگا بیٹھے تھے کہ نوجوان پڑھا لکھا ، محب وطن اور بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار قیادت سامنے آئے گی اور ملک کو صحیح ڈگر پر ڈال دے گی لیکن یہ خواب اب چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
کیا سیاست دان کا روپ اتنا ہی بھیانک ہو گیا ہے کہ لوگ اس سے نفرت کرنے لگیں۔ یہ بہت اہم سوال ہے۔ سیاستدانوں کو ضرور اس پر غور کرنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں جو لوگ ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ قوم و ملک کے لیے قانون سازی کرتے ہیں، انہیںبہت معتبر، باشعور اور صاحبِ کردار اور صاحبِ علم بھی ہونا چاہیے۔ ہمیں بہت کچھ بدلنا ہے۔ سیاستدانوں کی طرف سے یہ اچھی شروعات ہونی چاہئے۔ماضی میں جس طرح سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ اور شاید انہی سیاستدانوں کی وجہ سے جمہوری تسلسل کم ہی رہا ہے اور متعدد بار مارشل لگے ہیں۔ اس تحریر کو پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ آئندہ ہونے والے 2018ء کے الیکشنز میں بدتمیز، بے ہودہ زبان استعمال کرنے والے کو نظرانداز کریں اور سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔