رکن قومی اسمبلی پر خاتون سے زیادتی‘ سیاسی کارکن کو دھمکیاں دینے کے الزامات

14 فروری 2018

کراچی(نوائے وقت نیوز) علینہ نامی لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے اسے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ گلشن اقبال پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج ہوا ہے جس میں علینہ نامی ایک لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے رکن قومی اسمبلی اور ایم کیوایم پاکستان کے رہنما سلمان مجاہد بلوچ نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ سلمان مجاہد نے اسے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں نوکری کا جھانسہ دے کر بلایا اور پھر زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ بعد میں شادی کا وعدہ کرکے معافی بھی مانگی تھی۔لڑکی نے بیان میں بتایا ہے کہ ایم این اے نے زیادتی کی ویڈیوز بھی بنا رکھی ہیں جن کے ذریعے اسے بلیک میل کیا جارہا ہے اور بھاری رقم کا تقاضا کیا جارہا ہے جب کہ اس کے بھائی کو بھی اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم صارم برنی ٹرسٹ کے چئیرمین صارم برنی نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ علینہ نامی لڑکی نے ایم این اے سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف شکایت کی ہے کہ رہنما ایم کیو ایم نے کسی اور سے شادی کرنے پر میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دی۔ صارم برنی کے مطابق، وزیر داخلہ سندھ نے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنا دی ہے۔دوسری جانب سلمان مجاہد بلوچ نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جبکہ سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔ فاروق ستار کو جوائن کرنے کے بعد سارا گیم پلان کیا گیا ہے۔سلمان مجاہد بلوچ کا موقف ہے کہ انہوں نے لڑکی کی والدہ کو علاج کیلئے 40 لاکھ روپے دیے تھے لیکن اس کی مدد کا یہ صلہ ملا۔ تحریک انصاف کے کارکن پر سلمان مجاہد بلوچ کی جانب سے مبینہ طور پر اسلحہ تان کر دھمکیاں دینے کے خلاف پی ٹی ائی رہنما خرم شیر زمان، علی زیدی اور کارکنان کی بڑی تعداد رات گئے گزری تھانے پہنچ گئی جہاں پولیس نے پی ٹی ا?ئی رہنما عمران اسماعیل کی مدعیت میں رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔قبل ازیں پی ٹی ائی رہنما عمران اسماعیل نے وزیر داخلہ سندھ سے رابطہ کیا اور معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جس پر سہیل انور سیال نے پولیس کو ایف آئی ار درج کرنے کا حکم دیا۔ بعدازاں ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کو سلمان مجاہد کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کسی کو طاقت کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دے سکتے، قانون سے کوئی بالا نہیں۔ انہوں نے سلمان مجاہد بلوچ کی سیکیورٹی واپس لینے کا بھی حکم دیا۔ادھر پی ٹی آئی کے کارکن احسن علوی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شام یہ واقعہ ڈیفنس کے علاقے میں پیش آیا تھا جب رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے زبردستی گاڑی نکالنے کی کوشش کی اور اس دوران ہماری اور ان کی گاڑی پھنس گئی، سلمان مجاہد بلوچ جو کہ ویگو گاڑی میں سوار تھے اور خود ہی گاڑی چلا رہے تھے راستہ نہ ملنے پر انھوں نے پہلے ڈرائیونگ سیٹ سے بیٹھے ہوئے اسلحہ دکھایا اور بعدازاں ان کے گارڈ بھی اترآئے اور وہ بھی اسلحہ دکھا کر خوفزدہ کرتے رہے جبکہ سلمان مجاہد بلوچ نے مبینہ طور پر مجھے مغلظات بکیں۔عمران اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ متحدہ رہنماء خود کو ڈان سمجھ رہے ہیں، مقدمہ درج کرا دیا ہے۔