آخری فون کال …

14 فروری 2018
آخری فون کال …

نواز شریف بھی سوچتے ہوں گے زندگی بس اتنی سی تھی؟ ادھر سے آئی اور دوسرے دروازے سے نکل گئی؟ سوچتے تو ہوں گے کہ اے زندگی تو بڑی بے وفا ہے۔ جی میاں صاحب بس یہی زندگی ہے۔ حقوق انسانی کی چیمپئن سمجھی جانے والی تجربہ کار وکیل مرحومہ عاصمہ جہانگیر اعظم تارڑ، جن کے ساتھ نواز شریف بھی موجود تھے، کے ساتھ بات کر رہی تھیں۔ نواز شریف نے اسی فون کال کے دوران مرحومہ سے بات کی تھی جس کے دوران انہیں دل کا جان لیوا دورہ پڑا۔ جب عاصمہ جہانگیر نے اچانک ایک چیخ کے بعد فون پر بولنا بند کر دیا تو نواز شریف اور ان کے ساتھ موجود وکلاء کو تشویش لاحق ہوئی۔ نواز شریف مسلسل فون کرتے رہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر ہوا کیا ہے تاہم 25 فون کالز کے باوجود کسی نے فون کال وصول نہیں کی۔ بعد میں جب انہیں ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا تو ان کے ساتھ آنے والے افراد نے فون کال وصول کی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کو بتایا کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس طرح نواز شریف وہ پہلے شخص تھے جنہیں اس بات کا علم ہوا۔ یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو نے بھی آخری فون کال نواز شریف کو ملائی تھی لیکن بات نہ ہو سکی۔ عاصمہ جہانگیر گو ایک متنازعہ شخصیت سمجھی جاتی تھیں لیکن بلا شبہ ان کی موت ایک بریکنگ نیوز بنی۔ طویل بیماری کے بعد انتقال ہوتا تو تھرتھلی نہ مچتی لیکن چلتی پھرتی بھرپور سرگرمیاں کرتی ایک ہی جھٹکے میں دوسرے جہان جا پہنچیں بڑی خبر تو بنتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر مرے ہوئے جرنیل ضیا کو بھی نہیں بخشتی تھیں جبکہ آخری گفتگو جنرل ضیا کے روحانی بیٹے سے کرتے ہوئے اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں؟ سیاستدان کسی کا سگا نہیں ہوتا۔ اسے کرسی سے غرض ہوتی ہے جو بھی دلا دے۔ عدلیہ مخالفت کرے تو عدلیہ پر حملے فوج مخالفت کرے تو فوج پر حملے؟ عدلیہ ساتھ دے تو عدلیہ پیاری؟ فوج ساتھ دے تو فوج پیاری؟ حقیقی جمہوریت نے پاکستان کا منہ ابھی تک نہیں دیکھا۔ جمہوریت کے نام پر فراڈ ہو رہا ہے۔ اداروں کی توہین کا کھیل دیرپا نہیں۔ مسلم لیگ ن کے ایک وزیر نے کہا قیادت جس طرز سیاست کو مقبولیت سمجھ رہی ہے دراصل مستقبل میں غیر مقبولیت ثابت ہو گی۔ مسلم لیگ ن کے ایک اور وزیر نے کہا پارٹی کی جیت کی صورت میں اگلے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو نہ بنایا گیا تو پارٹی ٹوٹ جائے گی بلکہ اندر سے ٹوٹ چکی ہے پھر زوال پذیر ہو جائے گی۔ پارٹی کو صرف شہباز شریف بچا سکتے ہیں۔ اگر موروثیت ہی چلانی ہے تو پارٹی متحد رکھنے کے لئے ہماری قیادت کو بھائی کو جانشین بنانا ہو گا۔ مقتدر جماعت کے ایک اور وزیر نے بہت کرب سے کہا کہ ہماری قیادت خطاب فرماتے ہوئے جب یہ کہتی ہے کہ جب ہم حکومت میں آئے تو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں گے تو قیادت بھول جاتی ہیں کہ اس وقت بھی حکومت انہی کی ہے۔ حکومتی جماعت اندر سے قیادت کے فیصلوں اور بیانات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ قیادت نے مجیب الرحمان کی تعریف بھی درست فرمائی۔ ہم خیال دوستوں کی تعریف ہی کی جاتی ہے۔ مجیب الرحمان مشرقی پاکستان لے گیا۔ خدا دوست سے بلوچستان کی حفاظت فرمائے۔ خالدہ ضیا کا عکس بھی پاکستان میں منڈلا رہا ہے۔ اصل مسئلہ عوام ہیں جو کہتے ہیں کہ خدا نیڑے کہ کھّسن یعنی مکا… جو بھی ان کے ذاتی اور علاقے کے غیر قانونی مسائل حل کرے ووٹ لے جائے۔ لو دھراں ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کی موروثیت اس کے بیٹے کی ہار پر مسرت ہوئی۔ موروثیت جس جماعت میں بھی ہو اسے ہرانا چاہئے۔ موروثیت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ بھٹو اور شریف موروثیت کی بیمار جماعتیں ہیں لیکن عمران خان کی چھابڑی میں بھی کیا منفرد سودا ہے؟ منے بھائی لگے رہو۔ کبھی تو کامیابی ہو گی۔ اگر بے وفا زندگی نے ساتھ دیا تو… ایسا نہ ہو تمہیں بھی نواز شریف کی فون کال آ جائے۔