لودھراں کے نتائج

14 فروری 2018

کسی اور کا ذکر کیسے کروں۔ گھر میں بیٹھ کر قیافے لگاتا میرا ذہن بھی یہ طے کرچکا تھا کہ لودھراں کا ضمنی انتخاب سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل ہوئے جہانگیر ترین کے فرزند، علی ترین، بآسانی اور بھاری نہ سہی تو مناسب اکثریت سے جیت جائیں گے۔
پیر کی شا م انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے تو میں حیران ہو گیا۔ نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کے نامزد کردہ اقبال شاہ، جن کا نام تک بھی مجھ ایسے پھنے خان بنے رپورٹر نے لودھراں کے ضمنی انتخاب سے قبل کبھی نہیں سنا تھا، 27 ہزار کی بھاری بھر کم لیڈ سے کامیاب قرار پائے۔
سبق ایک بار پھر اس نتیجے سے یہی ملا ہے کہ حقائق کو برسرِزمین جا کر سمجھنے کے بجائے، ماضی کے تجربات کے ذریعے جمع کی ہوئی ”عقل“ کے استعمال سے لگائے اندازے صحافی کے لئے ہرگز جائز نہیں۔ اسے اپنے ذہن کو ہر وقت کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی عمل کی ایک مخصوص Dynamics ہوتی ہے۔ ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں“ اس کی کلید ہے۔ ہماری رعونت بھری ”عقل“ اس کلید کا استعمال چھوڑ دے تو ہونق ہو جاتی ہے۔ سیکھنے کا عمل ویسے بھی عاجزی کا تقاضہ کرتا ہے۔ جدید صحافت نے مگر رپورٹروں کو Celebrity بنانا شروع کر دیا ہے۔ ان پر Stars والی نخوت طاری ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ربّ کریم اس سے محفوظ رکھے۔
لودھراں کے ضمنی انتخاب نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ نون کے لاحقے والی مسلم لیگ نون کے روایتی ووٹروں کی اکثریت شدت سے محسوس کر رہی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ انصاف نہیں زیادتی ہوئی ہے۔ ”مجھے کیوں نکالا“ کی فریاد ان پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ یہ اثراندازی ہمارے نام نہاد Electables کے لئے خیر کی خبر نہیں۔ اپنے حلقوں میں دھڑے، برادری اور سرمایے کی قوت سے جو ذاتی ووٹ بینک انہوں نے بنا رکھے ہیں وہ سکڑ رہے ہیں۔ ”ووٹ بینک“ اب سیاسی بیانیوں کے گرد جمع ہو رہا ہے۔ تحریکِ لبیک اس نئی حقیقت کی طاقت ور ترین علامت ہے۔ ایک بار پھر اس کے حمایت یافتہ اور تقریباً گمنام نمائندے نے لودھراں میں بھی پیپلز پارٹی کے نمائندے کو 8 ہزار کے مارجن سے پچھاڑ دیا ہے۔ تحریک لبیک کو نون کے لاحقے والی مسلم لیگ اور عمران کی تحریک انصاف کے بعد تیسری بڑی انتخابی قوت بنا دیا۔
تحریک لبیک جب لاہور کے ضمنی انتخاب میں نمودار ہوئی تو مجھ ایسے عقلِ کل بنے تجزیہ کاروں کی رائے میں مقصد اس کا نواز شریف کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچانا تھا۔ یہ طے کرنے کے بعد فرض یہ بھی کر لیا گیا کہ پنجاب کے بے شمار حلقوں میں مسلم لیگ (نون) اور تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدواروں کے درمیان One on One مقابلے ہوں گے تو اس جماعت کی جانب سے ”کاٹے“ ووٹوں کی بدولت فائدہ بالآخر عمران خان کی جماعت کو ہو گا۔
پیپلز پارٹی کی ہمدردی میں دائمی طور پر مبتلا چند تجزیہ کاروں کا خیال یہ بھی تھا کہ پنجاب اور خاص کر جنوبی پنجاب کے دیہی حلقوں میں انتخابی Dynamics کی یہی صورت حال رہی تو آصف علی زرداری کے چنے کئی Electables برادری اور سرمایے کی طاقت سے بنے دھڑے کی بنیاد پر کامیاب ہو جائیں گے۔ 2018 کے انتخابات مذکورہ منطق کے تحت ایک Hung پارلیمان منتخب کروانے جا رہے تھے اور Hung حالات میں ”ایک زرداری سب پہ بھاری“ ثابت ہوتا ہے۔
لودھراں کے انتخابی نتائج آنے کے بعد سے ہمیں Hung والے امکان کو نظرانداز کرنا ہو گا۔ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے آبادی کے حوالے سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں مقابلہ بنیادی طور پر اب دو جماعتوں میں ہو گا۔ ان جماعتوں کے مابین بھی Neck to Neck والے کانٹے دار مقابلوں کی گنجائش سکڑ رہی ہے۔ نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کا ووٹ بینک توانا تر ہو رہا ہے۔ عمران خان کی ”کشش“ کو کچھ ہو گیا ہے۔
جہانگیر ترین کو بھی ”مجھے کیوں نکالا“ والی ہمدردی نصیب ہو سکتی تھی۔ سازشی تھیوری تھی کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد تحریک انصاف کی صفوں میں سے بھی کسی قدآور رہ نما کی نااہلی ضروری تھی۔ عمران خان اس تناظر میں بچ گئے اور جہانگیر ترین گرفت میں آ گئے۔ علی ترین کی کامیابی اس ”گرفت“ کا حساب برابر کر سکتی تھی۔ ایسا مگر نہیں ہوا۔
حیران کن امر یہ بھی ہے کہ علی ترین سرمایے کی قوت سے مالا مال تھے۔ ان کا حلقہ سیاسی حوالوں سے ”جنوبی پنجاب“ کی نمائندگی کرتا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ سرائیکی بولنے والے اس خطے میں ”تخت لہور“ کے خلاف بغاوت اُبل رہی ہے۔ اس ”بغاوت“ کی تحریک انصاف کی صفوں میں بھرپور نمائندگی مخددم شاہ محمود قریشی اور اسحاق خان خاکوانی کی صورت موجود ہے۔ کسی زمانے کا ”شیرِ پنجاب“ -مصطفےٰ کھر“ بھی ان کے ساتھ جا ملا ہے۔ مفروضہ ”بغاوت“ مگر لودھراں میں اپنا اظہار کرنے میں ناکام رہی۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب فی الوقت میرے پاس نہیں۔ اسے بہت توجہ سے ڈھونڈنا ہو گا۔
عمران خان کے بارے میں اگرچہ مجھے شبہ ہے کہ ان کا رویہ بالآخر ایک ضدی ”باﺅلر“ والا ہی ثابت ہو رہا ہے۔ ”باﺅلر“ ایک وکٹ کو نشانہ بناتے ہوئے کئی داﺅ آزماتا ہے۔ عمران خان نے نواز شریف کو ”وکٹ“ شمار کیا۔ کئی برس کی مسلسل باﺅلنگ سے بالآخر انہیں سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل کروا لیا۔ نواز شریف کی ”وکٹ“ لینے کے بعد میچ کیسے جیتنا ہے، ”کپتان“ شاید اس کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں ڈھونڈ پایا ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کی وکٹ اُڑانے کے چکر میں اپنی Steam کھو بیٹھا ہو۔ اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوا تو مجھے بہت مایوسی ہو گی۔ انتخاب اور جمہوریت کی ساری رونق کانٹے دار مقابلوں کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ یک طرفہ مقابلے بہت بورنگ ہوتے ہیں۔ آخری نتائج کے آنے تک بے یقینی کی کیفیت انتخابی عمل کی اصل Thrill ہے۔ وقتی Thrills اور چسکے بازی سے کہیں بڑھ کر جمہوریت کو توانا تر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایک جماعت انتخابی عمل کو اپنے لئے Walkover شمار نہ کرے۔ کسی ایک جماعت کی انتخابی عمل پر بالادستی بالآخر اس جماعت کو رعونت زدہ کر دیتی ہے۔ اس کا لیڈر Populist ہو کر آمرانہ من مانیوں کا عادی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
2018 کے عام انتخابات تک بڑھتے ان مہینوں میں عمران خان اور ان کی جماعت کو پُرخلوص خود تنقیدی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ ایسا کرتے ہوئے اس سوال پر غور کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ لودھراں کے لوگ جہانگیر ترین کے فرزند کو ”موروثی سیاست“ کے خلاف علامت بنی جماعت کے ٹکٹ پر ”چوروں اور لٹیروں“ پر مشتمل اس اسمبلی میں پہنچانے کے لئے ووٹ کیوں دیتے جس پر عمران خان کے سیاسی اتالیق اور راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر لاہور کے حالیہ جلسے میں برملا لعنت بھیج چکے تھے؟
٭٭٭٭٭