دہشتگردی کیخلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے, حکومت اور اداروں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں: نواز شریف

13 اکتوبر 2016 (19:59)
دہشتگردی کیخلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے, حکومت اور اداروں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں: نواز شریف

وزیراعظم نواز شریف نے محرم میں امن وامان کی صورتحال برقرار ر کھنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے کسی سطح پر کوئی ابہام نہیں ۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے۔ حکومت اور اداروں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں، وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نےآذربائیجان کے تین روزہ دورے پر روانگی سے قبل ائیر پورٹ پر امن و امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اندرونی سکیورٹی اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکورٹی خطرات اندرونی ہو یا بیرونی اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ شرکاءنے امن و امان کی صورت حال اور گزشتہ روز عاشور کے موقع پر امن و امان پر اظہار خیال کے علاوہ اندرونی سکیورٹی اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک کی سیاسی ، داخلی اور امن وامان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔قبل ازیں وزیر اعظم سے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ملاقات کی اور قومی سلامتی کمیٹی کی خبر لیک ہونے اور انگریز ی اخبار کے رپورٹر کی خبر کی انکوائری میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور کہا کہ کیس کی تحقیقات مکمل ہونے پر صحافی کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔ بعد ازاں وزیراعظم نواز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر آذربائیجان کے شہر باکو پہنچ گئے وزیراعظم تین روزہ دورہ آذربائیجان میں صدر الہام علیوف کی دعوت پر جارہے ہیں۔ وزیراعظم آذربائیجان کا صدر سمیت اہم رہنماﺅں سے ملاقاتیں کرینگے۔ وزیراعظم کی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات خصوصاً اقتصادی شعبے، زراعت، ٹیکسٹائل، تجارت، صنعت سمیت مختلف معاہدوں پر دستخط ہوں گے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر بات چیت سمیت علاقائی اور عالمی امور پر خصوصاً جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا وزیراعظم آذربائیجان کی قیادت سے پاکستان کی پرامن ہمسائیگی پالیسی پر بھی بات چیت کرینگے۔