پیر ‘ 2 8 ربیع الثانی 1445ھ ‘ 13 نومبر 2023ئ

پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ بھارت تمام۔وطن واپسی کی تیاریاں 
چلو شکر ہے عوام کواعصاب شکن ماحول سے نجات مل گئی۔ ورنہ ورلڈ کپ کے فائنل تک یہی چخ چخ بک بک لگی رہتی۔ کون کھیل رہا ہے۔ کیا سکور ہے۔ کون جیت رہا ہے‘ کون ہار رہا ہے‘ کیا ہونے والا ہے۔ اب بس پوری قوم نہ سہی کرکٹ کے شائقین البتہ اس ”شبھ گھڑی“ کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے ہیں ‘جب یہ پوری ٹیم ”جان بچی سو لاکھوں پائے لوٹ کے بدھو گھر کو آئے“کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے وطن واپس پہنچیں گے۔ حالات جیت کے ہوتے تو ڈھول باجے کے ساتھ ٹیم کا استقبال ہوتا۔ مگر اب تو ٹیم کے کھلاڑیوں ا ور باقی دوسرے شامل باجا افراد کو جنہیں آفیشل کہتے ہیں‘ اب احتیاطً پہلے سے ہی ائیر پورٹ پر برقعوں کا انتظام کر لینا چاہیے۔ ویسے اچھے کوالٹی کے برقعے انڈیا میں بھی ملتے ہیں اور اکٹھے گھر جانے کے لئے وی آئی پی بس کا رخ بھی نہ کریں۔ ہتک عزت کا خطرہ ہے چوٹ بھی لگ سکتی ہے۔ ایک ایک یا دو دو کر کے نجی کرائے پر منگوائی گاڑیوں میں چپکے چپکے سے کھسکنے میں عافیت سمجھیں۔ اگر ائیر پورٹ پر یا راہ میں کسی کو بھی شبہ ہوا کہ یہ ہماری کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ہیں تو پھر وہ بے بھاﺅکی سننا بھی پڑیگی وہ اس لئے بھی کہ ان کھیل کی دنیا کے ستاروں کو دن میں تارے نظر آئیں گے۔ دعا ہے کہ ہمارے یہ نونہال خیر خیریت سے انڈیا کا ٹور مکمل کر کے گھر واپس پدھاریں۔ رہی بات ورلڈ کپ کرکٹ مقابلوں کی تو یہ پہلی چار پوزیشنوں تک پہنچنے والے ممالک جانیں۔ ہمیں اس سے کیا۔ اب بندر جیتے یا لنگور ‘ہمیں اب اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ پی آئی اے والوں سے درخواست ہے کہ وہ کسی کو بھی قومی کرکٹ ٹیم کی وطن واپسی کی فلائٹ کے ٹائم اور تاریخ سے ہرگز ہرگز آگاہ نہ کریں۔ 
٭٭٭٭٭
اسد عمر نے سیاست اور پارٹی چھوڑ دی۔ ریاست کے ساتھ تصادم سے متفق نہیں 
تحریک انصاف کے باقی بچ جانے والے رہنماﺅں میں جنہوں نے کچھ استقامت دکھائی ان میں ایک اہم نام اسد عمر کا ہے ‘جو اب ہرچند کہیں کہ ہے مگر نہیں رہے۔ انہوں نے بھی بالاخر اپنا مورچہ خالی کر د یا اور ہتھیار ڈال دئیے۔ گزشتہ روز انہوں نے بوجھل دل کے ساتھ یا بادل نحواستہ ہی سہی پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا‘ کیونکہ انہوں نے 
سیاست میں کھلاڑیوں کا حال جو دیکھا 
تو سیاست چھوڑ دی میں نے 
کے مصداق سیاست کو خیرباد کہہ دیاحالانکہ وہ دھیمے لہجے والے کھلاڑی رہے ہیں مگر جب جذبات کا سیلاب زوروں پر ہو تو اچھے اچھوں کے حواس بجا نہیں رہتے۔ سو وہی ہوا۔ ریاست مخالف بیانیہ کہہ لیں یا کچھ اور اس کی زد میں نہ صرف کپتان آئے بلکہ تمام کھلاڑی بھی بکھرے ہوئے سوکھے پتوں کی طرح ہوا میں ا±ڑ رہے ہیں۔ اس وقت چند ایک کو چھوڑ کر انتہا پسندی کی پالیسی بنانے والے ہی رہ گئے ہیں جو ابھی تک لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے پھرتے ہیں۔ کچھ جیلوں میں ہیں کچھ روپوش ہیں۔ اس عمل میں وہ لوگ بھی جدا ہو رہے ہیں جو سنجیدہ اور متین سیاست کے علمبردار تھے۔ مگر افسوس شخصیت پرستی کا طلسم ہماری سیاسی جماعتوں کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کوئی بھی جماعت اس سے بری الزمہ نہیں۔ جب وقت پڑتا ہے سب اِدھر ا±دھر ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ آج پی پی پی اور نون لیگ میں آ رہے ہیں‘ یہ ابتلا کے دور میں کہاں تھے۔ کل پھر ابتلا کا دور آیا یہ پھر اڑ جائیں گے۔ یہ عالم دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہے ہیں۔ 
٭٭٭٭٭
جنوبی کوریا میں کنفیوژ روبوٹ نے ایک شخص کی جان لے لی 
اب تو یہ شروعات ہے۔ اس طرح کے واقعے اب مستقبل میں جس تواتر کے ساتھ پیش آئیں گے اس کا اندازہ تقریباً سب سائنسدانوں کو ہے کہ ذرا سی بھول چوک ہونے پر یہ روبوٹ کس طرح انسانوں اور ان کی آبادیوں کا کچومر بنا سکتے ہیں۔ اس وقت تو انسان روبوٹس سے بھی آگے نکل کر مصنوعی ذہانت کے بل بوتے پر جیتے جاگتے انسانوں کی طرح جو اپنی تخلیق سامنے لایا ہے۔ وہ بھی بذات خود ایک عجوبہ ہے۔ اس پر کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا۔ ان کی خطرناکی تو انسانوں کے لیے ان روبوٹس سے بھی بہت ز یادہ ہو گی کیونکہ وہ ذہین تو ہیں مگر دل اور روح کی نزاکتوں سے باریکیوں سے ناواقف ہیں۔ دل اور دماغ کا جو ملن ایک جیتے جاگتے انسان کے وجود میں ہوتا ہے وہ ان مصنوعی انسانوں اور ان جیسے روبوٹس میں نہیں آتا۔ نصف صدی قبل ہی یورپی مصنفوں نے ایک ایسی ہی خیالی تصوراتی دنیا کا نقشہ اپنے افسانوں میں کھینچنا شروع کر دیا تھا جیسا اب ہو رہا ہے کہ ساری دنیا کا نظام روبوٹ اور مصنوعی ذہانت والے یہ وجود نہایت احسن طریقے سے چلا رہے ہوں گے۔ صبح شام رات دن ہر کام اپنے اپنے مقررہ وقت پر انجام دیں گے۔ مگر ان سے فیض اٹھانے والا حضرت انسان موجود نہیں ہو گا اسکے وجود کو یہ آہستہ آہستہ ختم کر چکے ہوں گے۔ کیونکہ یہ اپنے کمانڈ پر چلتے ہیں اپنے ڈیٹا سسٹم سے منسلک ہوتے ہیں۔ انسانی آبادی کا وجود ان کے لیے بے معنیٰ ہو گا۔ جنوبی کوریا میں روبوٹ نے جس طرح ا نسان کو کھانے کا بے کار ڈبہ سمجھ کر کچل دیا وہ ابتدا ہے بقول اقبال 
”احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات“ کا عملی مظاہرہ بھی۔۔۔
٭٭٭٭٭
دنیا میں کوئی جہنم ہے تو وہ غزہ ہے۔ اقوام متحدہ ،لاکھوں جانوں کو خطرہ ہے 
اب اس خوبصورت دنیا میں جہنم بنانے والے کون ہیں۔ یہ بھی اقوام متحدہ کو علم ہے۔ ان کے خلاف کوئی شدید ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا یہ بھی اقوام متحدہ جانتی ہے۔ غزہ میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کے ذمہ داروں سے بھی اقوام متحدہ واقف ہے مگر کیا کریں۔ اقوام متحدہ ان عالمی غنڈوں اور ان کے لے پالک لاڈلے اسرائیل پر ہاتھ ڈالنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ کیونکہ عملاً اقوام متحدہ ان طاقتوں کی لونڈی بن چکی ہے۔ ان کے اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال کسی عیسائی ملک میں ہوتی تو کیا اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی؟ نہیں ، فوری سے بھی پیشتر اس مسئلے میں اقوام متحدہ یوں کود پڑتی جیسے ساس اور بہو کے تنازع میں نندیں کود پڑتی ہیں۔ اس وقت غزہ واقعی جہنم کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی۔ روزانہ اسرائیلی طیارے ہزاروں من بارود انسانی بستیوں پر برسا کر انہیں نیست و نابود کر رہے ہیں۔ غزہ شہر قبرستان کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ نہ کوئی عمارت باقی بچی ہے نہ کوئی ہسپتال سلامت ہے۔ ہر چیز اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو چکی ہے۔ لاکھوں افراد بھوکے پیاسے بنا کسی علاج کے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ یہ اتنا بڑا سانحہ ہے کہ ساری دنیا مل کر بھی برسوں اس کے زخم کو مندمل نہیں کر پائے گی اور اسرائیل نے اپنے حواری ممالک کی مدد سے جو نفرت کی آگ لگائی ہے۔ اس سے اب اسرائیل اور فلسطین کے تعلقات کو بہتر بنانے کا خواب کبھی شرمندہ نہیں ہو سکے گا۔ بقول شاعر 
اب میرے وطن میں کوئی سازش نہیں ہو گی 
ا±لجھے گا کوئی کب تک صفِ اہل جنوں سے 
ا±بھریں گے نئی دھج سے دلیروں کے قبیلے 

ای پیپر دی نیشن