زینب کے بہیمانہ قتل پوری پارلیمان نوحہ کنا

13 جنوری 2018

جمعہ کو قومی اسمبلی کا 51واں سیشن شروع ہو گیا ہے اجلاس کی اہم بات یہ ہے پوری قومی اسمبلی نے سانحہ قصور پر شدید رد عمل کا اظہار کیا قومی اسمبلی کے ارکان سات سالہ زینب کے بہیمانہ قتل نوحہ و کناں تھے ایوان میں بڑے جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں قومی اسمبلی کا سیشن شروع ہونے سے قبل ہائوس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اجلاس کا ایجنڈا زیر غور آیا ۔ اجلاس میں طے پایا کہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سانحہ قصور پر بحث کا آغاز کریں گے اس کے بعد دیگر ارکان کو بھی بات کرنے کا موقع دیا جائے گا اس طر ح سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایوان کا ماحول پر امن رکھنے کا ساماں پیدا کر دیا سپیکر نے سانحہ قصور جیسے واقعات سے مستقبل میں بچنے کے لئے بچوں کے تحفظ کی پارلیمانی نگرانی کا اعلان کر دیا اس معاملے پر خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی رولنگ جاری کر دی سپیکر نے واضح کیا ہے کہ بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے کوئی نہ کوئی تو پارلیمنٹ کو قدم اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں سانحہ قصور پر بحث جاری رہے گی یہ پارلیمنٹ کے لیے ایک اہم چیلنج ہے کہ بچوں کو اس قسم کے ناخوشگوار واقعات سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔فی الفور سزائیں سنانے کے لیے سمری کورٹ کی بھی ضرورت ہے انہوں نے یہ رولنگ بھی جاری کی کہ اگر ارکان کی اکثریت کسی بل پر متفق ہو جائے تو ہنگامی بنیادوں پر اس بل کو ایوان میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے یا منظور کروایا جا سکتا ہے چونکہ ارکان کی اکثریت فاٹا اصلاحات بل پر متفق تھی اس لئے قومی اسمبلی کے اجلاس کے اضافی ایجنڈہ آئٹم کے تحت یہ بل لیا گیا ہے قومی اسمبلی میں جمعہ کو حکومتی اتحادی جماعت ،جمعیت علما ء اسلام (ف) کو کورم کے معاملے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا،گنتی کرنے پر کورم پورا نکلا گذشتہ اجلاس میں تحریک انصاف کورم پورا نہ ہونے پر تحریک انصاف کورم پورا نہ ہعونے کی نشاندہی کرتی رہی لئکن جمعہ کو حکومتی اتحادی جماعت نے یہ بل قومی اسمبلی سے منظور نہ کرانے کے لئے کورم کی نشاندہی کر دی لیکن اپوزیشن کورم پورا رکھ کر جے یو آئی کو شرمندہ کر دیا ۔ایوان میں قبائلی علاقوں میں اعلیٰ عدلیہ کوتوسیع دینے کے بل پر متعلقہ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی تو جمعیت علماء اسلام (ف) نے بل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔سپیکر قوی اسمبلی پر اتحادی جماعت نے بل کو بلڈوز کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے، نعیمہ کشورنے کورم کی نشاندہی کی سپیکر نے گنتی کروائی توکورم پورا نکلا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے قصور واقعہ کو پنجاب حکومت کی ناکامی قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کو’’ قرارداد، وعدوں اور تقاریر‘‘تک محدود نہ کیا جائے، صرف سزا کافی نہیں، ایسے واقعات روکنے کے لئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے، ایک ایس پی کو ہٹا دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ انہوں نے قصور واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام صوبوں کی کارکردگی سے متعلق اعدادو شمار اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ قصور واقعہ نے پورے ملک کو متاثر کیا ہے، بچیوں والے تشویش میں مبتلا ہیں، ہر ماں اپنی بیٹی کے ساتھ کہاں کہاں جائے گی۔۔چیف جسٹس پاکستان نے بھی زینب کے قتل کا از خود نوٹس لیا ہے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا مضمون آج تک کسی بھی صوبے کے نصاب میں شامل نہیں ہے، ہم اس میں دین اور مذہب کو لے کر آتے ہیں، ہمارے نصاب میں مغربیت ہے مگر یہ قوانین موجود نہیں ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ قصور میں ہونے والے واقعہ پر جن لوگوں پر شبہ ہے وہ گرفتار ہیں ڈی این اے لیا جارہا ہے جے آئی ٹی دنوں میں نہیں گھنٹوں تک ملزم تک پہنچے گی۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بتایا کہ قصور واقعہ پر بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں طے پایا کہ اجلاس کی باقی کارروائی معطل کر کے قصور واقعہ پر بحث کی جائے گی ۔ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے اجلاس کی کارروائی معطلی کی تحریک پیش کی جسے قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔قصور واقعہ پر بحث کی تحریک وفاقی بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے پیش کی۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ فاٹا ریفارمز بل آج بھی ایجنڈے پر نہیں ہے، جس پر ہمارا واک آئوٹ اٹل ہے لیکن اس وقت اپوزیشن کے لئے سرپرائز تھا جب حکومت اضافی ایجنڈے کے تحت فاٹا اصلاحات کا بل لے کر آگئی اب اپوزیشن کے لئے ایوان سے واک آئوٹ کرنے کا جواز ختم کر دیاقبائل کو قومی دھارے میں لانے کے لیے فاٹا کی اعلیٰ عدالتوں تک رسائی کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ،سینٹ سے بل کی منظوری سے فاٹا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کا عمل شروع ہو جائے گا ۔ قبائلی عوام کو انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ تک رسائی کا حق مل جائیگا۔حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف)کی ترمیم کو مسترد کر دیا گیا ایوان میں وزیر قانون و انصاف کو چوہدری بشیر ورک نے فاٹا اصلاحات کے تحت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ تک رسائی کا بل پیش کیا جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن نعیمہ کشور نے پشاور ہائی کورٹ کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ تک رسائی کی ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیاسپیکر نے بل کی منظوری کا اعلان کیا تو ارکان نے زوردار طریقے سے خیرمقدمی ڈیسک بجائے اپوزیشن جماعتوں نے فاٹا اصلاحات کے بل پر حکومت کا مکمل طور پر ساتھ دیا۔ عام تاثر ہے وفاقی حکومت نے جمیعت علماء اسلام(ف) کو بلوچستان میں صو بائی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر فاٹا اصلاحات کا بل منظور کر کے جواب دیا ہے وفاقی حکومت جمعیت علما ء اسلام کے ہتھوں یر غمال بنی ہوئی تھی محض جے یو آئی (ف) کو خوش کرنے کے لئے فاٹا اصلاحات بل کو موخر کر رہی تھی لیکن جب جمعیت علما ء اسلام (ف) کی سیاست کی وجہ سے وفاقی حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے ایجی ٹیشن کا سامنا کرنا پڑ رہاتھا مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علما ء اسلام کے سرمیان گاڑھی چھنتی چھنتی تھی لیکن فاٹا اصلاحات بل کی منظوری سے مولانا فضل الرحمنٰ کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا مولانا فضل الرحمن کی مخالفت کے باوجود ٰفاٹا کا صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام بہت بڑا واقعہ ہے اپوزیشن نے بل کی منظوری کو تکمیل پاکستان قراردیدیا گیا فاٹا سے جلد ایف سی آر کی منسوخی کی سمری ایوان صدر کو بھیج دی جائیگی۔ حکومتی اتحادیوں کے خلاف حکومت اپوزیشن جماعتیں متحدہوگئی ،جمیعت علماء اسلام(ف) تنہا قومی اسمبلی میں بل کی مخالت کرتی رہ گئی ہے جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن نعیمہ کشور نے پشاور ہائی کورٹ کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ تک رسائی کی ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بل پر ارکان کی رائے لی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ایم کیوایم دیگر جماعتوں کی حمایت سے بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔۔فاٹا میں ملکی قوانین کے نفاذ کا مرحلہ وار عمل شروع ہو رہا ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے فاٹا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کا بل پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس سیشن میں باقاعدہ طور پر آئین و قانون میں ترامیم کرتے ہوئے فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں شامل کیا جائے تمام جماعتیں اس انضمام پرمتفق ہیں ۔ حکومت اپوزیشن جماعتوں نے فاٹا اصلاحات کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام (ف) کو قومی اسمبلی میں تنہا کر دیا ہے تمام جماعتیں جے یو آئی (ف) کے خلاف متحد ہو گئی زخم خوردہ جے یو آئی (ف) اس سیاسی دھچکے پر کیا رد عمل ظاہر کرتی ہے اس کے لئے ہمیں ایک دو روز تک انتظار کرنا پڑے گا ۔