ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کیلئے آج ہی پلاننگ کرنا ہو گی

13 جنوری 2018

سٹڈی ان دی جنرل سائنس ایڈوانسز کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلی سے مستقبل قریب میں بارشوں اور سیلاب کا خطرہ ہے جس کی لپیٹ میں آکر امریکہ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے کروڑوں لوگ متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ پاکستان میں اسکی شدت دگنی ہو جائیگی۔ پاکستان کے حوالے سے انکشاف کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو 2040ء تک سیلاب کے متاثرین کی تعداد 1 کروڑ 11 لاکھ سے زائد ہوگی۔
ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات پر قابو پانے کیلئے عالمی سطح پر کوششیں کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے بھی امریکی صدر ٹرمپ عدم تعاون کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مربوط اقدامات کی ضرورت اپنی جگہ ناگزیر ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کوششوں اور اقدامات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ہاں جس طرز کی جمہوریت ہے مقتدر اشرافیہ کو جیسے تیسے اپنے پانچ سال پورے کرنے سے غرض اور اگلے پانچ سال کیلئے اقتدار میں آنے کی خواہش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی طویل المدتی پالیسی سامنے نہیں آتی۔ 2025ء وژن کی باتیں تو ہوتی ہیں مگر مردم شماری جیسے آئینی تقاضے سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلدیاتی الیکشن سپریم کورٹ نے گردن پر انگوٹھا رکھنے کے مترادف سختی کر کے کرائے۔ قومی مفاد اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ 2040ء اگرچہ سر پر نہیں ہے مگر اتنا دور بھی نہیں، قومیں تو صدیوں کی پلاننگ کرتی ہیں۔ 2040ء تو دو دہائیوں کے فاصلے پر ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کم سے کم سطح پر رکھنے کیلئے آج سے پلاننگ اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اگر اس معاملے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو ممکنہ طور پر بے گھر ہونیوالے افراد میں آج کی مقتدر اشرافیہ کے خاندان بھی شامل ہونگے۔