الوداع… شاہین پاکستان

13 جنوری 2018

شاہین پاکستان‘ بااصول‘ دیانتدار‘ عظیم قومی رہنما ایئرمارشل اصغر خان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اﷲ پاک انکی مغفرت فرمائے۔ میں تحریک استقلال کے قیام سے ان کی رہنمائی میں سیاسی کارکن کے طور پر کام کرتا رہا اور تقریباً 40 سال تک براہ راست ان سے وابستگی حاصل رہی۔ میں نے انہیں بطور سپاہی ملک پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے والا اور بطور سیاسی رہنما ملک کے عوام کا درد رکھنے والا ایسا رہنما پایا جو اپنے اصولوں پر قائم رہا اور کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ 

قیام پاکستان سے قبل جب وہ فائٹر پائلٹ تھے تو انہیں بیس مسرور سے تھر پارکر کے ریگستان میں پیر پگارہ کے قافلے پربمباری کا حکم ملا جس پر ایئر مارشل صاحب نے مسرور ایئر بیس سے تھر کے ریگستان پر پرواز کی اور پیر پگارہ کے قافلے کو دیکھا جس میں نہتے بچے اور خواتین شامل تھے انہوں نے بغیر کسی بمباری کے جہاز واپس مسرور ایئر بیس کراچی اتار دیاکیونکہ کہ نہتے بچوں اور خواتین پر بمباری وہ انسانیت کے خلاف اقدام سمجھتے تھے اور فوجی اصولوں کے بھی یہ بات سراسر خلاف ہے۔ ایئرمارشل اصغر خان پاکستان کے پہلے مقامی ایئرچیف تھے جنہوں نے پاکستان ایئرفورس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انتھک محنت کی اور اس وقت کے جدید طیارے اور تربیت کا خصوصی اہتمام کیا۔ ان کے بطور ایئر چیف دور 1957ء سے 1965ء تک انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان ایئر فورس کا کوئی ایک بھی طیارہ ناکارہ نہ ہو اور ہر طیارہ ہر وقت پرواز اور آپریشن کیلئے مکمل طور پر فٹ ہونا چاہئے اسی لئے انہیں پاکستان ایئر فورس کا معمار اور شاہین پاکستان کہا جاتا ہے۔ایئرمارشل اصغر خان کی ایئرفورس کے لئے خدمات کے اعتراف میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کا اعلان کرتے ہوئے ایک دن کے لئے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
انہوں نے 1965ء میں ایئر فورس سے استعفٰی دیا تو نئے ایئر چیف نور خان کا تقرر ہوا لیکن ساتھ ہی بھارت نے جارحیت کردی تو 6ستمبر 1965ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے عسکری قیادت کا مشترکہ اجلاس چکلالہ ایئربیس پر طلب کیا تو ایئرمارشل اصغر خان نے بھی اس میں شرکت کی اور ان کے مشورے پر یہ حکمت عملی طے پائی کہ اگلے دن فجر ہونے سے قبل پاکستان ایئرفورس بھرپور قوت سے بھارت کے تمام ہوائی اڈوں پر ایسی اسٹرائیک کرے گی کہ بھارتی طیارے اڑان سے قبل تباہ کردیئے جائیں اوراس حکمت عملی میں کامیابی سے بھارت کی فضائی طاقت کا استعمال سے قبل ہی خاتمہ کردیا گیا۔
ایئرمارشل اصغر خان کوپھر پی آئی اے کا چیئرمین بنایا گیا تو انہوں نے قومی ایئرلائن کو دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شامل کرایا اور یہ ہی پی آئی اے کا وہ دور تھا جب ہمارے ماہرین نے دنیا کے دیگر ممالک کی ایئرلائنز کی تشکیل میں اپنی خدمات پیش کیں۔ ایئرمارشل اصغر خان جنگ اخبار میں کالم بھی لکھتے تھے۔ یہ وہی دور تھا جب ایوب خان کے خلاف تحریک جاری تھی۔ ایوب خان کے خلاف تحریک میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کرلیا گیا تو اس تحریک کی قیادت ایئرمارشل اصغر خان نے سنبھال لی۔ ایوب خان کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد جب ایک اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو نے یہ کہا کہ ہم اپنا سیاسی جھنڈا لہرا کر اس قوم پر سو سال تک حکومت کریں گے تو ایئرمارشل صاحب نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی اور جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی بعد میں سیاسی جماعت کا نام تحریک استقلال رکھا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نوابزادہ نصراﷲ خان کا نام سیاسی اتحادوں کی تشکیل کے لئے مشہور ہے تو اصولی سیاست میں ایئرمارشل اصغر خان کا کوئی ثانی نہیں۔ 1971ء کے انتخابات میں شیخ مجیب کو اکثریت حاصل ہوئی لیکن یحیی خان نے اپنی صدارت بر قرار رکھنے کیلئے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے بجائے سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز کیا اور جب یحیی خان ڈھاکہ میں شیخ مجیب سے ملاقات کرکے لاڑکانہ گئے تو بھٹو سے ملاقات کے بعد بھٹو صاحب نے ’’ادھر تم ادھر ہم‘‘کانعرہ لگایا تو ایئر مارشل اصغر خان نے جمہوریت کے تقاضوں کے مطابق اقتدار شیخ مجیب کے حوالے کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ وہ آخری حد تک پاکستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے لیکن انہیں بنگالیوں کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔
1977ء میں الیکشن دھاندلی پر 9ستاروں کی تحریک میں صف اول پر ایئر مارشل اصغر خان تھے۔ملک بھر میں مظاہروں اور احتجاج پر بھٹو صاحب جب مذاکرات کیلئے آئے تو ان کے ہمراہ اس وقت کے آرمی چیف ضیاء الحق بھی تھے اور ضیاء الحق نے اپوزیشن لیڈروں کو پاکستان کے نقشے پر بریفنگ دیتے ہوئے سرحدی خطرات سے آگاہ کرنا شروع کیا تو ایئر مارشل اصغر خان نے انہیں کہا کہ اگر بارڈر پر اتنے خطرات ہیں تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں سرحدوں پر سیاست دانوں نے لڑنا ہے۔یہ بات سن کر ضیاء الحق غصے میں وہاں سے چلے گئے اور رات میں اقتدارپر قبضہ کر لیا ۔
ضیاء الحق نے جب بھٹو صاحب کا ٹرائل شروع کیا تو ایئر مارشل اصغر خان اس نیت سے باقاعدگی سے عدالت جایا کرتے تھے کہ دوران ٹرائل کسی بھی مرحلے پر بھٹو صاحب سے زیادتی نہ کی جا سکے حالانکہ اس دور میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں سے کوئی بھی شخص عدالت نہیں جایا کرتا تھا۔
ایئر مارشل اصغر خان اصولی اور دیانت دار سیاست دان تھے۔ضیاء الحق نے انہیں 5مرتبہ وزیر اعظم بنانے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے ہر بار یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ میں سیاست عوام کی خدمت کیلئے کر رہا ہوں اور کسی کی نوکری نہیں کر سکتا۔اصغر خان نے 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی پر بے نظیر بھٹو کی احتجاجی تحریک میں بے نظیر کا ساتھ دیا تھا۔اصغر خان پاکستان کی سیاسی تاریخ میں طویل عرصہ تک یاد رکھے جائیں گے۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...