خدارا قوم کے بچوں کو اپنا بچہ سمجھیں

13 جنوری 2018

مکرمی! قصور شہر سے سات سالہ ننھی پری زینب کا اغوا اور پھر زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کو کوڑے کے ڈھیر کے اوپر پھینکنے کے لرزہ خیز سانحہ سے پوری قوم ہل کر رہ گئی ہے۔ اس سے قبل اسی شہر قصور میں تقریباً ایسے بارہ واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن دکھ اور افسوس کے ساتھ کہ نہ حکمرانوں نہ سیاست دانوں اور نہ ہی عدلیہ نے از خود نوٹس لیا ۔ اگر کسی واقعہ پر اگرنوٹس لیا جاتا تو شائد آج یہ سانحہ رونما نہ ہوتا اوراس سانحہ میں احتجاج کرنے والوں پر غنڈہ پولیس اہلکاروں نے اس طرح گولیاں برسائیں جیسے کہ اشتہاریوں اور ڈاکوئوں نے قصور شہرپر حملہ کر دیا ہو۔ اس دوران قصورکے تین شہری پولیس کی گولیوں سے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔پاکستان کی تاریخ میں بچوں کے ساتھ بد فعلی اور قتل کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں یاد رہے کہ اس سے قبل نا قابل فراموش واقعہ قصور کے ہی نواحی گائوں حسین خاں والا میں پیش آ یا جس میں ایک سو پچیس اافراد پر مشتمل ایک گروہ نے دو سو اسی بچوں کو نہ صرف اپنی ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ دوران زیادتی ان معصوموں کی ویڈیوز بنا کر انکے والدین کو بلیک میل بھی کیا ۔ پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کرنیوالے اس شرمناک کھیل کے اصل ملزمان آج بھی قانون کی پہنچ سے دور ہیں ۔ گذشتہ برس بچوں کے جو جرائم رپورٹ ہوئے ان میں اغوا کے 1455کیس ، ریپ کے 502 کیس ،بچوں کے ساتھ بد فعلی کے 453 اجتماعی زیادتی کے 268جبکہ زیادتی یا ریپ کے 362کیس سامنے آئے جنسی حملوں کے بعد قتل کے سو واقعات رپورٹ ہوئے اس تمام صورت حال میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی تو درکنار موجودگی پر بھی سوالیہ نشان ہے ۔ پولیس اور انتظامیہ کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ورنہ کل قیامت کے دن تیار رہنا کہ اسی عوام کے ہاتھ تم سب کے گریبان پر ہونگے ۔ (گلزار ملک۔ لاہور)