عدالت عظمیٰ اور محروم عوام!

13 جنوری 2018

پاکستان کے عوام برسہا برس سے ہر موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اذیت ناک مرحلوں سے نکلے نہیں کہ موسم سرما کے آتے ہی قوم کو سوئی گیس کی بندش کے ایسے عذاب میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ لاکھوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عصر حاضر میں غربت کے مارے کروڑوں خاندانوں کیلئے سب سے سستا ایندھن صرف اور صرف سوئی گیس ہے، ملک کی چالیس فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ حالیہ ایک دہائی کے دوران ضروریات زندگی کی ریکارڈ مہنگائی نے ملک کے فاقہ کش، بھوکے ننگے اور قلاش عوام میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس طبقہ کے کروڑوں خاندان قطعی طور پر اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ وہ کھانا پکانے کیلئے سوئی گیس کی بجائے کوئی دوسرا ایندھن استعمال کر سکیں۔ لکڑی کی گرانی یا کوئلوں کی مہنگائی اس قدر ہو چکی ہے کہ ملک کی عظیم اکثریت ان کو خرید کر جلانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ چند ہزار آسودہ حال اور ارباب اختیار بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سوئی گیس کی بندش کے نتائج اور اذیتوں سے اس لئے ناآشنا ہیں کہ ان کے گھروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سوئی گیس کی بندش ہوتی ہی نہیں۔ ایسے عذابوں میں صرف اور صرف وہ کروڑوں مفلوک الحال خاندان ہی مبتلا کئے جاتے ہیں جو موسم سرما میں سوئی گیس کی وقت بے وقت بندش یا لوڈشیڈنگ کا شکار کئے جاتے ہیں۔ یہ مفلوک الحال طبقہ اتنی استطاعت رکھنے سے معذور ہے کہ اپنے بچوں کو ایک وقت کی روٹی فراہم کرنے کیلئے گیس چولہے نہ جلنے پر سلنڈر خرید کر گیس بھروا سکیں۔ اس صورتحال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ارباب حکومت کی ایسی نامنصفانہ روش کروڑوں خاندانوں کے بچوں کو بھوکا مارنے کی سعی ہے۔ ویسے بھی جو غریب اور مفلس لوگ کھانا پکانے کیلئے سوئی گیس کی ناقابل بیان کمی یا بندش پر بجلی سے استعمال ہونے والا کمپریسر استعمال کر کے گیس کا چولہا جلانے پر مجبور ہوتے ہیں حکومتی اداروں، سوئی گیس اور حکومت کی طرف سے اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے مگر اسی حکومت کی عوام کش اور غریب دشمن پالیسیوں سے کچلے ہوئے کروڑوں خاندانوں کو جن مصائب و مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے اس کا اندازہ وہی دکھی عوام لگا سکتے ہیں جنہیں ایسے حالات کا سامنا ہے مگر ارباب اختیار اپنی کوتاہیوں اور عوام دشمن اذیت ناک حربوں پر پردہ ڈالنے کیلئے گھروں کا سوئی گیس کا چولہا جلانے کی خاطر کمپریسر سے گیس بھرنے والوں کے میٹر اتارنے کے اقدامات کرتی ہے۔ اس سے مفلسی کے مارے بھوکے ننگے اور فاقہ کش کروڑوں ایسے لوگوں کے بچے بھی بھوکا رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ 

حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ ملک میں غربت، فاقہ کشی، بھوک ننگ اور مفلسی کی زندگی بسر کرنے والوں کو جسم اور روح کا رشتہ بحال رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی آسانی سے دستیاب ہونے کا اہتمام نہ ہو جو کہ سراسر عوامی نمائندگی کی دعویدار حکومت کی ذمہ داری ہے اور ایسے کروڑوں انسانوں سے عبارت محروم طبقہ کے کروڑوں بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں کو بھوک سے نجات دلانے کا حکمرانوں نے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کا کبھی سوچا بھی نہ ہو اور ان حکمرانوں کی تمام تر توانائیاں اپنے اور اپنے ایسے چند ہزار خاندانوں ہی کو مراعات دینے اور زندگی بھر کی آسائشیں فراہم کرنے میں صرف ہو رہی ہوں۔ اس کے برعکس محروم طبقہ کے عوام کو قومی وسائل سے محروم رکھنے ہی میں حکومت اقدامات اٹھا رہی ہو تو پھر عوام کو ایسے اقدامات اٹھانے پر حکومت کی طرف سے خود ساختہ قواعد و ضوابط کے تحت اذیتوں سے ہمکنار کرنا سفاکی اور ناانصافی ہی قرار دیا جائے گا اگر حکومت کی طرف سے غریبوں کو سوئی گیس کی عدم فراہمی کی اذیتوں سے دوچار کرنے ہی کی خاطر ایسی پابندی بھی عائد کی گئی ہے کہ لوگ اپنے بلکتے بچوں کو کھانا فراہم کرنے کیلئے کمپریسر لگا کر سوئی گیس کا چولہا نہیں جلا سکتے تو ایسے قواعد و ضوابط کو انسانیت دشمن اور انصاف کا منہ چڑانے کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی وہ حقائق ہیں جن سے ارباب حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کا ثبوت ملتا ہے۔ ایسی فضا میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی طرف سے دم توڑتی ہوئی انسانیت کے تحفظ کی خاطر آواز کا بلند ہونا کروڑوں محروم پاکستاانیوں کیلئے مژدہ جانفزا کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار پر انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت شہریوں کا بنیادی حق ہے، صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر سرکاری ہسپتالوں میں دوائی تک میسر نہیں مفت ادویات مل نہیں رہیں جبکہ پنجاب حکومت اپنی تشہیر پر پیسہ خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا اگر تعلیم اور صحت کے شعبوں پر کام نہ ہوا تو اورنج لائن سمیت تمام منصوبے بند کر دیں گے۔ اس وقت صحت اور تعلیم کا جو حال ہے وزیراعلیٰ پنجاب سے بہت سے سوال کئے جا سکتے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت سیف سٹی کے اشتہاروں کی بجائے یہ رقوم ادویات خریدنے میں لگائے۔ اگر صحت اور تعلیم کے شعبوں پر توجہ نہ دی گئی تو تمام منصوبوں پر حکم امتناعی دے دوں گا۔ وجوہ خواہ کچھ بھی ہوں بھوکے ننگے عوام کے ٹیکسوں سے عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے ایوان اقتدار کے مکین اور ان کے ہمنواز طنز و تضحیک کے کتنے بھی تیر چلائیں یہ حقیقت طشت ازبام ہو گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار کے ایسے ریمارکس میں کروڑوں دکھی ہموطنوں کے دلوں کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کی طرف قدم اٹھایا گیا ہے کہ ’’نوٹس‘‘ لینے کا مقصد ایکشن لینا نہیں ہسپتالوں کی حالت زار بہتر کرنا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر پرائیویٹ کلینک چلاتے ہیں۔ ڈاکٹر اپنے کلینک بند کر دیں اور کلینک پر لکھیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں مصروف ہیں، آج کلینک نہیں چلے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو تمام کلینک بھی بند کر دیں گے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی تشہیر کے لئے کئے گئے اخراجات کا بھی ریکارڈ طلب کر لیا۔
حالات و واقعات اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کی جرأت و بہادری سے عبارت فہم و فراست سے بھرپور اقدامات کی بدولت خوابیدہ محروم طبقے میں بیداری کے آثار ہویدا ہونے لگے ہیں اور انہیں امید بندھنے لگی ہے کہ فاضل عدالت کی طرف سے سرکاری محکموں کے ایسے خود ساختہ قواعد و ضوابط کا بھی نوٹس لیا جانے لگے گا جن کا مقصد عوام کو اذیتوں کے گھیراؤ میں رکھنا اور بے چارگی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرنا ہے جیسا کہ سوئی گیس کی چولہے نہ چلانے والی بندش کی روش اختیار کرنے کروڑوں گھرانے کو کھانا پکانے کے ایندھن سے محروم رکھنا ہے اور مجبوری کی حالت میں کمپریسر لگا کر چولہے جلانے والوں کے گیس کنکشن کاٹنے کی سزا دینا ہے۔