سرِ عام پھانسی دی جائے!

13 جنوری 2018

قصور میں ہونے والے سانحے نے پوری قوم کو نہ صرف سوگوار کر دیا ہے بلکہ شاید بیدار بھی کر دیا ہے اگرچہ اس نوعیت کے واقعات ہمارے ملک میں معمول کی بات ہے لیکن کبھی اس قدر سنجیدگی سے اس بات کا نوٹس نہیں لیا گیا جیسا کہ کچھ ہفتے قبل ڈی آئی خان میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ بھی بہت شرمناک سلوک کیا گیا۔ چند روز میڈیا نے بہت شور مچایا لیکن جب پتا چلا کہ لڑکی کی بے حرمتی کرنے والے بااثر لوگ ہیں تو سب نے یوں چپ سادھ لی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اسی طرح سندھ میں شاہ رخ کیس کا معاملہ ہے۔ قاتل چونکہ ایک بارسوخ سیاست دان کا بیٹا تھا اس لئے مقتول کے والدین کو جبراً راضی نامہ پر دستخط کرنا پڑے اور قاتل پھر چھوٹ گیا۔ ہمارا معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور اسے رشوت اور سفارش کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ جب تک رشوت اور سفارش کا خاتمہ نہیں ہوتا انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ جہاں طاقتور کے لئے کوئی قانون، کوئی سزا نہ ہو وہاں عدل و انصاف کی توقع کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہے۔کیمرہ فوٹیج ٹی وی پر بار بار دکھائی گئی جس سے ایک عام آدمی بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ بچی جس شخص کے ساتھ جا رہی ہے اس نے بچی کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی بلکہ بچی اپنی مرضی سے اور خوشی خوشی اس آدمی کے ساتھ چل رہی ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ یہ شخص بچی کے والدین کا کوئی قریبی عزیز یا قریبی دوست ہے جس کا بچی کے گھر آنا جانا ہے اور بچی اس سے اچھی طرح مانوس ہے۔ اگر کوئی اجنبی ہوتا تو فوٹیج میں بچی کے ساتھ کھینچا تانی ضرور نظر آتی۔ میں کوئی تفتیشی افسر نہیں اور نہ ہی کوئی سراغ رساں ایجنٹ ہوں۔ صرف ’’کامن سینس‘‘ کی بات ہے جو ہر آدمی سمجھ سکتا ہے پولیس کو بچی کے والدین کے قریبی لوگوں میں سے اس قاتل کو ڈھونڈنا ہو گا جسے یہ خبر بھی تھی کہ بچی کے والدین عمرہ کے لئے گئے ہیں اور تقریباً ایک ماہ بعد واپس آئیں گے۔ اس دوران اگر وہ بچی کو قتل بھی کر دیتا ہے تو کسی کو کیا پتا چلے گا۔لیکن قدرت کو اس کا پول کھولنا منظور تھا لہٰذا اب پوری قوم کی نظریں اس قاتل پر ہیں جسے عوام سرِ عام پھانسی دینے کا جائز مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس نوعیت کے مجرموں کو اگر اوپر تلے سرِ عام پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے بچوں اور بچیوں کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا۔سیاسی بازی گر اس موقع پر بھی اپنی سیاست چمکانے پر لگے ہوئے ہیں۔ جیسے علامہ طاہرالقادری ، ہمیشہ سے لاشوں کی سیاست کر رہے ہیں وہ بھی اس معصوم بچی کی نماز جنازہ پڑھانے کے بہانے اپنی سیاست کو چار چاند لگانے وہاں پہنچ گئے۔ یہ سیاست بھی عجیب کھیل ہے جسے کچھ مفاد پرستوں نے گندہ بنا دیا ہے ورنہ یہ بہت باعزت ہوا کرتا تھا اور حیرت کی بات ہے کہ آصف زرداری اور عمران خان سمیت ساری اپوزیشن کو اپنی سیاسی ساکھ بحال رکھنے کے لئے علامہ طاہرالقادری کی لاشوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے گویا پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے پاس اپنا کوئی سیاسی منشور، سیاسی لائحہ عمل نہیں جس کی بنیاد پر وہ آئندہ الیکشن لڑ سکیں۔ چلئے عمران نیازی کی سیاست تو صرف اور صرف نواز شریف کے گرد گھومتی ہے لیکن یہ پی پی پی کو کیا ہوا؟ چکوال کے ضمنی الیکشن سے اپوزیشن کو اندازہ ہو جانا چاہئے کہ نواز شریف کی مقبولیت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔یہ تو جملہ معترضہ درمیان میں آ گیا۔ میں بات کر رہا تھا قصور کی معصوم بچی کا۔ ایسے سانحات میںصرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا دینا مناسب نہیں۔ کیا والدین کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ اس بچی کے والدین بچی کو اپنے ہمراہ عمرہ پر کیوں نہیں لے کر گئے؟ اور اگر اسے چھوڑ کر ہی گئے تھے تو کسی ایسی جگہ پر کیوں نہ چھوڑا جہاں اس کی حفاظت یقینی ہوتی؟

ہمارے نظام عدل میں بھی ایسی بنیادی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنا ازبس لازم ہے۔ اگر جناب چیف جسٹس عدالتی نظام کو ’’اپ ڈیٹ‘‘ کرنے کی کوشش کریں تو یہ ان کا پاکستانی قوم پر بہت بڑ احسان ہو گا عدالتوں میں صرف کاغذی ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات پر فیصلے دینے کی روش ترک کرنا ہو گی۔ کیمرہ فوٹیج، ویڈیو کلپ، میڈیا رپورٹس کو بھی مقدمہ کی تفتیش کا حصہ بنانا لازم ہے۔ پھر بے گناہ اور گنہگار کا فرق جانچنے والی جو جدید مشینری یورپ کی عدالتیں استعمال کرتی ہیں۔ ان سے بھی استفادہ کرنا چاہئے۔ مزید برآں ڈی این اے رپورٹ بھی لازمی قرار دینا چاہئے کیونکہ ڈی این اے رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ یہ ملزم جس پر قتل کا الزام ہے، قتل کر سکتا ہے یا نہیں۔ جب تک تفتیش اور عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جائے گا قاتل آزاد پھرتے رہیں گے اور مظلوم دہائی دیتے رہیں گے۔چیف جسٹس صاحب نظام عدل کو سیاسی اثر و رسوخ کے مضر اثرات سے نجات دلائیں طاقتور اور کمزور کا لحاظ کئے بغیر آزادانہ فیصلے صادر فرمائیں۔