ہمارے بچے

13 جنوری 2018

قصور میں ایک اور شرمناک واقعہ پیش آ گیا۔ بچوں کی حفاظت والدین کی اولین عبادت اور ذمہ داری ہے۔ میں آج پھر وہی کالم دہرانے کی جسارت کروں گی جو اس سے پہلے ہولناک واقعات کی خبروں پر رقم کیا تھا۔ماں سے زیادہ قابل بھروسہ رشتہ دنیا میں نہیں۔ ماں اپنے بچے کی عصمت کی حفاظت چاہتی ہے تو سگے رشتوں پر بھی کڑی نگاہ رکھے۔ بہن بھائی میں فاصلہ رکھا جائے، بھائی بھائی میں فاصلہ رکھا جائے، باپ بیٹے اور بیٹی میں فاصلہ رکھا جائے۔ انسانیت سے حیوانیت تک کے سفر میں صدیاں نہیں ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں واقعہ قصور پیش آیا تو میڈیا پر تھرتھلی مچ گئی جبکہ کوئی شہر،گاﺅں، محلہ گلی کوچہ ایسا نہیں جہاں بچے بچیاں اپنے قریبی رشتوں کی درندگی کا نشانہ نہ بنتے ہوں۔ حیوانیت کا یہ کھیل آج سے نہیں جب سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے، یہ شیطانی کھیل جاری ہے۔ شیطان انسان کے ساتھ سائے کی طرح چمٹا ہوا ہے۔ بچپن کے غیر اخلاقی حادثات انسان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مشرق تا مغرب لا تعداد کہانیاں موجود ہیں جو اپنے سگے باپ بھائی، بہن کے ہاتھوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔ بچے اپنی ماں سے شیئر نہیں کرتے کہ وہ یقین نہیں کرے گی بلکہ الٹا اسے ہی غلط ثابت کرے گی۔ ماﺅں سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں سے دوستی کا رشتہ رکھیں، انہیں اعتماد میں لیں، لڑکا ہے یا لڑکی ،ان پر کڑی نظر رکھیں۔ صرف لڑکی کی عصمت ہی حساس معاملہ نہیں لڑکے کی عزت کا معاملہ بھی انتہائی حساس ہے۔ پروردگار کی ذات کے بعد دنیا میں اگر کوئی رشتہ بچوں کو درندگی کا نشانہ بننے سے بچا سکتا ہے تو وہ ماں کا مقدس رشتہ ہے۔ جس ماں نے بچے کو اپنی کوکھ سے جنم دیا ہے ،وہی اس کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ پیروں تلے سے زمین سرک جاتی ہے۔ دنیا سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ اس موضوع پر تو قلم اٹھاتے بھی حیا آتی ہے لیکن ان حقائق پر قلم اٹھانا پڑے گا اور غافل ماﺅں کو جھنجوڑنا پڑے گا کہ تمہارا شوہر، بیٹا، بھائی، باپ یاکوئی محترم رشتہ خواہ کتنا نیک نمازی کیوں نہ ہو ، بچوں کے معاملہ میں کسی پر اعتبار نہ کرو۔ بچوں کوکسی کے پاس تنہاءچھوڑنے کا رسک مت لو جبکہ مائیں ملازموں کے پاس بچے چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔ یہاں سگے رشتوں سے اعتبار اٹھتا جا رہاہے اور غافل مائیں مامے چاچے، پھپڑ، ماسڑھ، ٹیچر، مولوی، ڈرائیور، مالی، ملازم، ملازمہ، پر اعتبار کر لیتی ہیں۔ دوستوں کے گھروں میں جانے کی اجازت دیتے وقت بھول جاتی ہیں کہ دوست یا اس کے گھر کے افراد میں کوئی اس کے بچے کو درندگی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر بچوں کو سنبھال نہیں سکتیں ،انہیں وقت اور توجہ نہیں دے سکتیں تو پیدا کرنے کی زحمت کیوں اٹھاتی ہیں۔ غریب کو جاہل کہہ دیا جاتا ہے لیکن پڑھے لکھے لوگوں کی اولادوں کے ساتھ ان کی اپنی چار دیواری کے اندر جو کچھ ہو رہاہے، اس کو کیا نام دیا جائے۔ اولاد کی دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔بچے کی نفسیات چار سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور ان چار سالوں میں بچہ جو کچھ اپنے ماحول میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اس کے دل و دماغ میں نقش ہو جاتا ہے۔ لیکن درندگی کا نشانہ کسی عمر میں بھی بنایا جا سکتا ہے ،کم سن لڑکوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی خون کے آنسو رلاتے ہیں۔ ماں اپنے لڑکے کی بھی لڑکی کی طرح حفاظت کرے۔ صرف مردوں سے ہی نہ بچائے بلکہ کسی ماسی، آنٹی، ہمسائی یا ملازمہ پر بھی بھروسہ نہ کرے۔ ماں کی زندگی کا ہر لمحہ امتحان اور آزمائش ہے۔ ماں کے پیروں تلے جنت قربانیوں کا ثمر ہے۔ اور قربانی صرف بچہ پیدا کرنے کا نام نہیں، اس کی فہرست بہت طویل ہے۔ والدین کو بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ مائیں اپنی جان چھڑانے کے لئے بچوں کو ٹی وی کھول دیتی ہیں اور خود فون پر گپ شپ میں مصروف ہو جاتی ہیں یا پھر خود ڈرامے دیکھنے بیٹھ جاتی ہیں۔باپ بھی موبائل فون یا لیپ ٹاپ میں مشغول رہتے ہیں۔ سمارٹ فون اور انٹر نیٹ کا سرطان پاکستانی غریب اور دیہی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ بچے تو درکنار اکثر ماں یا باپ بھی کمرے بند کیئے ”مشغول “ ہیں۔ اولاد کی عصمت کی حفاظت ماں کی ذمہ داری ہے۔ شیطان روز اول سے انسانوں میں موجود ہے مگر جب سے یہ جدید ٹیکنالوجی ایجاد ہو ئی ہے، شیطان نے رشتوں میں تمیز مٹا دی ہے۔ مائیں نئی نسل کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہیں۔ جہاں سختی کرنا پڑے لازمی کی جائے ورنہ دنیا بھی گئی عاقبت بھی گئی۔ کسی رشتے پر اندھا اعتمادنہ کیا جائے، معصوم چہروں کے پیچھے بھی کئی بھیانک کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ باپ بھائی بہن کے رشتوں کے بیچ خوف خدا اور حیاء کا پردہ حائل ہوتا ہے، نفس غالب آ جائے تو پردہ 

چاک ہونے میں لمحہ نہیں لگتا۔اوپر خدا اور نیچے ماں ہی اس پردہ کو چاک ہونے سے بچا سکتی ہے۔ ماﺅں کو اپنی آنکھیں اور کان ہمہ وقت کھلے رکھنے چاہئیں۔ مشرقی معاشرے میں شرمناک واقعات کو تسلیم کرنا موت کی طرح ہے، جس طرح انسان بندوں کو اپنے سامنے مرتا دیکھتا ہے لیکن پھر بھی یقین نہیں کرتا کہ اسے بھی ایک دن مرنا ہے اسی طرح لوگوں کے شرمناک واقعات ”استغفراللہ“ کہہ کر سنتا رہتا ہے مگر یقین نہیں کرتاکہ ایسا کوئی شرمناک واقعہ خود اسکے گھر میں بھی ہو سکتا ہے یا ہو چکا ہے۔ موت تو سب کے سامنے دم نکال لیتی ہے لیکن عصمت بند کمروں میں دم توڑ جاتی ہے اور یہ وہ موت ہے جس میں انسان روز مرتا ہے۔
٭٭٭٭٭