سپریم کورٹ نے نقیب قتل ازخود نوٹس کیس میں راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دیدی، عدالت نے راؤ انوارکو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیدیا

13 فروری 2018 (22:51)

نقیب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت عظمی کو آگاہ کیا کہ تحقیقاتی اداروں نے اپنی رپورٹ دے دی ہے۔ آئی بی نے ملزم کی لوکیشن ٹریس کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم واٹس ایپ سے لوکیشن ٹریس نہیں ہوسکتی جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ اس کامطلب ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ ہرسماعت پرمہلت دیتے ہیں۔ لگتاہے راوانوار کوہمیں ہی پکڑنا ہوگا۔ بتادیں راو انوار کو کیسے پکڑنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھیں یہ خط راؤانوار نے ہمیں لکھا ہے۔ راؤ انوار کہتا ہے وہ بے گناہ ہے۔ آزاد جے آئی ٹی بنادیں جس پر آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ راو انوار کو صفائی کا موقع ملنا چاہیے۔ بے شک عدالت جے آئی ٹی بنادے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکم دے دیتے ہیں راوانوار سپریم کورٹ آجائے، راؤ انوار کوگرفتار نہ کیا جائے، انہیں سیکیوٹی فراہم کرنا بھی ضروری ہے، راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دے دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ جمعہ کے روز راوانوار عدالت میں پیش ہوں۔ آزاد جے آئی ٹی میں پولیس افسر بھی شامل کریں گے۔ دوران سماعت نقیب اللہ کے والد کا خط پڑھا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ آئی جی سندھ راؤانوار کی عدم گرفتاری کا جواب دیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ ہمارا بھی بچہ تھا۔ قومی اداروں پربے یقینی یا مایوسی کا اظہار نہیں ہونا چاہے۔ عدالت عظمی نے ہدایت کی کہ راؤ انوار کو حفاظتی فراہم کی جائے،آزاد جے آئی ٹی بھی تشکیل دیں گے۔ یہ تمام احکامات راؤ انوار کی عدالت میں آمد سے مشروط ہوں گے۔ راؤ انوار کا خط میڈیا کو فراہم نہیں کیا جائے گا۔