نقیب اللہ قتل کیس:سپریم کورٹ نے پولیس کورا ﺅانوار کی گرفتار ی سے رو ک دیا ،جمعہ کو پیش ہونے کا حکم

13 فروری 2018 (14:26)
نقیب اللہ قتل کیس:سپریم کورٹ نے پولیس کورا ﺅانوار کی گرفتار ی سے رو ک دیا ،جمعہ کو پیش ہونے کا حکم

 سپریم کورٹ نے نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کیس میں سابق سینئر سپرنٹنڈ پولیس (ایس ایس پی)ملیر را ﺅانوار کی حفاظتی ضمانت د یتے ہوئے پولیس کو گرفتار ی سے رو ک دیا اورانہیں جمعہ کو طلب کرلیا جبکہ عدالت نے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں انسپکٹر جنرل(آئی جی)سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور سابق ایس ایس پی راو انوار کی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے اپنا تفصیلی جواب بھی جمع کروایا۔عدالتِ عظمی نے سندھ پولیس اور وفاقی دارالحکومت پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ را ﺅانوار کو عدالت میں پیشی کے دوران گرفتار نہ کیا جائے۔عدالت عظمیٰ کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے تک راو انوار کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔را وانوار کی جانب سے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کو ایک خط لکھا گیا تھا جسے چیف جسٹس نے عدالت میں پڑھ کر سنایا اور پولیس افسران سے استفسار کیا کہ کیا اس پر خط پر دستخط سابق ایس ایس پی ملیر کے ہیں۔اے ڈی خواجہ کے ساتھ موجود دیگر افسران نے خط دیکھ کر عدالت کو بتایا کہ دستخط سابق ایس ایس پی ملیر کے ہی لگ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انصاف کا حصول مظلوم کا حق ہوتا ہے اسی طرح ظالم کو بھی یہ حق حاصل ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ راو انوار نے خط میں کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور وہ اس وقت موقع پر موجود نہیں تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سابق ایس ایس پی ملیر راو انوار نے لکھا ہے کہ انصاف مظلوم کا حق ہے اس کیس میں آزاد جے آئی ٹی بنا دیں۔عدالتِ عظمیٰ نے سندھ پولیس اور وفاقی دارالحکومت پولیس کو ہدایت جاری کی کہ را وانوار کو عدالت میں پیشی کے دوران گرفتار نہ کیا جائے اور حکم دیا کہ نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی۔عدالتی حکم کے مطابق جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا بریگیڈیر لیول کا آفیسر شامل ہو گا جبکہ ایک قابل افسر کا تعین عدالت خود کرے گی۔سپریم کورٹ نے را وانوار کو 16 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔